🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. بَابُ: الْحَجِّ عَنِ الْحَيِّ إِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ
باب: معذور شخص کی طرف سے حج بدل کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2906
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَلَا الْعُمْرَةَ وَلَا الظَّعْنَ، قَالَ:" حُجَّ عَنْ أَبِيكَ وَاعْتَمِرْ".
ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں جو نہ حج کرنے کی طاقت رکھتے ہیں نہ عمرہ کرنے کی، اور نہ سواری پر سوار ہونے کی (فرمائیے! ان کے متعلق کیا حکم ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے والد کی طرف سے حج اور عمرہ کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2906]
حضرت ابو رزین عقیلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، نہ حج اور عمرہ ادا کر سکتے ہیں اور نہ سواری پر سوار ہو سکتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے والد کی طرف سے حج و عمرہ کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2906]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الحج 26 (1810)، سنن النسائی/الحج 2 (2622)، 10 (2638)، (تحفة الأشراف: 11173)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الحج 87 (930)، مسند احمد (4/10، 11، 12) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2907
حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيِّ ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمٍ، جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ قَدْ أَفْنَدَ، وَأَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ عَلَى عِبَادِهِ فِي الْحَجِّ، وَلَا يَسْتَطِيعُ أَدَاءَهَا فَهَلْ يُجْزِئُ عَنْهُ أَنْ أُؤَدِّيَهَا عَنْهُ؟، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَعَمْ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، وہ بہت ناتواں اور ضعیف ہو گئے ہیں، اور اللہ کا بندوں پر عائد کردہ فرض حج ان پر لازم ہو گیا ہے، وہ اس کو ادا کرنے کی قوت نہیں رکھتے، اگر میں ان کی طرف سے حج ادا کروں تو کیا یہ ان کے لیے کافی ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2907]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک خاتون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے والد صاحب بوڑھے ہیں۔ وہ انتہائی بوڑھے ہو چکے ہیں اور حج کا فرض جو اللہ کی طرف سے بندوں پر عائد ہوتا ہے، وہ ان پر لازم ہو گیا ہے اور وہ (خود) اسے ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ اگر میں ان کی طرف سے فرض کو ادا کر دوں تو کیا ان کی طرف سے کافی ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2907]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 6522)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الحج 1 (1513)، جزاء الصید 23 (1854)، 24 (1855)، المغازي 77 (4399)، الاستئذان 2 (6228)، صحیح مسلم/الحج 71 (1334)، سنن ابی داود/الحج 26 (1809)، سنن الترمذی/الحج 85 (928)، سنن النسائی/الحج 8 (2634)، 9 (2636)، موطا امام مالک/الحج 30 (97)، مسند احمد (1/219، 251، 329، 346، 359)، سنن الدارمی/الحج 23 (1873) (حسن الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2908
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كُرَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُصَيْنُ بْنُ عَوْفٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي أَدْرَكَهُ الْحَجُّ، وَلَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَحُجَّ إِلَّا مُعْتَرِضًا، فَصَمَتَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ:" حُجَّ عَنْ أَبِيكَ".
حصین بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد پر حج فرض ہو گیا ہے لیکن وہ حج کرنے کی سکت نہیں رکھتے، مگر اس طرح کہ ا نہیں کجاوے کے ساتھ رسی سے باندھ دیا جائے؟ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے پھر فرمایا: تم اپنے والد کی طرف سے حج کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2908]
حضرت حصین بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد پر حج فرض ہو گیا ہے۔ وہ حج نہیں کر سکتے سوائے اس کے کہ انہیں سواری پر باندھ دیا جائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے، پھر فرمایا: اپنے والد کی طرف سے حج کرو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2908]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3417، ومصباح الزجاجة: 1026) (ضعیف الإسناد)» ‏‏‏‏ (سند میں محمد بن کریب منکر الحدیث ہیں، لیکن صحیح و ثابت احادیث ہی ہمارے لئے کافی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن كريب:ضعيف (تقريب: 6256)
والسند ضعفه البوصيري
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 483

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2909
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَخِيهِ الْفَضْلِ أَنَّهُ كَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ النَّحْرِ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ، أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَرْكَبَ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟، قَالَ:" نَعَمْ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكِ دَيْنٌ قَضَيْتِهِ".
عبداللہ بن عباس اپنے بھائی فضل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ وہ یوم النحر کی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کے بندوں پر عائد کیے ہوئے فریضہ حج نے میرے والد کو بڑھاپے میں پایا ہے، وہ سوار ہونے کی بھی سکت نہیں رکھتے، کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اس لیے کہ اگر تمہارے باپ پر کوئی قرض ہوتا تو تم اسے چکاتیں نا؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2909]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے بھائی حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ قربانی کے دن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (اونٹنی پر) سوار تھے۔ قبیلہ خثعم کی ایک خاتون نے حاضر ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ نے بندوں پر حج کا جو فریضہ عائد کیا ہے، وہ میرے والد پر اس حال میں لازم ہوا ہے کہ وہ بہت بوڑھے ہو گئے ہیں، سوار نہیں ہو سکتے۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ اگر تمہارے والد پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتیں (اسی طرح اللہ کا قرض بھی ادا کرو)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2909]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 23 (1853)، صحیح مسلم/الحج 71 (1335)، سنن الترمذی/الحج 85 (928)، سنن النسائی/آداب القضاة 9 (5391)، (تحفة الأشراف: 11048)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/212، 313، 359)، سنن الدارمی/المناسک 23 (1875) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جب والد نے قرض کی ادائیگی کے لیے مال نہ چھوڑا ہو، تو باپ کا قرض ادا کرنا بیٹے پر لازم نہیں ہے، لیکن اکثر نیک اور صالح اولاد اپنی کمائی سے ماں باپ کا قرض ادا کر دیتے ہیں، ایسا ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے بھی پوچھا کہ تم اپنے والد کا قرض ادا کرتی یا نہیں؟ جب اس نے کہا کہ میں ادا کرتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج بھی اس کی طرف سے ادا کر دو، وہ اللہ کا قرض ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں