سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب : الحج عن الحي إذا لم يستطع
باب: معذور شخص کی طرف سے حج بدل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2909
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أَخِيهِ الْفَضْلِ أَنَّهُ كَانَ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ النَّحْرِ، فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ خَثْعَمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ، أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَرْكَبَ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟، قَالَ:" نَعَمْ، فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ عَلَى أَبِيكِ دَيْنٌ قَضَيْتِهِ".
عبداللہ بن عباس اپنے بھائی فضل رضی اللہ عنہم سے روایت کرتے ہیں کہ وہ یوم النحر کی صبح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار تھے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کے بندوں پر عائد کیے ہوئے فریضہ حج نے میرے والد کو بڑھاپے میں پایا ہے، وہ سوار ہونے کی بھی سکت نہیں رکھتے، کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اس لیے کہ اگر تمہارے باپ پر کوئی قرض ہوتا تو تم اسے چکاتیں نا“؟ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2909]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے بھائی حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ قربانی کے دن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (اونٹنی پر) سوار تھے۔ قبیلہ خثعم کی ایک خاتون نے حاضر ہو کر عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اللہ نے بندوں پر حج کا جو فریضہ عائد کیا ہے، وہ میرے والد پر اس حال میں لازم ہوا ہے کہ وہ بہت بوڑھے ہو گئے ہیں، سوار نہیں ہو سکتے۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔ اگر تمہارے والد پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتیں (اسی طرح اللہ کا قرض بھی ادا کرو)۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2909]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/جزاء الصید 23 (1853)، صحیح مسلم/الحج 71 (1335)، سنن الترمذی/الحج 85 (928)، سنن النسائی/آداب القضاة 9 (5391)، (تحفة الأشراف: 11048)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/212، 313، 359)، سنن الدارمی/المناسک 23 (1875) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جب والد نے قرض کی ادائیگی کے لیے مال نہ چھوڑا ہو، تو باپ کا قرض ادا کرنا بیٹے پر لازم نہیں ہے، لیکن اکثر نیک اور صالح اولاد اپنی کمائی سے ماں باپ کا قرض ادا کر دیتے ہیں، ایسا ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے بھی پوچھا کہ تم اپنے والد کا قرض ادا کرتی یا نہیں؟ جب اس نے کہا کہ میں ادا کرتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج بھی اس کی طرف سے ادا کر دو، وہ اللہ کا قرض ہے“۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
3252
| حجي عنه |
سنن ابن ماجه |
2909
| أدركت أبي شيخا كبيرا لا يستطيع أن يركب أفأحج عنه |
سنن النسائى الصغرى |
2644
| أرأيت لو كان على أمك دين أكنت قاضيه قال نعم حج عن أمك |
سنن النسائى الصغرى |
5391
| حجي عنه لو كان عليه دين قضيتيه |
سنن النسائى الصغرى |
5397
| حج عن أمك |
سنن النسائى الصغرى |
5398
| حج عن أبيك |
Sunan Ibn Majah Hadith 2909 in Urdu
عبد الله بن العباس القرشي ← الفضل بن العباس الهاشمي