🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

45. بَابُ مَا يُنْهَى عَنِ النَّوْحِ وَالْبُكَاءِ وَالزَّجْرِ عَنْ ذَلِكَ:
باب: کس طرح کے نوحہ و بکا سے منع کرنا اور اس پر جھڑکنا چاہیے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1305
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , تَقُولُ: لَمَّا جَاءَ قَتْلُ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ، وَجَعْفَرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ جَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ، وَأَنَا أَطَّلِعُ مِنْ شَقِّ الْبَابِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ , فَأَمَرَهُ بِأَنْ يَنْهَاهُنَّ , فَذَهَبَ الرَّجُلُ ثُمَّ أَتَى , فَقَالَ: قَدْ نَهَيْتُهُنَّ وَذَكَرَ أَنَّهُنَّ لَمْ يُطِعْنَهُ , فَأَمَرَهُ الثَّانِيَةَ أَنْ يَنْهَاهُنَّ , فَذَهَبَ ثُمَّ أَتَى , فَقَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ غَلَبْنَنِي أَوْ غَلَبْنَنَا الشَّكُّ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ، فَزَعَمَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ , فَقُلْتُ: أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَكَ فَوَاللَّهِ مَا أَنْتَ بِفَاعِلٍ وَمَا تَرَكْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَنَاءِ".
ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبوالوہاب ثقفی نے ‘ ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، کہا کہ مجھے عمرہ بنت عبدالرحمٰن انصاری نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، آپ نے فرمایا کہ جب زید بن حارثہ ‘ جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بیٹھے کہ غم کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر نمایاں تھے میں دروازے کے ایک سوراخ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی تھی۔ اتنے میں ایک صاحب آئے اور کہا کہ یا رسول اللہ! جعفر کے گھر کی عورتیں نوحہ اور ماتم کر رہی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روکنے کے لیے کہا۔ وہ صاحب گئے لیکن پھر واپس آ گئے اور کہا کہ وہ نہیں مانتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ روکنے کے لیے بھیجا۔ وہ گئے اور پھر واپس چلے آئے۔ کہا کہ بخدا وہ تو مجھ پر غالب آ گئی ہیں یا یہ کہا کہ ہم پر غالب آ گئی ہیں۔ شک محمد بن حوشب کو تھا۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ) میرا یقین یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ان کے منہ میں مٹی جھونک دے۔ اس پر میری زبان سے نکلا کہ اللہ تیری ناک خاک آلودہ کرے تو نہ تو وہ کام کر سکا جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تھا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینا چھوڑتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1305]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب حضرت زید بن حارثہ، حضرت جعفر طیار اور حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہم کے شہید ہونے کی خبر پہنچی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے اور آپ کی ذاتِ گرامی سے حزن و رنج ظاہر ہو رہا تھا۔ میں اس منظر کو دروازے کے سوراخ سے دیکھ رہی تھی۔ ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کرنے لگا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جعفر طیار کی عورتیں رو رہی ہیں۔ آپ نے اسے حکم دیا کہ انہیں رونے سے منع کرے، وہ شخص گیا اور واپس آکر کہنے لگا: میں نے انہیں منع کیا ہے، لیکن وہ باز نہیں آتیں۔ آپ نے اسے دوبارہ فرمایا کہ وہ انہیں منع کرے۔ وہ دوبارہ گیا اور واپس آکر کہنے لگا: اللہ کی قسم! وہ مجھ پر غالب آگئیں... یا ہم پر غالب آگئیں۔ محمد بن عبد اللہ بن حوشب نے الفاظ کے متعلق شک کا اظہار کیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ ان کے منہ میں خاک جھونک دو۔ میں نے کہا: اللہ تیری ناک خاک آلود کرے! جس کام کا تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے وہ بھی نہیں کرتا اور بار بار آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دینے سے بھی باز نہیں آتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1305]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1306
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ:" أَخَذَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْبَيْعَةِ أَنْ لَا نَنُوحَ فَمَا وَفَتْ مِنَّا امْرَأَةٌ غَيْرَ خَمْسِ نِسْوَةٍ أُمِّ سُلَيْمٍ وَأُمِّ الْعَلَاءِ وَابْنَةِ أَبِي سَبْرَةَ امْرَأَةِ مُعَاذٍ وَامْرَأَتَيْنِ أَوْ ابْنَةِ أَبِي سَبْرَةَ وَامْرَأَةِ مُعَاذٍ وَامْرَأَةٍ أُخْرَى".
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے محمد نے اور ان سے ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لیتے وقت ہم سے یہ عہد بھی لیا تھا کہ ہم (میت پر) نوحہ نہیں کریں گی۔ لیکن اس اقرار کو پانچ عورتوں کے سوا اور کسی نے پورا نہیں کیا۔ یہ عورتیں ام سلیم ‘ ام علاء ‘ ابوسبرہ کی صاحبزادی جو معاذ کے گھر میں تھیں اور اس کے علاوہ دو عورتیں یا (یہ کہا کہ) ابوسبرہ کی صاحبزادی، معاذ کی بیوی اور ایک دوسری خاتون (رضی اللہ عنہن)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1306]
حضرت اُم عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لیتے وقت یہ عہد لیا تھا کہ ہم نوحہ نہیں کریں گی۔ مگر اس عہد کو صرف پانچ عورتوں نے پورا کیا، یعنی اُم سلیم رضی اللہ عنہا، ام علاء، ابوسبرہ رضی اللہ عنہ کی بیٹی جو معاذ کی بیوی تھیں اور مزید دو عورتیں یا یوں کہا کہ ابوسبرہ کی دختر، معاذ کی زوجہ اور ایک کوئی دوسری عورت۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1306]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں