🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

44. بَابُ الْبُكَاءِ عِنْدَ الْمَرِيضِ:
باب: مریض کے پاس رونا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1304
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، عَنْ ابْنِ وَهْبٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ:" اشْتَكَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوَى لَهُ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ فِي غَاشِيَةِ أَهْلِهِ , فَقَالَ: قَدْ قَضَى؟ , قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَبَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ بُكَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَوْا , فَقَالَ: أَلَا تَسْمَعُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ أَوْ يَرْحَمُ، وَإِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَضْرِبُ فِيهِ بِالْعَصَا وَيَرْمِي بِالْحِجَارَةِ وَيَحْثِي بِالتُّرَابِ".
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن وہب نے کہا کہ مجھے خبر دی عمرو بن حارث نے ‘ انہیں سعید بن حارث انصاری نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کسی مرض میں مبتلا ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لیے عبدالرحمٰن بن عوف ‘ سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کے ساتھ ان کے یہاں تشریف لے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر گئے تو تیمار داروں کے ہجوم میں انہیں پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا وفات ہو گئی؟ لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (ان کے مرض کی شدت کو دیکھ کر) رو پڑے۔ لوگوں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے ہوئے دیکھا تو وہ سب بھی رونے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سنو! اللہ تعالیٰ آنکھوں سے آنسو نکلنے پر بھی عذاب نہیں کرے گا اور نہ دل کے غم پر۔ ہاں اس کا عذاب اس کی وجہ سے ہوتا ہے ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبان کی طرف اشارہ کیا (اور اگر اس زبان سے اچھی بات نکلے تو) یہ اس کی رحمت کا بھی باعث بنتی ہے اور میت کو اس کے گھر والوں کے نوحہ و ماتم کی وجہ سے بھی عذاب ہوتا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ میت پر ماتم کرنے پر ڈنڈے سے مارتے ‘ پتھر پھینکتے اور رونے والوں کے منہ میں مٹی جھونک دیتے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1304]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کی معیت میں ان کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو انہیں ان کے اہل خانہ کے درمیان پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا انتقال ہو گیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! نہیں۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رو پڑے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روتا دیکھ کر دوسرے لوگ بھی رونے لگے۔ پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم سنتے نہیں ہو؟ اللہ تعالیٰ آنکھ کے رونے اور دل کے غمزدہ ہونے سے عذاب نہیں دیتا بلکہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا) اس کی وجہ سے عذاب دیتا ہے یا رحم کرتا ہے، اور بے شک میت کو اس کے گھر والوں کے چلا کر گریہ وزاری کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نوحہ کرنے والوں کو لاٹھی اور پتھروں سے مارا کرتے تھے اور ان کے منہ میں خاک ڈالتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1304]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں