🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

75. بَابُ: رَمْيِ الْجِمَارِ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ
باب: ایام تشریق میں رمی جمار کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3053
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ضُحًى، وَأَمَّا بَعْدَ ذَلِكَ فَبَعْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ آپ نے جمرہ عقبہ کی رمی چاشت کے وقت کی، اور اس کے بعد جو رمی کی (یعنی ۱۱، ۱۲ اور ۱۳ ذی الحجہ) کو تو وہ زوال (سورج ڈھلنے) کے بعد کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3053]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دس تاریخ کو) بڑے جمرے کو چاشت کے وقت (دھوپ چڑھے) رمی کی۔ اس کے بعد کے دنوں میں سورج ڈھلنے کے بعد رمی کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3053]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الحج 53 (1299)، سنن ابی داود/الحج 78 (1971)، سنن الترمذی/الحج 59 (894)، سنن النسائی/الحج 221 (3065)، (تحفة الأشراف: 2795)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/312، 319، 400)، سنن الدارمی/المناسک 58 (1937) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3054
حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ أَبُو شَيْبَةَ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مِقْسَمٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْمِي الْجِمَارَ، إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ قَدْرَ، مَا إِذَا فَرَغَ مِنْ رَمْيِهِ صَلَّى الظُّهْرَ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (دسویں ذی الحجہ کے بعد والے دنوں میں) رمی جمار سورج ڈھلنے کے بعد اس حساب سے کرتے تھے کہ جب آپ اپنی رمی سے فارغ ہوتے، تو ظہر پڑھتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3054]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے سے اتنی دیر بعد جمرات پر کنکریاں مارتے تھے کہ جب رمی سے فارغ ہوتے تو ظہر کی نماز پڑھ لیتے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3054]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الحج 62 (898)، (تحفة الأشراف: 6466)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/248، 290، 328) (ضعیف الإسناد جدّاً)» ‏‏‏‏ (سند میں جبارہ ضعیف اور ابراہیم بن عثمان متروک الحدیث راوی ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
جبارةضعيف جدًا
وأبو شيبة إبراهيم بن عثمان: متروك الحديث
وللحديث شواهد دون قوله ’’ قدر ما إذا فرغ من رميه صلي الظهر ‘‘ راجع سنن الترمذي (898)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 486

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں