🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

57. بَابُ فَضْلِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ:
باب: جنازہ کے ساتھ جانے کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1323
وَقَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِذَا صَلَّيْتَ فَقَدْ قَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ , وَقَالَ: حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ مَا عَلِمْنَا عَلَى الْجَنَازَةِ إِذْنًا , وَلَكِنْ مَنْ صَلَّى ثُمَّ رَجَعَ فَلَهُ قِيرَاطٌ.
‏‏‏‏ اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نماز پڑھ کر تم نے اپنا حق ادا کر دیا۔ حمید بن ہلال (تابعی) نے فرمایا کہ ہم نماز پڑھ کر اجازت لینا ضروری نہیں سمجھتے۔ جو شخص بھی نماز جنازہ پڑھے اور پھر واپس آئے تو اسے ایک قیراط کا ثواب ملتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: Q1323]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1323
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ , قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا , يَقُولُ: حُدِّثَ ابْنُ عُمَرَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ , يَقُولُ: مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَلَهُ قِيرَاطٌ، فَقَالَ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَيْنَا.
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ‘ ان سے جریر بن حازم نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے نافع سے سنا ‘ آپ نے بیان کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جو دفن تک جنازہ کے ساتھ رہے اسے ایک قیراط کا ثواب ملے گا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ابوہریرہ احادیث بہت زیادہ بیان کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1323]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ان سے کہا گیا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جو شخص جنازے کے ساتھ جائے گا اسے ایک قیراط ثواب ملے گا۔ اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بہت زیادہ احادیث بیان کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1323]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1324
فَصَدَّقَتْ يَعْنِي عَائِشَةَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهُ"، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ فَرَّطْتُ ضَيَّعْتُ مِنْ أَمْرِ اللَّهِ.
پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی تصدیق کی اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ارشاد خود سنا ہے۔ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ پھر تو ہم نے بہت سے قیراطوں کا نقصان اٹھایا۔ (سورۃ الزمر میں جو لفظ) «فرطت‏» آیا ہے اس کے یہی معنی ہیں میں نے ضائع کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1324]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق فرمائی اور کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی فرماتے سنا ہے۔ اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم نے تو بہت سے قیراط کا نقصان کر لیا ہے۔ قرآن کریم میں ﴿فَرَّطْتُ﴾ [سورة الزمر: 56] کے معنی ہیں: میں نے اللہ کا حکم ضائع کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1324]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں