🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

35. بَابُ: اللَّبَنِ
باب: دودھ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3321
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْدٍ الرَّاسِبِيِّ , حَدَّثَتْنِي مَوْلَاتِي أُمُّ سَالِمٍ الرَّاسِبِيَّةُ , قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ , تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِلَبَنٍ , قَالَ:" بَرَكَةٌ أَوْ بَرَكَتَانِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب دودھ آتا تو فرماتے: ایک برکت ہے یا دو برکتیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3321]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب دودھ پیش کیا جاتا تو فرماتے: ایک برکت یا دو برکتیں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3321]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17981، ومصباح الزجاجة: 1145)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/145) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (جعفر بن برد اور ام سالم الراسبیہ دونوں ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أم سالم: مجهولة (التحرير: 8733)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 496

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3322
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَطْعَمَهُ اللَّهُ طَعَامًا فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ , وَارْزُقْنَا خَيْرًا مِنْهُ , وَمَنْ سَقَاهُ اللَّهُ لَبَنًا , فَلْيَقُلْ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ , وَزِدْنَا مِنْهُ , فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ مَا يُجْزِئُ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ إِلَّا اللَّبَنُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو اللہ تعالیٰ کھانا کھلائے اسے چاہیئے کہ وہ یوں کہے: «اللهم بارك لنا فيه وارزقنا خيرا منه» اے اللہ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا کر اور ہمیں اس سے بہتر روزی مزید عطا فرما اور جسے اللہ تعالیٰ دودھ پلائے تو چاہیئے کہ وہ یوں کہے «اللهم بارك لنا فيه وزدنا منه» اے اللہ! تو ہمارے لیے اس میں برکت عطا فرما اور مزید عطا کر کیونکہ سوائے دودھ کے کوئی چیز مجھے نہیں معلوم جو کھانے اور پینے دونوں کے لیے کافی ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3322]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جسے اللہ تعالیٰ کوئی کھانا کھانے کو دے تو اسے چاہیے کہ یوں کہے: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ، وَارْزُقْنَا خَيْرًا مِنْهُ» اے اللہ! ہمیں اس میں برکت دے اور اس سے بہتر رزق عطا فرما۔ اور جسے اللہ تعالیٰ دودھ پینے کو دے تو اسے یوں کہنا چاہیے: «اَللّٰهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ، وَزِدْنَا مِنْهُ» اے اللہ! ہمیں اس میں برکت دے، اور یہ زیادہ دے۔ کیونکہ میں نہیں جانتا کہ دودھ کے علاوہ بھی کوئی چیز غذا اور مشروب (دونوں) کا فائدہ دیتی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأطعمة/حدیث: 3322]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5859)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الأشربة 21 (3730)، سنن الترمذی/الدعوات 55 (3451) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن جريج حجازي وعنعن
ورواية إسماعيل بن عياش عن الحجازيين ضعيفة
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 496

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں