سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ: الْحُمَّى
باب: بخار کا بیان۔
حدیث نمبر: 3469
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدَةَ , عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ , عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: ذُكِرَتِ الْحُمَّى عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَّهَا رَجُلٌ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَسُبَّهَا , فَإِنَّهَا تَنْفِي الذُّنُوبَ كَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْحَدِيدِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بخار کا ذکر آیا تو ایک شخص نے بخار کو گالی دی (برا بھلا کہا)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے گالی نہ دو (برا بھلا نہ کہو) اس لیے کہ اس سے گناہ اس طرح ختم ہو جاتے ہیں جیسے آگ سے لوہے کا کچرا صاف ہو جاتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3469]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بخار کا ذکر ہوا تو ایک آدمی نے اسے برا بھلا کہا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس (بخار) کو برا نہ کہو، اس سے گناہ اس طرح دور ہو جاتے ہیں جس طرح آگ سے لوہے کی میل کچیل دور ہو جاتی ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3469]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 12270، ومصباح الزجاجة: 1208) (صحیح) (تراجع الألبانی: رقم: 394)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ:
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ:
حدیث نمبر: 3470
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّهُ عَادَ مَرِيضًا وَمَعَهُ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ وَعْكٍ كَانَ بِهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَبْشِرْ فَإِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: هِيَ نَارِي أُسَلِّطُهَا عَلَى عَبْدِي الْمُؤْمِنِ فِي الدُّنْيَا , لِتَكُونَ حَظَّهُ مِنَ النَّارِ فِي الْآخِرَةِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بخار کے ایک مریض کی عیادت کی، آپ کے ساتھ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ میری آگ ہے، میں اسے اپنے مومن بندے پر اس دنیا میں اس لیے مسلط کرتا ہوں تاکہ وہ آخرت کی آگ کا بدل بن جائے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3470]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک بیمار کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے جسے بخار تھا، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی ساتھ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مریض سے) فرمایا: ”خوش ہو جاؤ! اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بخار میری آگ ہے جسے دنیا میں اپنے مومن بندے پر مسلط کرتا ہوں تاکہ آخرت میں جہنم کے عذاب کے عوض اس کا حصہ اس (بخار) کو قرار دیا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3470]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 15439، ومصباح الزجاجة: 1209)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/440) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن