سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ: الْعَيْنِ
باب: نظر بد کا بیان۔
حدیث نمبر: 3506
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ , حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى , عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ هِنْدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" الْعَيْنُ حَقٌّ".
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نظر کا لگنا حقیقت ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3506]
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نظر کا لگنا حقیقت ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3506]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 5037، ومصباح الزجاجة: 1223)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/274، 294، 2/222، 289، 319، 3/447) (صحیح متواتر)»
قال الشيخ الألباني: صحيح متواتر
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
حدیث نمبر: 3507
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عُلَيَّةَ , عَنْ الْجُرَيْرِيِّ , عَنْ مُضَارِبِ بْنِ حَزْنٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْعَيْنُ حَقٌّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نظر کا لگنا حقیقت ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3507]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نظر کا لگنا حقیقت ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3507]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14613)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الطب 36 (5740)، صحیح مسلم/السلام 16 (2187)، سنن ابی داود/الطب 15 (3879)، مسند احمد (2/319) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 3508
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمَخْزُومِيُّ , حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ , عَنْ أَبِي وَاقِدٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ , فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی پناہ طلب کرو، اس لیے کہ نظر بد حق ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3508]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(نظر سے) اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ نظر کا لگنا ایک حقیقت ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3508]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 17725، ومصباح الزجاجة: 1224) (صحیح)» (سند میں ابو واقد ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہدکی بنا پر صحیح ہے، اور اصل حدیث متواتر ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو واقد صالح بن محمد بن زائدة: ضعيف
والحديث السابق (الأصل: 3507) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 503
إسناده ضعيف
أبو واقد صالح بن محمد بن زائدة: ضعيف
والحديث السابق (الأصل: 3507) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 503
حدیث نمبر: 3509
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ , قَالَ: مَرَّ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ , بِسَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ وَهُوَ يَغْتَسِلُ , فَقَالَ: لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ , فَمَا لَبِثَ أَنْ لُبِطَ بِهِ , فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقِيلَ لَهُ: أَدْرِكْ سَهْلًا صَرِيعًا , قَالَ:" مَنْ تَتَّهِمُونَ بِهِ؟" , قَالُوا: عَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ , قَالَ:" عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ، إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ مَا يُعْجِبُهُ , فَلْيَدْعُ لَهُ بِالْبَرَكَةِ" , ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ , فَأَمَرَ عَامِرًا أَنْ يَتَوَضَّأَ , فَيَغْسِلْ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ , وَرُكْبَتَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِهِ , وَأَمَرَهُ أَنْ يَصُبَّ عَلَيْهِ , قَالَ سُفْيَانُ : قَالَ مَعْمَرٌ : عَنْ الزُّهْرِيِّ : وَأَمَرَهُ أَنْ يَكْفَأَ الْإِنَاءَ مِنْ خَلْفِهِ.
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کا گزر سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ (ابوامامہ کے باپ) کے پاس ہوا، سہل رضی اللہ عنہ اس وقت نہا رہے تھے، عامر نے کہا: میں نے آج کے جیسا پہلے نہیں دیکھا، اور نہ پردہ میں رہنے والی کنواری لڑکی کا بدن ایسا دیکھا، سہل رضی اللہ عنہ یہ سن کر تھوڑی ہی دیر میں چکرا کر گر پڑے، تو انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، اور عرض کیا گیا کہ سہل کی خبر لیجئیے جو چکرا کر گر پڑے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تم لوگوں کا گمان کس پر ہے“؟ لوگوں نے عرض کیا کہ عامر بن ربیعہ پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس بنیاد پر تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو قتل کرتا ہے“، جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی کسی ایسی چیز کو دیکھے جو اس کے دل کو بھا جائے تو اسے اس کے لیے برکت کی دعا کرنی چاہیئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا، اور عامر کو حکم دیا کہ وضو کریں، تو انہوں نے اپنا چہرہ اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک، اور اپنے دونوں گھٹنے اور تہبند کے اندر کا حصہ دھویا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سہل رضی اللہ عنہ پر وہی پانی ڈالنے کا حکم دیا۔ سفیان کہتے ہیں کہ معمر کی روایت میں جو انہوں نے زہری سے روایت کی ہے اس طرح ہے: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ برتن کو ان کے پیچھے سے ان پر انڈیل دیں“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3509]
حضرت ابو امامہ (اسعد) بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ نہا رہے تھے کہ حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ گزرے، انہوں نے (سہل کو دیکھ کر) کہا: ”جیسا (خوش رنگ جسم) آج دیکھا ہے، (پہلے) کبھی نہیں دیکھا۔ کسی پردہ نشین (کنواری لڑکی) کی جلد بھی ایسی (خوش رنگ) نہیں (ہوتی)۔“ وہ فوراً ہی زمین پر گر پڑے (اچانک تیز بخار ہوا کہ کھڑے نہ رہ سکے)۔ انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا اور کہا گیا: ”سہل رضی اللہ عنہ کی خبر لیجیے، وہ تو گر پڑے ہیں (اٹھ بھی نہیں سکتے)۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہیں اس کے بارے میں کس پر شک ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ (کی نظر لگی ہے)۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا وجہ ہے کہ ایک آدمی اپنے بھائی کو قتل کرنے والی حرکت کرتا ہے؟ اگر کسی کو اپنے بھائی کی کوئی چیز نظر آئے جو اسے اچھی لگے تو اسے چاہیے کہ اسے برکت کی دعا دے۔“ پھر پانی طلب فرمایا اور عامر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وضو کریں، چنانچہ انہوں نے اپنا چہرہ، ہاتھ کہنیوں تک، دونوں گھٹنے اور تہبند کا اندرونی حصہ دھویا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پانی سہل رضی اللہ عنہ پر ڈالنے کا حکم دیا۔ سفیان نے کہا: معمر نے امام زہری رحمہ اللہ سے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: ”اور وہ برتن ان (سہل رضی اللہ عنہ) کے پیچھے سے (ان پر) انڈیل دیا جائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطب/حدیث: 3509]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 136، ومصباح الزجاجة: 1225)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/العین 1 (1) مسند احمد (3/486) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح