سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ: لُبْسِ الْقَمِيصِ
باب: قمیص اور کرتا پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3575
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ , عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ أُمِّهِ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , قَالَتْ:" لَمْ يَكُنْ ثَوْبٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقَمِيصِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے (قمیص) سے بڑھ کر کوئی لباس محبوب اور پسندیدہ نہ تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3575]
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی کپڑا قمیص سے زیادہ پسند نہیں تھا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3575]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 3 (4025، 4026)، سنن الترمذی/اللباس 28 (1763، 1764)، (تحفة الأشراف: 18169)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/606، 317، 318، 321) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی سلے ہوئے کپڑوں میں، اور کپڑے کی جنس تو دوسری روایت میں ہے کہ سب سے زیادہ پسند آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو «حبرہ» تھا یعنی دھاری دار کپڑا جس میں سرخ دہاریاں ہوتی ہیں، اور اس زمانہ میں یہ کپڑا روئی کے سب کپڑوں میں عمدہ تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن