🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
8. باب : لبس القميص
باب: قمیص اور کرتا پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3575
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ , عَنْ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ , عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ أُمِّهِ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , قَالَتْ:" لَمْ يَكُنْ ثَوْبٌ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْقَمِيصِ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے (قمیص) سے بڑھ کر کوئی لباس محبوب اور پسندیدہ نہ تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب اللباس/حدیث: 3575]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/اللباس 3 (4025، 4026)، سنن الترمذی/اللباس 28 (1763، 1764)، (تحفة الأشراف: 18169)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/606، 317، 318، 321) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی سلے ہوئے کپڑوں میں، اور کپڑے کی جنس تو دوسری روایت میں ہے کہ سب سے زیادہ پسند آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو «حبرہ» تھا یعنی دھاری دار کپڑا جس میں سرخ دہاریاں ہوتی ہیں، اور اس زمانہ میں یہ کپڑا روئی کے سب کپڑوں میں عمدہ تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أم سلمة زوج النبي، أم سلمةصحابية
👤←👥أم عبد الله بن بريدة، أم عبد الله
Newأم عبد الله بن بريدة ← أم سلمة زوج النبي
مقبول
👤←👥عبد الله بن بريدة الأسلمي، أبو سهل
Newعبد الله بن بريدة الأسلمي ← أم عبد الله بن بريدة
ثقة
👤←👥عبد المؤمن بن خالد الحنفي، أبو خالد
Newعبد المؤمن بن خالد الحنفي ← عبد الله بن بريدة الأسلمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥يحيى بن واضح الأنصاري، أبو تميلة
Newيحيى بن واضح الأنصاري ← عبد المؤمن بن خالد الحنفي
ثقة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم العبدي ← يحيى بن واضح الأنصاري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
1763
أحب الثياب إلى النبي القميص
جامع الترمذي
1762
أحب الثياب إلى النبي القميص
جامع الترمذي
1764
أحب الثياب إلى رسول الله القميص
سنن أبي داود
4025
أحب الثياب إلى رسول الله القميص
سنن ابن ماجه
3575
لم يكن ثوب أحب إلى رسول الله من القميص
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3575 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3575
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ چادر کو سنبھالنا پڑتا ہے جب کہ قمیض پہن کر ہاتھوں کو زیادہ آسانی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
اور عربوں کی قمیض نیچے تک ہوتی ہے اس لیے اگر موٹے کپڑے کی بنی ہوئی ہو تو تہبند کے بغیر بھی ستر کے اعضاء چھپے رہتے ہیں۔
واللہ أعلم۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3575]

Sunan Ibn Majah Hadith 3575 in Urdu