🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

79. بَابُ إِذَا أَسْلَمَ الصَّبِيُّ فَمَاتَ هَلْ يُصَلَّى عَلَيْهِ وَهَلْ يُعْرَضُ عَلَى الصَّبِيِّ الإِسْلاَمُ:
باب: ایک بچہ اسلام لایا پھر اس کا انتقال ہو گیا، تو کیا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی؟ اور کیا بچے کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی جا سکتی ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1354
وَقَالَ الْحَسَنُ وَشُرَيْحٌ وَإِبْرَاهِيمُ وَقَتَادَةُ إِذَا أَسْلَمَ أَحَدُهُمَا فَالْوَلَدُ مَعَ الْمُسْلِمِ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مَعَ أُمِّهِ مِنَ الْمُسْتَضْعَفِينَ , وَلَمْ يَكُنْ مَعَ أَبِيهِ عَلَى دِينِ قَوْمِهِ , وَقَالَ الْإِسْلَامُ: يَعْلُو وَلَا يُعْلَى.
‏‏‏‏ حسن ‘ شریح ‘ ابراہیم اور قتادہ رحمہم اللہ نے کہا کہ والدین میں سے جب کوئی اسلام لائے تو ان کا بچہ بھی مسلمان سمجھا جائے گا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی اپنی والدہ کے ساتھ (مسلمان سمجھے گئے تھے اور مکہ کے) کمزور مسلمانوں میں سے تھے۔ آپ اپنے والد کے ساتھ نہیں تھے جو ابھی تک اپنی قوم کے دین پر قائم تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اسلام غالب رہتا ہے مغلوب نہیں ہو سکتا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: Q1354]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1354
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ , قَالَ: أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُ:" أَنَّ عُمَرَ انْطَلَقَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ حَتَّى وَجَدُوهُ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ، وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ الْحُلُمَ فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَالَ لِابْنِ صَيَّادٍ: تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ , فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ , فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ، فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَرَفَضَهُ , وَقَالَ: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ، فَقَالَ لَهُ: مَاذَا تَرَى؟ , قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: يَأْتِينِي صَادِقٌ , وَكَاذِبٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خُلِّطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا، فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ: هُوَ الدُّخُّ، فَقَالَ: اخْسَأْ، فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ يَكُنْهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْهُ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ انہیں یونس نے ‘ انہیں زہری نے ‘ کہا کہ مجھے سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کچھ دوسرے اصحاب کی معیت میں ابن صیاد کے پاس گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ بنو مغالہ کے مکانوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیلتا ہوا ملا۔ ان دنوں ابن صیاد جوانی کے قریب تھا۔ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی کوئی خبر ہی نہیں ہوئی۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا تو اسے معلوم ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن صیاد! کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ ابن صیاد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ کر بولا ہاں میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ان پڑھوں کے رسول ہیں۔ پھر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ کیا آپ اس کی گواہی دیتے ہیں کہ میں بھی اللہ کا رسول ہوں؟ یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا اور فرمایا میں اللہ اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تجھے کیا دکھائی دیتا ہے؟ ابن صیاد بولا کہ میرے پاس سچی اور جھوٹی دونوں خبریں آتی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تو تیرا سب کام گڈمڈ ہو گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا اچھا میں نے ایک بات دل میں رکھی ہے وہ بتلا۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ الدخان کی آیت کا تصور کیا «فارتقب يوم تاتی السماء بدخان مبين») ابن صیاد نے کہا وہ «دخ» ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چل دور ہو تو اپنی بساط سے آگے کبھی نہ بڑھ سکے گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یا رسول اللہ! مجھ کو چھوڑ دیجئیے میں اس کی گردن مار دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اگر یہ دجال ہے تو، تو اس پر غالب نہ ہو گا اور اگر دجال نہیں ہے تو اس کا مار ڈالنا تیرے لیے بہتر نہ ہو گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1354]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دیگر چند لوگوں کی معیت میں ابن صیاد کے پاس گئے، یہاں تک کہ انہوں نے اسے بنو مغالہ کی گڑھیوں کے قریب کچھ لڑکوں کے ساتھ کھیلتا ہوا پایا۔ ابن صیاد اس وقت قریب البلوغ تھا۔ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا علم نہ ہوا حتیٰ کہ آپ نے اپنے دست مبارک سے اسے مارا، پھر ابن صیاد سے فرمایا: کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے آپ کو دیکھا تو کہنے لگا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ان پڑھ لوگوں کے رسول ہیں۔ پھر ابن صیاد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں بھی اللہ کا فرستادہ ہوں؟ آپ یہ بات سن کر اس سے الگ ہو گئے اور فرمایا: میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتا ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تو کیا دیکھتا ہے؟ ابن صیاد بولا: میرے پاس سچی اور جھوٹی دونوں خبریں آتی ہیں۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھ پر معاملہ مشتبہ کر دیا گیا ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: میں نے تیرے لیے ایک بات اپنے دل میں سوچی ہے (بتا وہ کیا ہے؟) ابن صیاد بولا: وہ «الدُّخُّ» ہے۔ آپ نے فرمایا: تو دفع ہو جا، اپنی بساط سے کبھی آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیں، میں اس کی گردن اڑا دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ وہی (دجال) ہے تو تم اس پر قابو نہیں پا سکتے اور اگر وہ نہیں تو پھر اس کے قتل کرنے میں کوئی فائدہ نہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1354]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1355
وَقَالَ سَالِمٌ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , يَقُولُ: انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى النَّخْلِ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ، وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ ابْنُ صَيَّادٍ، فَرَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ يَعْنِي: فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْزَةٌ أَوْ زَمْرَةٌ، فَرَأَتْ أمُّ ابْنِ صَيّادٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ: يَا صَافِ وَهُوَ اسْمُ ابْنِ صَيَّادٍ هَذَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ , فَقَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ، وَقَالَ شُعَيْبٌ فِي حَدِيثِهِ: فَرَفَصَهُ رَمْرَمَةٌ أَوْ زَمْزَمَةٌ، وَقَالَ إِسْحَاقُ الْكَلْبِيُّ وَعُقَيْلٌ: رَمْرَمَةٌ، وَقَالَ مَعْمَرٌ: رَمْزَةٌ.
اور سالم نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہتے تھے پھر ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ دونوں مل کر ان کھجور کے درختوں میں گئے۔ جہاں ابن صیاد تھا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ ابن صیاد آپ کو نہ دیکھے اور) اس سے پہلے کہ وہ آپ کو دیکھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم غفلت میں اس سے کچھ باتیں سن لیں۔ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو دیکھ لیا۔ وہ ایک چادر اوڑھے پڑا تھا۔ کچھ گن گن یا پھن پھن کر رہا تھا۔ لیکن مشکل یہ ہوئی کہ ابن صیاد کی ماں نے دور ہی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے تنوں میں چھپ چھپ کر جا رہے تھے۔ اس نے پکار کر ابن صیاد سے کہہ دیا صاف! یہ نام ابن صیاد کا تھا۔ دیکھو محمد آن پہنچے۔ یہ سنتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کاش اس کی ماں ابن صیاد کو باتیں کرنے دیتی تو وہ اپنا حال کھولتا۔ شعیب نے اپنی روایت میں «رمرمة فرفصه» اور عقیل نے «رمرمة‏» نقل کیا ہے اور معمر نے «رمزة‏» کہا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1355]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہی روایت ہے، انہوں نے فرمایا: اس کے بعد پھر ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کھجوروں کے اس باغ میں گئے جس میں ابن صیاد تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ اس سے کچھ باتیں سنیں قبل اس کے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھے، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بایں حالت دیکھا کہ وہ ایک چادر اوڑھے کچھ گنگنا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کے درختوں کی آڑ میں چل رہے تھے کہ ابن صیاد کی ماں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیا اور اسے آواز دی: اے صاف! (یہ ابن صیاد کا نام ہے) یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم آگئے ہیں۔ یہ سن کر ابن صیاد اٹھ بیٹھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ عورت اسے (اس کے حال پر) چھوڑ دیتی تو وہ اپنا معاملہ کچھ واضح کردیتا۔ شعیب کی روایت میں «زَمْزَمَة» کے الفاظ ہیں اور «رَفْضِهِ» کی جگہ «رَفْصِهِ» ہے۔ اسحاق کلبی اور عقیل کی روایت میں «رَمْرَمَة» اور معمر کی روایت میں «رَمْزُهُ» کے الفاظ ہیں۔ (ان تمام الفاظ کے معنی ہیں: اس کی ایک ایسی خفی آواز تھی جو سمجھ میں نہیں آتی تھی۔) [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1355]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1356
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهْوَ ابْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" كَانَ غُلَامٌ يَهُودِيٌّ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ: أَسْلِمْ، فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ , وَهُوَ عِنْدَهُ، فَقَالَ لَهُ: أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ثابت نے ‘ ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی لڑکا (عبدالقدوس) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، ایک دن وہ بیمار ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا مزاج معلوم کرنے کے لیے تشریف لائے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے اور فرمایا کہ مسلمان ہو جا۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا، باپ وہیں موجود تھا۔ اس نے کہا کہ (کیا مضائقہ ہے) ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ کہتے ہیں مان لے۔ چنانچہ وہ بچہ اسلام لے آیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شکر ہے اللہ پاک کا جس نے اس بچے کو جہنم سے بچا لیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1356]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک یہودی لڑکا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔ وہ بیمار ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور اس کے سرہانے بیٹھ کر اس سے فرمایا: تو مسلمان ہو جا۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے کہا: ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لو، چنانچہ وہ مسلمان ہو گیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہوئے باہر تشریف لے آئے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ» اللہ کا شکر ہے جس نے اس لڑکے کو آگ سے بچا لیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1356]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1357
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ: قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , يَقُولُ:" كُنْتُ أَنَا , وَأُمِّي مِنَ الْمُسْتَضْعَفِينَ، أَنَا مِنَ الْوِلْدَانِ، وَأُمِّي مِنَ النِّسَاءِ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ عبیداللہ بن زیاد نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا تھا کہ میں اور میری والدہ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت کے بعد مکہ میں) کمزور مسلمانوں میں سے تھے۔ میں بچوں میں اور میری والدہ عورتوں میں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1357]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں اور میری والدہ ناتواں لوگوں میں سے تھے، میں بچوں میں سے اور میری والدہ عورتوں میں سے کمزور تھیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1357]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1358
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ:" يُصَلَّى عَلَى كُلِّ مَوْلُودٍ مُتَوَفًّى، وَإِنْ كَانَ لِغَيَّةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ وُلِدَ عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ يَدَّعِي أَبَوَاهُ الْإِسْلَامَ أَوْ أَبُوهُ خَاصَّةً، وَإِنْ كَانَتْ أُمُّهُ عَلَى غَيْرِ الْإِسْلَامِ إِذَا اسْتَهَلَّ صَارِخًا صُلِّيَ عَلَيْهِ وَلَا يُصَلَّى عَلَى مَنْ لَا يَسْتَهِلُّ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ سِقْطٌ، فَإِنَّ أَبَا هُرَيْرَة رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ يُحَدِّثُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ"، ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا سورة الروم آية 30.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ابن شہاب ہر اس بچے کی جو وفات پا گیا ہو نماز جنازہ پڑھتے تھے۔ اگرچہ وہ حرام ہی کا بچہ کیوں نہ ہو کیونکہ اس کی پیدائش اسلام کی فطرت پر ہوئی۔ یعنی اس صورت میں جب کہ اس کے والدین مسلمان ہونے کے دعویدار ہوں۔ اگر صرف باپ مسلمان ہو اور ماں کا مذہب اسلام کے سوا کوئی اور ہو جب بھی بچہ کے رونے کی پیدائش کے وقت اگر آواز سنائی دیتی تو اس پر نماز پڑھی جاتی۔ لیکن اگر پیدائش کے وقت کوئی آواز نہ آتی تو اس کی نماز نہیں پڑھی جاتی تھی۔ بلکہ ایسے بچے کو کچا حمل گر جانے کے درجہ میں سمجھا جاتا تھا۔ کیونکہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جس طرح تم دیکھتے ہو کہ جانور صحیح سالم بچہ جنتا ہے۔ کیا تم نے کوئی کان کٹا ہوا بچہ بھی دیکھا ہے؟ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اس آیت کو تلاوت کیا۔ «فطرة الله التي فطر الناس عليها‏‏‏» الآية‏ یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1358]
حضرت شعیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہر فوت ہونے والے بچے کی نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی اگرچہ وہ زنا کی پیداوار ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اس کی پیدائش «فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ» فطرتِ اسلام پر ہوئی ہے، بشرط یہ کہ اس کے والدین دونوں یا صرف باپ مسلمان ہو، اس کی ماں خواہ غیر مسلم ہو۔ اور یہ بھی شرط ہے کہ وہ بچہ پیدائش کے وقت چیخ مار کر رویا ہو، اگر اس نے پیدائش کے وقت چیخ نہیں ماری تو وہ ناتمام بچہ ہے، اس لیے اس کی نمازِ جنازہ ادا نہیں کی جائے گی کیونکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ، كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ؟» ہر بچہ فطرت (اسلام) پر پیدا ہوتا ہے۔ اس کے ماں باپ اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں، جیسا کہ جانور صحیح و سالم عضو والا بچہ جنتا ہے، کیا تم ان میں کوئی کان کٹا ہوا دیکھتے ہو؟ پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیتِ کریمہ ﴿فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا﴾ [سورة الروم: 30] تلاوت کی: (یہ) اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1358]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1359
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ، هَلْ تُحِسُّونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ"، ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ سورة الروم آية 30.
ہم سے عبدان نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہمیں عبداللہ نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ ہم کو یونس نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک جانور ایک صحیح سالم جانور جنتا ہے۔ کیا تم اس کا کوئی عضو (پیدائشی طور پر) کٹا ہوا دیکھتے ہو؟ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی فطرت ہے جس پر لوگوں کو اس نے پیدا کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خلقت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں ‘ یہی «دين القيم‏» ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1359]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر بچہ فطرتِ اسلام ہی پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں، جس طرح کوئی جانور بچہ جنم دیتا ہے، کیا تم اس میں کوئی کان کٹا ہوا پاتے ہو؟ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ آیت کریمہ پڑھتے: ﴿یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ اللہ کے پیدا کرنے میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ یہی اللہ کا سیدھا دین ہے﴾ [سورة الروم: 30] ۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 1359]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں