سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابُ: الْمُدَاوَمَةِ عَلَى الْعَمَلِ
باب: نیک کام کو ہمیشہ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 4237
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , قَالَتْ:" وَالَّذِي ذَهَبَ بِنَفْسِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مَا مَاتَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ , وَكَانَ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَيْهِ الْعَمَلُ الصَّالِحُ , الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ الْعَبْدُ وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قسم ہے اس (اللہ) کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (دنیا سے) لے گیا! آپ جب فوت ہوئے تو آپ زیادہ نماز (تہجد) بیٹھ کر ادا فرماتے تھے۔ اور آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ عمل وہ نیک عمل تھا جس پر بندہ ہمیشگی کرے اگرچہ تھوڑا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4237]
ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”قسم ہے اس (اللہ) کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (دنیا سے) لے گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب فوت ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ نماز (تہجد) بیٹھ کر ادا فرماتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک زیادہ پسندیدہ عمل وہ نیک عمل تھا جس پر ہمیشگی کرے اگرچہ تھوڑا ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4237]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: (1225) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جو کام ہمیشہ کیا جائے گرچہ وہ روزانہ تھوڑا ہی ہو وہی بہت ہو جاتا ہے، اور جو بہت کیا جائے لیکن ہمیشہ نہ کیا جائے وہ تھوڑا ہی رہتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4238
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَتْ عِنْدِي امْرَأَةٌ , فَدَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" مَنْ هَذِهِ؟" , قُلْتُ: فُلَانَةُ لَا تَنَامُ تَذْكُرُ مِنْ صَلَاتِهَا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَهْ عَلَيْكُمْ بِمَا تُطِيقُونَ , فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ حَتَّى تَمَلُّوا" , قَالَتْ: وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينَ إِلَيْهِ الَّذِي يَدُومُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت (بیٹھی ہوئی) تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، اور پوچھا: ”یہ کون ہے“؟ میں نے کہا: یہ فلاں عورت ہے، یہ سوتی نہیں ہے (نماز پڑھتی رہتی ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہرو! تم پر اتنا ہی عمل واجب ہے جتنے کی تمہیں طاقت ہو، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتا ہے یہاں تک کہ تم خود ہی اکتا جاؤ“۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جس کو آدمی ہمیشہ پابندی سے کرتا ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4238]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میرے پاس ایک عورت (بیٹھی) تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس (گھر میں) تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ خاتون کون ہے؟“ میں نے کہا: ”فلاں صاحبہ ہیں جو سوتی نہیں ہیں۔“ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے ان کی نمازِ تہجد کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «مَهْ» ”ٹھہرو! وہی چیز اختیار کرو جس کی تمہیں طاقت ہو، اللہ کی قسم! اللہ نہیں اکتاتا یہاں تک کہ تم خود اکتا جاؤ۔“ ام المومنین رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دین کا وہ کام زیادہ پسند تھا جس پر عمل کرنے والا دوام کرے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4238]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 32 (785)، (تحفة الأشراف: 16821)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الإیمان 33 (43)، التہجد 18 (1151)، سنن النسائی/قیام اللیل 15 (1643)، الإیمان 29 (5038)،، موطا امام مالک/قصرالصلاة 24 (90) مسند احمد (6/51) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4239
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ الْجُرَيْرِيِّ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ , عَنْ حَنْظَلَةَ الْكَاتِبِ التَّمِيمِيِّ الْأُسَيِّدِيِّ , قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرْنَا الْجَنَّةَ وَالنَّارَ , حَتَّى كَأَنَّا رَأْيَ الْعَيْنِ , فَقُمْتُ إِلَى أَهْلِي وَوَلَدِي فَضَحِكْتُ وَلَعِبْتُ , قَالَ: فَذَكَرْتُ الَّذِي كُنَّا فِيهِ , فَخَرَجْتُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ , فَقُلْتُ: نَافَقْتُ نَافَقْتُ , فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّا لَنَفْعَلُهُ , فَذَهَبَ حَنْظَلَةُ فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" يَا حَنْظَلَةُ , لَوْ كُنْتُمْ كَمَا تَكُونُونَ عِنْدِي لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى فُرُشِكُمْ أَوْ عَلَى طُرُقِكُمْ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً".
حنظلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے اور ہم نے جنت اور جہنم کا ذکر اس طرح کیا گویا ہم اپنی آنکھوں سے اس کو دیکھ رہے ہیں، پھر میں اپنے اہل و عیال کے پاس چلا گیا، اور ان کے ساتھ ہنسا کھیلا، پھر مجھے وہ کیفیت یاد آئی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، میں گھر سے نکلا، راستے میں مجھے ابوبکر رضی اللہ عنہ مل گئے، میں نے کہا: میں منافق ہو گیا، میں منافق ہو گیا، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہی ہمارا بھی حال ہے، حنظلہ رضی اللہ عنہ گئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کیفیت کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے حنظلہ! اگر (اہل و عیال کے ساتھ) تمہاری وہی کیفیت رہے جیسی میرے پاس ہوتی ہے تو فرشتے تمہارے بستروں (یا راستوں) میں تم سے مصافحہ کریں، حنظلہ! یہ ایک گھڑی ہے، وہ ایک گھڑی ہے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4239]
حضرت حنظلہ (بن ربیع بن صیفی) تمیمی اسیدی رضی اللہ عنہ کاتبِ وحی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ہم نے جنت اور جہنم کا ذکر کیا۔ (تو دل کی یہ کیفیت ہوئی) گویا ہم (جنت اور جہنم کو) آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، پھر میں اٹھ کر بیوی اور بچوں کے پاس (گھر) چلا گیا۔ میں ان کے ساتھ ہنسا کھیلا۔“ (حنظلہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: ”پھر مجھے وہ کیفیت یاد آئی جس میں ہم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں) تھے، چنانچہ میں (گھبرا کر) باہر نکلا تو میری ملاقات حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہو گئی، میں نے کہا: ”میں منافق ہو گیا، میں منافق ہو گیا۔“ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (تفصیل سن کر) فرمایا: ”یہ کیفیت تو ہماری بھی ہے۔“ حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ کیفیت عرض کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حنظلہ! اگر تم (ہمیشہ) اسی کیفیت میں رہو جس میں تم میرے پاس ہوتے ہو تو فرشتے تمہارے بستروں پر یا (فرمایا) راستوں میں تم سے مصافحہ کریں۔ (لیکن) حنظلہ! وقت وقت کی بات ہے۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4239]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/التوبة 3 (2750)، سنن الترمذی/صفة القیامة 20 (2452)، (تحفة الأشراف: 3448)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/78ا، 346) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4240
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجُ , سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَال رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ , فَإِنَّ خَيْرَ الْعَمَلِ أَدْوَمُهُ وَإِنْ قَلَّ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم خود کو اتنے ہی کام کا مکلف کرو جتنے کی تم میں طاقت ہو، کیونکہ بہترین عمل وہ ہے جس پر مداومت کی جائے، خواہ وہ کم ہی ہو“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4240]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اتنے عمل کا بوجھ اٹھاؤ جتنے کی تمہیں طاقت ہو، کیونکہ بہترین عمل وہ ہے جس پر زیادہ پابندی کی جائے اگرچہ تھوڑا ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4240]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 13942، ومصباح الزجاجة: 1515)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/350) (صحیح)» (سند میں ابن لہیعہ ضعیف ہیں، اور ولید بن مسلم تدلیس التسویہ کرتے ہیں، لیکن دوسرے طرق سے یہ صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 4241
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ , حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَشْعَرِيُّ , عَنْ عِيسَى بْنِ جَارِيَةَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ يُصَلِّي عَلَى صَخْرَةٍ , فَأَتَى نَاحِيَةَ مَكَّةَ فَمَكَثَ مَلِيًّا ثُمَّ انْصَرَفَ , فَوَجَدَ الرَّجُلَ يُصَلِّي عَلَى حَالِهِ فَقَامَ فَجَمَعَ يَدَيْهِ , ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالْقَصْدِ" , ثَلَاثًا ," فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے جو ایک چٹان پر نماز پڑھ رہا تھا، آپ مکہ کے ایک جانب گئے، اور کچھ دیر ٹھہرے، پھر واپس آئے، تو اس شخص کو اسی حالت میں نماز پڑھتے ہوئے پایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اپنے دونوں ہاتھوں کو ملایا، پھر فرمایا: ”لوگو! تم میانہ روی اختیار کرو“، کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں اکتاتا ہے (ثواب دینے سے) یہاں تک کہ تم خود ہی (عمل کرنے سے) اکتا جاؤ“ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4241]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو ایک چٹان پر نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے ایک حصے میں (کسی کام سے) تشریف لے آئے، وہاں کچھ دیر تشریف فرما رہے، پھر واپس تشریف لے گئے۔ دیکھا وہ آدمی اسی طرح نماز پڑھ رہا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ جمع کر کے (اشارہ کرتے ہوئے) تین بار فرمایا: ”لوگو! (افراط و تفریط سے بچ کر) میانہ روی اختیار کرو۔“ پھر فرمایا: ”اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں اکتاتا، تم ہی (عمل کرنے سے) اکتا جاتے ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4241]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 2570، ومصباح الزجاجة: 1516) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سنت کی متابعت بہتر ہے، یعنی اسی قدر نماز اور روزہ اور وظائف پر مداومت کرنا جس قدر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت اور منقول ہے، اور اس میں شک نہیں کہ سنت کی پیروی ہر حال میں بہتر اور باعث برکت اور نور ہے، اور بہتر طریقہ وہی ہے جو وظاف و اوراد اور نوافل میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے، انہی و ظائف واوراد پر قناعت کرے اور اہل و عیال اور دوستوں اور عزیزوں کے ساتھ بھی مشغول رہے جیسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح