سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
95. بَابُ: الْوُضُوءِ فِي النَّعْلِ
باب: جوتا پہنے ہوئے وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 117
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَمَالِكٍ، وَابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ، قال: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ: رَأَيْتُكَ تَلْبَسُ هَذِهِ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَتَتَوَضَّأُ فِيهَا، قال: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَلْبَسُهَا وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا".
عبید بن جریج کہتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ آپ چمڑے کی ان سبتی جوتوں کو پہنتے ہیں، اور اسی میں وضو کرتے ہیں؟ ۱؎ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں پہنتے اور ان میں وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، سبتی جوتوں سے مراد بالوں کے بغیر نری کے چمڑے کی جوتیاں ہیں۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 117]
حضرت عبید بن جریج رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”میں دیکھتا ہوں کہ آپ صاف چمڑے کے جوتے پہنتے ہیں اور ان میں وضو کرتے ہیں۔“ انہوں نے فرمایا: ”میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پہنتے اور ان میں وضو کرتے دیکھا ہے۔“ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 117]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 30 (166) مطولاً، اللباس 37 (5851) مطولاً، صحیح مسلم/الحج 5 (1187)، سنن ابی داود/الحج 21 (1772) مطولاً، سنن الترمذی/الشمائل 10 (74)، سنن ابن ماجہ/اللباس 34 (3626)، موطا امام مالک/الحج 9 (31)، مسند احمد 2/17، 66، 110، 138 (تحفة الأشراف: 7316) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، ملاحظہ ہو: 2761، 2953، 5245)»
وضاحت: ۱؎: یہاں وضو سے مراد پاؤں دھونا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه