سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
154. بَابُ: إِزَالَةِ الْجُنُبِ الأَذَى عَنْ جَسَدِهِ، بَعْدَ غَسْلِ يَدَيْهِ
باب: دونوں ہاتھ دھونے کے بعد جنبی کا اپنے جسم سے نجاست دور کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 246
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، أَنْبَأَنَا النَّضْرُ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، قال: أَنْبَأَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، قال: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَسَأَلَهَا عَنْ غُسْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ، فَقَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُؤْتَى بِالْإِنَاءِ فَيَصُبُّ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثًا فَيَغْسِلُهُمَا، ثُمَّ يَصُبُّ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَيَغْسِلُ مَا عَلَى فَخِذَيْهِ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ وَيَتَمَضْمَضُ وَيَسْتَنْشِقُ، وَيَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى سَائِرِ جَسَدِهِ".
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف زہری کہتے ہیں کہ وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے متعلق ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (پانی کا) برتن لایا جاتا تو آپ اپنے دونوں ہاتھوں پر تین بار پانی ڈالتے، اور انہیں دھوتے، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی دونوں رانوں کی نجاست دھوتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ دھوتے، کلی کرتے، پھر ناک میں پانی ڈالتے، اور اپنے سر پر تین بار پانی ڈالتے، پھر اپنے باقی جسم پر پانی بہاتے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 246]
حضرت ابوسلمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غسلِ جنابت کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس برتن لایا جاتا، آپ اپنے دونوں ہاتھوں پر تین دفعہ پانی بہاتے، پھر انہیں دھوتے، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنی شرم گاہ اور رانوں پر جو کچھ ہوتا اسے دھوتے، پھر اپنے ہاتھ دھوتے، پھر کلی کرتے اور ناک میں پانی چڑھا کر ناک کو خوب اچھی طرح صاف کرتے، پھر اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالتے، پھر باقی سارے جسم پر پانی بہاتے۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 246]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 244، (تحفة الأشراف: 17737) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: حسن