سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
170. بَابُ: إِتْيَانِ النِّسَاءِ قَبْلَ إِحْدَاثِ الْغُسْلِ
باب: کئی عورتوں سے جماع کرنے بعد آخر میں غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 264
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات ایک ہی غسل سے اپنی بیویوں کے پاس گئے ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 264]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ”ایک رات میں اپنی تمام بیویوں کے پاس ایک ہی غسل کے ساتھ گئے۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 264]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الطھارة 85 (218)، (تحفة الأشراف: 568) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: (یعنی ان سب سے صحبت کی اور اخیر میں غسل کیا) ممکن ہے ایسا آپ نے سفر سے آنے پر یا ایک باری پوری ہو جانے، اور دوسری باری کے شروع کرنے سے پہلے کیا ہو، یا تمام بیویوں کی رضا مندی سے کیا ہو، یا یہ کہ آپ کے لیے یہ خاص ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 265
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، قال: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی (سبھی) بیویوں کے پاس ایک ہی غسل میں جاتے (جماع کرتے) تھے۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 265]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”ایک ہی غسل کے ساتھ اپنی تمام بیویوں کے پاس چلے جاتے تھے۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 265]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطھارة 106 (140)، سنن ابن ماجہ/فیہ 101 (588)، (تحفة الأشراف: 1336)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحیض 6 (309)، مسند احمد 3/161، 185 (صحیح) ولفظ البخاري من ھذا الطریق: ”کان یطوف علی نسائہ في الساعة الواحدة وفي روایة: في اللیلة الواحدة‘‘ (وبدون ذکر الغسل) (الغسل 12 (268)، 24 (284)، وانکاح 4 (5068)، 102 (5215)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح