سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ: أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ
باب: عصر کے اول وقت کا بیان۔
حدیث نمبر: 505
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ، قال: حَدَّثَنَا ثَوْرٌ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرٍ، قال: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" صَلِّ مَعِي فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ، وَالْعَصْرَ حِينَ كَانَ فَيْءُ كُلِّ شَيْءٍ مِثْلَهُ، وَالْمَغْرِبَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ، وَالْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، قَالَ: ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ حِينَ كَانَ فَيْءُ الْإِنْسَانِ مِثْلَهُ، وَالْعَصْرَ حِينَ كَانَ فَيْءُ الْإِنْسَانِ مِثْلَيْهِ، وَالْمَغْرِبَ حِينَ كَانَ قُبَيْلَ غَيْبُوبَةِ الشَّفَقِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ: ثُمَّ قَالَ: فِي الْعِشَاءِ أُرَى إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز کے اوقات کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: ”تم میرے ساتھ نماز پڑھو“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا، اور عصر اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، اور مغرب اس وقت پڑھائی جب سورج ڈوب گیا، اور عشاء اس وقت پڑھائی جب شفق غائب ہو گئی، پھر (دوسرے دن) ظہر اس وقت پڑھائی جب انسان کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، اور عصر اس وقت پڑھائی جب انسان کا سایہ اس کے قد کے دوگنا ہو گیا، اور مغرب شفق غائب ہونے سے کچھ پہلے پڑھائی۔ عبداللہ بن حارث کہتے ہیں: پھر انہوں نے عشاء کے سلسلہ میں کہا: میرا خیال ہے اس کا وقت تہائی رات تک ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 505]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازوں کے اوقات کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے ساتھ نماز پڑھو۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی جب سورج ڈھل گیا اور عصر کی نماز پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا اور مغرب کی نماز پڑھائی جب سورج غروب ہو گیا اور عشاء کی نماز پڑھائی جب شفق غروب ہو گئی۔ اور (اگلے دن) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ظہر پڑھائی جب انسان کا سایہ اس کے برابر ہو گیا اور عصر کی نماز پڑھائی جب انسان کا سایہ اس سے دگنا ہو گیا اور مغرب کی نماز غروبِ شفق سے تھوڑی دیر پہلے پڑھائی اور عشاء کی نماز تہائی رات کے وقت پڑھائی۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 505]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 2 (395) (تعلیقا ومختصراً)، (تحفة الأشراف: 2417)، مسند احمد 3/351 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن