🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

8. بَابُ: تَعْجِيلِ الْعَصْرِ
باب: عصر جلدی پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 506
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" صَلَّى صَلَاةَ الْعَصْرِ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ مِنْ حُجْرَتِهَا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، اور دھوپ ان کے حجرے میں تھی، اور سایہ ان کے حجرے سے (دیوار پر) نہیں چڑھا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 506]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی جب کہ دھوپ ابھی حجرۂ عائشہ میں تھی، یعنی سایہ ان کے حجرے سے باہر نہیں نکلا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 506]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 1 (522)، 13 (545)، الخمس 4 (3103)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/فیہ 6 (159)، (تحفة الأشراف: 16585)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1 (2) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 507
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ مَالِكٍ، قال: حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ وَإِسْحَاق بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى قُبَاءٍ"، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: فَيَأْتِيهِمْ وَهُمْ يُصَلُّونَ، وَقَالَ الْآخَرُ: وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ.
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر پڑھتے تھے، پھر جانے والا قباء جاتا، زہری اور اسحاق دونوں میں سے ایک کی روایت میں ہے تو وہ ان کے پاس پہنچتا اور وہ لوگ نماز پڑھ رہے ہوتے، اور دوسرے کی روایت میں ہے: اور سورج بلند ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 507]
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا فرماتے، پھر جانے والا قباء تک جاتا۔ (زہری اور اسحاق میں سے) ایک نے کہا: وہ ان کے پاس پہنچتا تو ابھی وہ نماز عصر پڑھ رہے ہوتے تھے۔ اور دوسرے نے کہا: اور سورج ابھی اونچا ہوتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 507]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/المواقیت 13 (548)، صحیح مسلم/المساجد 34 (621)، موطا امام مالک/وقوت الصلاة 1 (10)، (تحفة الأشراف: 202) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مسجد قباء مسجد نبوی سے تین میل کی دوری پر ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 508
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ، وَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر پڑھتے اور سورج بلند اور تیز ہوتا، اور جانے والا (نماز پڑھ کر) عوالی جاتا، اور سورج بلند ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 508]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا فرماتے تھے جب کہ سورج کافی بلند اور تیز ہوتا تھا۔ آپ کے ساتھ نماز پڑھنے والا عوالی کو جاتا تو سورج ابھی اونچا ہوتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 508]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «وقد أخرجہ عن طریق شعیب عن الزہری: صحیح مسلم/المساجد 34 (621)، سنن ابی داود/الصلاة 5 (404)، سنن ابن ماجہ/فیہ 5 (682)، (تحفة الأشراف: 1522)، مسند احمد 3/ 223 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مدینہ کے اردگرد جنوب مغرب میں جو بستیاں تھیں انہیں عوالی کہا جاتا تھا، ان میں سے بعض مدینہ سے دو میل بعض تین میل اور بعض آٹھ میل کی دوری پر تھیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 509
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ أَبِي الْأَبْيَضِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قال: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي بِنَا الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُحَلِّقَةٌ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں عصر پڑھاتے اور سورج سفید اور بلند ہوتا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 509]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں عصر کی نماز پڑھاتے تو سورج سفید اور بلند ہوتا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 509]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائی، (تحفة الأشراف: 1710)، مسند احمد 3/131، 169، 184، 232 (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 510
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، قال: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ، يَقُولُ:" صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ، ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ، قُلْتُ: يَا عَمِّ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتَ؟ قَالَ: الْعَصْرَ، وَهَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي".
ابوامامہ بن سہل کہتے ہیں: ہم نے عمر بن عبدالعزیز کے ساتھ ظہر پڑھی پھر ہم نکلے، یہاں تک کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، تو ہم نے انہیں عصر پڑھتے ہوئے پایا، تو میں نے پوچھا: میرے چچا! آپ نے یہ کون سی نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: عصر کی، یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے جسے ہم لوگ پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 510]
حضرت ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی، پھر ہم نکلے حتیٰ کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو ہم نے انہیں عصر کی نماز پڑھتے پایا۔ میں نے کہا: چچا جان! یہ کون سی نماز آپ نے پڑھی ہے؟ انہوں نے فرمایا: عصر کی۔ اور یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے جو ہم (آپ کے ساتھ) پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 510]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/ المواقیت 13 (549)، صحیح مسلم/المساجد 34 (623)، (تحفة الأشراف: 225) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 511
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَةَ الْمَدَنِيُّ، قال: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قال:" صَلَّيْنَا فِي زَمَانِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ لَنَا: أَصَلَّيْتُمْ؟ قُلْنَا: صَلَّيْنَا الظُّهْرَ، قَالَ: إِنِّي صَلَّيْتُ الْعَصْرَ، فَقِالُوا لَهُ: عَجَّلْتَ، فَقَالَ: إِنَّمَا أُصَلِّي كَمَا رَأَيْتُ أَصْحَابِي يُصَلُّونَ".
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ ہم نے عمر بن عبدالعزیز کے عہد میں نماز پڑھی، پھر انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہیں (بھی) نماز پڑھتے ہوئے پایا، جب وہ نماز پڑھ کر پلٹے تو انہوں نے ہم سے پوچھا: تم نماز پڑھ چکے ہو؟ ہم نے کہا: (ہاں) ہم نے ظہر پڑھ لی ہے، انہوں نے کہا: میں نے تو عصر پڑھی ہے، تو لوگوں نے ان سے کہا: آپ نے جلدی پڑھ لی، انہوں نے کہا: میں اسی طرح پڑھتا ہوں جیسے میں نے اپنے اصحاب کو پڑھتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 511]
حضرت ابوسلمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ہم نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دور (گورنری) میں نماز پڑھی، پھر ہم حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی طرف چلے۔ ہم نے انہیں نماز پڑھتے پایا۔ جب وہ فارغ ہوئے تو ہمیں کہنے لگے: تم نے نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے کہا: ہم نے ظہر کی نماز پڑھی ہے۔ وہ کہنے لگے: میں نے تو عصر کی نماز پڑھی ہے۔ لوگوں نے کہا: آپ نے جلدی کی ہے۔ انہوں نے فرمایا: میں تو اس طرح نماز پڑھتا ہوں جس طرح میں نے اپنے ساتھیوں کو پڑھتے دیکھا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 511]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 1718) (حسن الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: حسن الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں