سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابُ: كَيْفَ الإِقَامَةُ
باب: اقامت کیسے کہے؟
حدیث نمبر: 669
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُؤَذِّنَ مَسْجِدِ الْعُرْيَانِ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى مُؤَذِّنِ مَسْجِدِ الْجَامِعِ قال: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْأَذَانِ، فَقَالَ:" كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً، إِلَّا أَنَّكَ إِذَا قُلْتَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَالَهَا مَرَّتَيْنِ، فَإِذَا سَمِعْنَا: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، تَوَضَّأْنَا ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلَاةِ".
جامع مسجد کے مؤذن ابو مثنیٰ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے اذان کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اذان دوہری اور اقامت اکہری ہوتی تھی، البتہ جب آپ «قد قامت الصلاة» کہتے تو اسے دو بار کہتے، چنانچہ جب ہم «قد قامت الصلاة» سن لیتے، تو وضو کرتے پھر ہم نماز کے لیے نکلتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 669]
جامع مسجد کے مؤذن ابو مثنیٰ نے کہا: ”میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اذان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اذان دو دو کلمات تھے اور اقامت ایک ایک کلمہ، مگر جب تو «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» ”نماز کھڑی ہو گئی“ کہے تو وہ دو دو مرتبہ ہے۔ جب ہم «قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ» ”نماز کھڑی ہو گئی“ کے الفاظ سنتے تو وضو کرتے، پھر نماز کے لیے جاتے۔““ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 669]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 629 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایسا بعض لوگ اور کبھی کبھی کرتے تھے، پھر بھی آپ کی لمبی قراءت کے سبب جماعت پا لیتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح