علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. باب : كيف الإقامة
باب: اقامت کیسے کہے؟
حدیث نمبر: 669
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ تَمِيمٍ، قال: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ شُعْبَةَ، قال: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ مُؤَذِّنَ مَسْجِدِ الْعُرْيَانِ، عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى مُؤَذِّنِ مَسْجِدِ الْجَامِعِ قال: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْأَذَانِ، فَقَالَ:" كَانَ الْأَذَانُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثْنَى مَثْنَى، وَالْإِقَامَةُ مَرَّةً مَرَّةً، إِلَّا أَنَّكَ إِذَا قُلْتَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، قَالَهَا مَرَّتَيْنِ، فَإِذَا سَمِعْنَا: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، تَوَضَّأْنَا ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الصَّلَاةِ".
جامع مسجد کے مؤذن ابو مثنیٰ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم سے اذان کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اذان دوہری اور اقامت اکہری ہوتی تھی، البتہ جب آپ «قد قامت الصلاة» کہتے تو اسے دو بار کہتے، چنانچہ جب ہم «قد قامت الصلاة» سن لیتے، تو وضو کرتے پھر ہم نماز کے لیے نکلتے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الأذان/حدیث: 669]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 629 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ایسا بعض لوگ اور کبھی کبھی کرتے تھے، پھر بھی آپ کی لمبی قراءت کے سبب جماعت پا لیتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
629
| الأذان على عهد رسول الله مثنى مثنى الإقامة مرة مرة إلا أنك تقول قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة |
سنن النسائى الصغرى |
669
| الأذان على عهد رسول الله مثنى مثنى الإقامة مرة مرة إلا أنك إذا قلت قد قامت الصلاة قالها مرتين فإذا سمعنا قد قامت الصلاة توضأنا ثم خرجنا إلى الصلاة |
سنن أبي داود |
510
| الأذان على عهد رسول الله مرتين مرتين الإقامة مرة مرة غير أنه يقول قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة فإذا سمعنا الإقامة توضأنا ثم خرجنا إلى الصلاة |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 669 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 669
669 ۔ اردو حاشیہ: یہ کبھی کبھار کی بات ہو گی، مثلاً: کھانے یا نیند کی وجہ سے، ورنہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اکثر پہلے سے مسجد میں موجود ہوتے تھے۔ (اقامت کی بحث کے لیے دیکھیے حدیث: 629 اور اسی کتاب کا ابتدائیہ)
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 669]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 510
اقامت (تکبیر) کا بیان۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے کلمات سوائے: «قد قامت الصلاة» کے ایک ایک بار کہے جاتے تھے، چنانچہ جب ہم اقامت سنتے تو وضو کرتے پھر نماز کے لیے آتے تھے ۱؎۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے ابو جعفر سے اس حدیث کے علاوہ اور کوئی حدیث نہیں سنی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 510]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اذان کے کلمات دو دو بار اور اقامت کے کلمات سوائے: «قد قامت الصلاة» کے ایک ایک بار کہے جاتے تھے، چنانچہ جب ہم اقامت سنتے تو وضو کرتے پھر نماز کے لیے آتے تھے ۱؎۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے ابو جعفر سے اس حدیث کے علاوہ اور کوئی حدیث نہیں سنی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 510]
510۔ اردو حاشیہ:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عموماً اقامت سے پہلے مسجد میں تشریف لا کر نماز کا انتظار کیا کرتے تھے۔ مگر اتفاق سے کبھی کوئی چوک جاتا تو اقامت سنتے ہی جھٹ وضو کر کے نماز کے لئے آ جاتا۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عموماً اقامت سے پہلے مسجد میں تشریف لا کر نماز کا انتظار کیا کرتے تھے۔ مگر اتفاق سے کبھی کوئی چوک جاتا تو اقامت سنتے ہی جھٹ وضو کر کے نماز کے لئے آ جاتا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 510]
Sunan an-Nasa'i Hadith 669 in Urdu
مسلم بن المثنى القرشي ← عبد الله بن عمر العدوي