🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

18. بَابُ: ضَرْبِ الْخِبَاءِ فِي الْمَسَاجِدِ
باب: مسجد میں خیمہ لگانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 710
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قال: حَدَّثَنَا يَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ دَخَلَ فِي الْمَكَانِ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَعْتَكِفَ فِيهِ، فَأَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ، فَأَمَرَ فَضُرِبَ لَهُ خِبَاءٌ، وَأَمَرَتْ حَفْصَةُ فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ، فَلَمَّا رَأَتْ زَيْنَبُ خِبَاءَهَا أَمَرَتْ فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" آلْبِرَّ تُرِدْنَ؟" فَلَمْ يَعْتَكِفْ فِي رَمَضَانَ وَاعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو فجر پڑھتے، پھر آپ اس جگہ میں داخل ہو جاتے جہاں آپ اعتکاف کرنے کا ارادہ فرماتے، چنانچہ آپ نے ایک رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کا ارادہ فرمایا، تو آپ نے (خیمہ لگانے کا) حکم دیا تو آپ کے لیے خیمہ لگایا گیا، ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی ایک خیمہ لگایا گیا، پھر جب ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے ان کے خیمے دیکھے تو انہوں نے بھی حکم دیا تو ان کے لیے بھی ایک خیمہ لگایا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خیمے دیکھے تو فرمایا: کیا تم لوگ اس سے نیکی کا ارادہ رکھتی ہو؟ ۱؎، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس سال) رمضان میں اعتکاف نہیں کیا (اور اس کے بدلے) شوال میں دس دنوں کا اعتکاف کیا۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 710]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو صبح کی نماز پڑھ کر اعتکاف والی جگہ میں داخل ہوتے۔ ایک دفعہ آپ نے رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کا ارادہ فرمایا، چنانچہ آپ نے حکم دیا اور آپ کے لیے (مسجد میں) ایک خیمہ لگایا گیا۔ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے حکم دیا تو ان کا خیمہ بھی لگا دیا گیا۔ جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے ان کا خیمہ لگا دیکھا تو انہوں نے بھی خیمہ لگوا لیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب کچھ دیکھا تو فرمایا: کیا یہ نیکی کا ارادہ رکھتی ہیں؟ (یعنی نہیں رکھتیں) پھر (ناراضی کی بنا پر) آپ نے اس سال رمضان میں اعتکاف نہ کیا بلکہ شوال کے دس دن اعتکاف کیا۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 710]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الاعتکاف 6 (2033)، 7 (2034)، 14 (2041)، 18 (2045)، صحیح مسلم/الاعتکاف 2 (1172)، سنن ابی داود/الصوم 77 (2464)، سنن الترمذی/الصوم 71 (791) مختصراً، سنن ابن ماجہ/الصوم 59 (1771)، (تحفة الأشراف: 17930)، مسند احمد 6/84، 226 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی بظاہر تو یہی لگتا ہے کہ تم لوگوں نے ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی یہ خیمے لگائے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 711
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قالت: أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ رَمْيَةً فِي الْأَكْحَلِ" فَضَرَبَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: غزوہ خندق (غزوہ احزاب) کے دن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے، قبیلہ قریش کے ایک شخص نے ان کے ہاتھ کی رگ ۱؎ میں تیر مارا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگایا تاکہ آپ قریب سے ان کی عیادت کر سکیں۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 711]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ جنگ خندق کے دن زخمی ہو گئے۔ ایک قریشی آدمی (حبان بن عرقہ) نے ان کے بازو کی بڑی رگ میں تیر مارا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں خیمہ لگا دیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریب سے ان کی عیادت کر لیا کریں۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 711]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 77 (463) مطولاً، المغازي 30 (4122) مطولاً، صحیح مسلم/الجھاد 22 (1769)، سنن ابی داود/الجنائز 8 (3101)، (تحفة الأشراف: 16978)، مسند احمد 6/56، 131، 280 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «اکحل» ہاتھ میں ایک رگ ہوتی ہے جسے «عرق الحیاۃ» کہتے ہیں اگر وہ کٹ جائے تو خون رکتا نہیں سارا خون بہہ جاتا ہے، اور آدمی مر جاتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں