سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ: مَنْ يُخْرَجُ مِنَ الْمَسْجِدِ
باب: کن لوگوں کو مسجد سے باہر نکالا جائے؟
حدیث نمبر: 709
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قال: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، قال: إِنَّكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ تَأْكُلُونَ مِنْ شَجَرَتَيْنِ مَا أُرَاهُمَا إِلَّا خَبِيثَتَيْنِ هَذَا الْبَصَلُ وَالثُّومُ، وَلَقَدْ" رَأَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَجَدَ رِيحَهُمَا مِنَ الرَّجُلِ، أَمَرَ بِهِ فَأُخْرِجَ إِلَى الْبَقِيعِ"، فَمَنْ أَكَلَهُمَا فَلْيُمِتْهُمَا طَبْخًا.
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگو! تم ان دونوں پودوں میں سے کھاتے ہو جنہیں میں خبیث ہی سمجھتا ہوں ۱؎ یعنی اس پیاز اور لہسن سے، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ کسی آدمی سے ان میں سے کسی کی بدبو پاتے تو اسے مسجد سے نکل جانے کا حکم دیتے، تو اسے بقیع کی طرف نکال دیا جاتا، جو ان دونوں کو کھائے تو پکا کر ان کی بو کو مار دے۔ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 709]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”اے لوگو! تم ان دو بدبودار پودوں کو کھاتے ہو، یعنی لہسن اور پیاز، حالانکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ کسی آدمی سے ان کی بو پاتے تو اس کے بارے میں آپ حکم فرماتے اور اسے بقیع (مسجد نبوی سے متصل قبرستان) کی طرف نکال دیا جاتا، لہٰذا جس نے انہیں کھانا ہی ہو، وہ انہیں پکا کر ان کی بو ختم کر لے۔“ [سنن نسائي/كتاب المساجد/حدیث: 709]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 17 (567) مطولاً، سنن ابن ماجہ/إقامة 58 (1014)، الأطعمة 59 (3363)، (تحفة الأشراف: 10646)، مسند احمد 1/15، 26، 27، 48 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مطلب یہ ہے کہ دونوں ایسی چیزیں ہیں جن کی بو ناگوار اور مکروہ ہے جب تک یہ کچے ہوں، یہ اس اعتبار سے خبیث ہیں کہ انہیں کھا کر مسجد میں جانا ممنوع ہے، البتہ پکنے کے بعد اس کا حکم بدل جائے گا، اور ان کا کھانا جائز ہو گا، اسی طرح مسجد میں جانے کا وقت نہ ہو تو اس وقت بھی ان کا کھانا جائز ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم