سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ: الاِئْتِمَامِ بِمَنْ يَأْتَمُّ بِالإِمَامِ
باب: امام کی اقتداء کرنے والے کی اقتداء کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 796
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قال: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي أَصْحَابِهِ تَأَخُّرًا فَقَالَ:" تَقَدَّمُوا فَأْتَمُّوا بِي وَلْيَأْتَمَّ بِكُمْ مَنْ بَعْدَكُمْ وَلَا يَزَالُ قَوْمٌ يَتَأَخَّرُونَ حَتَّى يُؤَخِّرَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں پیچھے رہنے کا عمل دیکھا تو آپ نے فرمایا: ”تم لوگ آگے آؤ اور میری اقتداء کرو، اور جو تمہارے بعد ہیں وہ تمہاری اقتداء کریں، یاد رکھو کچھ لوگ برابر (اگلی صفوں سے) پیچھے رہتے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ بھی انہیں (اپنی رحمت سے یا اپنی جنت سے) پیچھے کر دیتا ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 796]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ آپ کے اصحاب کچھ پیچھے پیچھے رہتے ہیں (صف اول میں شریک نہیں ہوتے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آگے بڑھو (صف اول میں کھڑے ہوا کرو) اور میری اقتدا کیا کرو، تم سے پیچھے کھڑے ہونے والے تمہاری اقتدا کریں گے اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو (اگلی صفوں سے) پیچھے ہی رہتے ہیں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ بھی انہیں (اپنی رحمت، اپنے فضل اور بلندیٔ درجات وغیرہ میں) پیچھے کر دیتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 796]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 28 (438)، سنن ابی داود/الصلاة 98 (680)، سنن ابن ماجہ/إقامة 45 (978)، (تحفة الأشراف: 4309)، مسند احمد 3/19، 34، 54 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث میں امام کے قریب کھڑے ہونے کی تاکید اور نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ترغیب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 797
أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، قَالَ: أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی ابونضرہ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 797]
عبداللہ بن مبارک نے جریری سے، انہوں نے ابونضرہ سے ”اسی طرح (اس روایت کے ہم معنی)“ بیان کیا۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 797]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 28 (438)، (تحفة الأشراف: 4331) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 798
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو دَاوُدَ، قال: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، قال: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ قَالَتْ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَكْرٍ فَصَلَّى قَاعِدًا وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَالنَّاسُ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے آگے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھائی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، اور لوگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 798]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ ”لوگوں کو نماز پڑھائیں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے تھے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھی، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 798]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16319) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 799
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ يَحْيَى، قال: حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ الرُّوَاسِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قال:" صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَأَبُو بَكْرٍ خَلْفَهُ فَإِذَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَبَّرَ أَبُو بَكْرٍ يُسْمِعُنَا".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”اللہ اکبر“ کہتے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی ”اللہ اکبر“ کہتے، وہ ہمیں (آپ کی تکبیر) سنا رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 799]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے تھے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہمیں سنانے کے لیے تکبیر کہتے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 799]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 19 (413)، (تحفة الأشراف: 2786) (صحیح)»
وضاحت: اور یہ بتار ہے تھے کہ آپ ایک حالت سے دوسری حالت میں جا رہے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم