سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابُ: حَثِّ الإِمَامِ عَلَى رَصِّ الصُّفُوفِ وَالْمُقَارَبَةِ بَيْنَهَا
باب: امام کا صفیں درست کرنے اور مل کر کھڑے ہونے کی ترغیب دلانا۔
حدیث نمبر: 815
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قال: أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَقَالَ:" أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو ہماری طرف متوجہ ہوتے، اور اللہ اکبر کہنے سے پہلے فرماتے: ”تم اپنی صفیں درست کر لو، اور سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہو جاؤ، ۱؎ کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 815]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ کہنے سے قبل ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اپنی صفیں سیدھی کرو اور مل کر کھڑے ہو کیونکہ میں تمہیں اپنے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 815]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، تحفة الأشراف: 595)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 71 (718)، 72 (719)، 76 (725)، صحیح مسلم/الصلاة 28 (434)، ویأتی عند المؤلف برقم: 846 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «تراص» کے معنی اس طرح مل کر کھڑے ہونے کے ہیں جیسے دیوار میں ایک اینٹ دوسری اینٹ کے ساتھ پیوست ہوتی ہے درمیان میں ذرا سا بھی فاصلہ اور شگاف نہیں ہوتا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 816
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ، قال: حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ، قال: حَدَّثَنَا أَبَانُ، قال حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قال: حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال:" رَاصُّوا صُفُوفَكُمْ وَقَارِبُوا بَيْنَهَا وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَى الشَّيَاطِينَ تَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ".
قتادہ کہتے ہیں کہ ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی صفیں سیسہ پلائی دیوار کی طرح درست کر لو، اور انہیں ایک دوسرے کے نزدیک رکھو، اور گردنیں ایک دوسرے کے بالمقابل رکھو کیونکہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، میں شیاطین کو صف کے درمیان ۱؎ گھستے ہوئے دیکھتا ہوں جیسے وہ بکری کے کالے بچے ہوں“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 816]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی صفوں کو ملاؤ (یعنی مل کر کھڑے ہو اور انہیں قریب قریب بناؤ، یعنی ان میں فاصلہ کم رکھو اور گردنیں ایک سیدھ میں رکھو)۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! میں شیاطین کو دیکھتا ہوں کہ وہ صفوں کے شگاف میں اس طرح داخل ہوتے ہیں جیسے کہ وہ بھیڑ بکریوں کے بچے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 816]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 94 (667)، (تحفة الأشراف: 1132)، مسند احمد 3/260، 283 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صفوں کے درمیان شگافوں میں شیطان کو گھستے ہوئے دیکھنا یا تو حقیقتاً ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو معجزے کے طور پر یہ منظر دکھایا ہو، یا بذریعہ وحی آپ کو اس سے آگاہ کیا گیا ہو کہ صفوں میں خلا رکھنے سے شیطان خوش ہوتا ہے، اور اسے وسوسہ اندازی کا موقع ملتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 817
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قال: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ" قَالُوا وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ. قَالَ:" يُتِمُّونَ الصَّفَّ الْأَوَّلَ، ثُمَّ يَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ".
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور فرمایا: ”کیا تم لوگ صف نہیں باندھو گے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس باندھتے ہیں“، لوگوں نے پوچھا: فرشتے اپنے رب کے پاس کیسے صف باندھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ پہلے اگلی صف پوری کرتے ہیں، پھر وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح صف میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں“۔ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 817]
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف تشریف لائے اور فرمایا: ”تم اس طرح صف بندی کیوں نہیں کرتے جس طرح فرشتے اپنے رب تعالیٰ کے ہاں صف بندی کرتے ہیں؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: ”فرشتے اپنے رب کے پاس کیسے صف بندی کرتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(پہلے) صفِ اول کو پورا کرتے ہیں نیز صفوں میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الإمامة/حدیث: 817]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 27 (430) مطولاً، سنن ابی داود/الصلاة 94 (661)، سنن ابن ماجہ/إقامة 50 (992)، (تحفة الأشراف: 2127)، مسند احمد 5/101، 106 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم