صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
62. بَابُ إِذَا تَحَوَّلَتِ الصَّدَقَةُ:
باب: جب صدقہ محتاج کی ملکیت ہو جائے۔
حدیث نمبر: 1494
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَة رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَقَالَ: هَلْ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟ , فَقَالَتْ: لَا، إِلَّا شَيْءٌ بَعَثَتْ بِهِ إِلَيْنَا نُسَيْبَةُ مِنَ الشَّاةِ الَّتِي بَعَثَتْ بِهَا مِنَ الصَّدَقَةِ، فَقَالَ: إِنَّهَا قَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا ‘ ان سے حفصہ بنت سیرین نے اور ان سے ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے یہاں تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ نہیں کوئی چیز نہیں۔ ہاں نسیبہ رضی اللہ عنہا کا بھیجا ہوا اس بکری کا گوشت ہے جو انہیں صدقہ کے طور پر ملی ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لاؤ خیرات تو اپنے ٹھکانے پہنچ گئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1494]
حضرت ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے تو فرمایا: ”تمہارے پاس کچھ (کھانے کے لیے) ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: کچھ نہیں، البتہ صدقے کی اس بکری کا گوشت موجود ہے جو آپ نے حضرت نسیبہ کو بھیجی تھی، اس نے گوشت ہمیں بھیجا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(لاؤ) وہ تو اپنے مقام پر پہنچ چکی ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1494]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1495
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ," أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ، فَقَالَ: هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ"، وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، سَمِعَ أَنَسًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ قتادہ سے اور وہ انس رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وہ گوشت پیش کیا گیا جو بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ کے طور پر ملا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کو یہ گوشت ان پر صدقہ تھا۔ لیکن ہمارے لیے یہ ہدیہ ہے۔ ابوداؤد نے کہا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی۔ انہیں قتادہ نے کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1495]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ گوشت لایا گیا جو حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کو بطور صدقہ دیا گیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بریرہ رضی اللہ عنہا کے لیے تو صدقہ تھا لیکن ہمارے لیے ہدیہ ہے“، ابوداود رحمہ اللہ نے کہا: ہمیں شعبہ رحمہ اللہ نے خبر دی، انہیں قتادہ رحمہ اللہ نے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الزَّكَاة/حدیث: 1495]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة