سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ: التَّحَرِّي
باب: (نماز شک ہونے کی صورت میں) تحری (صحیح بات جاننے کی کوشش) کا بیان۔
حدیث نمبر: 1251
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ: ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ , أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ شَيْبَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ".
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنی نماز میں شک کرے تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1251]
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنی نماز میں شک کرے تو وہ سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1251]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1249 (ضعیف) (دیکھئے پچھلی دونوں روایتیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1252
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , وَرَوْحٌ هُوَ ابْنُ عُبَادَةَ , عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسَافِعٍ , أَنَّ مُصْعَبَ بْنَ شَيْبَةَ أَخْبَرَهُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَالَ:" مَنْ شَكَّ فِي صَلَاتِهِ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ" , قَالَ حَجَّاجٌ: بَعْدَ مَا يُسَلِّمُ , وَقَالَ رَوْحٌ: وَهُوَ جَالِسٌ.
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اپنی نماز میں شک کرے تو وہ دو سجدے کرے“، حجاج کی روایت میں ہے: ”سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کرے“، اور روح کی روایت میں ہے: ”بیٹھے بیٹھے (دو سجدے کرے)“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1252]
حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص کو اپنی نماز میں شک ہو جائے تو وہ سلام کے بعد بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1252]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1249 (ضعیف) (دیکھئے پچھلی روایات)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 1253
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي جَاءَهُ الشَّيْطَانُ فَلَبَسَ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى , فَإِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ذَلِكَ , فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں کوئی کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے تو شیطان اس کے پاس آتا ہے، اور اس پر اس کی نماز کو گڈمڈ کر دیتا ہے، یہاں تک کہ وہ نہیں جان پاتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی ایسا محسوس کرے تو بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1253]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان آکر اس پر اس کی نماز مشتبہ کر دیتا ہے حتیٰ کہ اسے پتہ نہیں چلتا کہ کتنی نماز پڑھی ہے، جب تم میں سے کوئی شخص یہ صورت حال پائے تو (یقین کے مطابق نماز مکمل کرکے سلام پھیرے اور) بیٹھے بیٹھے دو سجدے کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1253]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/السھو 7 (1232)، صحیح مسلم/الصلاة 8 (389)، سنن ابی داود/الصلاة 198 (1030)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الصلاة 1 (6)، (تحفة الأشراف: 15244) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1254
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ , فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ حَتَّى لَا يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى , فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ ذَلِكَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان ہوا خارج کرتے ہوئے پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، پھر جب اقامت کہہ دی جاتی ہے تو وہ واپس لوٹ آتا ہے یہاں تک کہ آدمی کے دل میں گھس کر وسوسے ڈالتا ہے، یہاں تک کہ وہ جان نہیں پاتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی، لہٰذا جب تم میں سے کوئی اس قسم کی صورت حال دیکھے تو وہ دو سجدے کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1254]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اذان کہی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا بھاگ جاتا ہے۔ جب اقامت پوری ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے حتیٰ کہ نمازی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اسے پتا نہیں چلتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے؟ جب تم میں سے کوئی شخص یہ صورت حال دیکھے (محسوس کرے) تو (نماز یقین کے مطابق مکمل کرنے کے بعد) دو سجدے کرے۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1254]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/السہو 7 (1231)، صحیح مسلم/الصلاة 8 (398)، مسند احمد 2/522، سنن الدارمی/الصلاة 174 (1535)، (تحفة الأشراف: 15423) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه