🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

64. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ
باب: ایک اور طرح کے تعوذ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1309
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , فَقَالَ:" نَعَمْ , عَذَابُ الْقَبْرِ حَقٌّ" , قَالَتْ: عَائِشَةُ فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةً بَعْدُ:" إِلَّا تَعَوَّذَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قبر کے عذاب کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: ہاں، قبر کا عذاب برحق ہے، اس کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نماز پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا جس میں آپ نے قبر کے عذاب سے پناہ نہ مانگی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1309]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجنائز 86 (1372)، الدعوات 37 (6366)، صحیح مسلم/المساجد 24 (586)، (تحفة الأشراف: 17660)، مسند احمد 6/174 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1310
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَدْعُو فِي الصَّلَاةِ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ , وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ , اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ" , فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ: مَا أَكْثَرَ مَا تَسْتَعِيذُ مِنَ الْمَغْرَمِ , فَقَالَ:" إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ , وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں دعا مانگتے: «اللہم إني أعوذ بك من عذاب القبر وأعوذ بك من فتنة المسيح الدجال وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات اللہم إني أعوذ بك من المأثم والمغرم‏» اے اللہ! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے، اور پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کے فتنہ سے، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوں زندگی اور موت کے فتنہ سے، اے اللہ! میں تجھ سے گناہ اور قرض سے پناہ چاہتا ہوں تو کہنے والے نے آپ سے کہا: آپ قرض سے اتنا زیادہ کیوں پناہ مانگتے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی جب مقروض ہوتا ہے تو بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، اور وعدہ کرتا ہے تو اس کے خلاف کرتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1310]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 149 (832)، الاستقراض 10 (2397) مختصراً، صحیح مسلم/المساجد 25 (589)، سنن ابی داود/الصلاة 153 (880)، مسند احمد 6/89، 244، ویأتی عند المؤلف فی الاستعاذة (برقم: 5456) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1311
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ , عَنِ الْمُعَافَى , عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ. ح وَأَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ , عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ وَاللَّفْظُ لَهُ , عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ , عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَشَهَّدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ , وَعَذَابِ الْقَبْرِ , وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ , وَمِنْ شَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ , ثُمَّ يَدْعُو لِنَفْسِهِ بِمَا بَدَا لَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی تشہد پڑھے، تو وہ چار چیزوں سے اللہ کی پناہ چاہے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، زندگی اور موت کے فتنے سے، اور مسیح دجال کے شر سے، پھر وہ اپنے لیے جو جی چاہے دعا کرے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1311]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المساجد 25 (588)، سنن ابی داود/الصلاة 184 (983)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 26 (909)، (تحفة الأشراف: 14587)، مسند احمد 2/237، سنن الدارمی/الصلاة 86 (1383) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں