سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
85. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنَ الْقَوْلِ عِنْدَ انْقِضَاءِ الصَّلاَةِ
باب: نماز کے اختتام پر ایک دوسری تہلیل و ذکر کا بیان۔
حدیث نمبر: 1342
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدَةَ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ , وَسَمِعْتُهُ مِنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرِ , كِلَاهُمَا سَمِعَهُ مِنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ , اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ , وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے منشی وراد کہتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتائیے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ چکتے تو کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير اللہم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ”نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہت ہے، اور اسی کے لیے حمد ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور مالدار کی مالداری تیرے عذاب سے بچا نہیں سکتی“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1342]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب حضرت وراد رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو لکھا: مجھے کسی ایسی چیز کی خبر دیجیے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو۔ تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز مکمل فرما لیتے تو یوں پڑھتے: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» ”اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (حقیقی) معبود نہیں۔ وہ یکتا ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں۔ اسی کے لیے ہے بادشاہت اور تمام تعریفیں، اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! نہیں کوئی روکنے والا اس چیز کو جو تو دے اور نہ کوئی اس چیز کو عطا کرنے والا ہے جو تو نہ دے اور کسی صاحبِ حیثیت کو اس کی حیثیت تیرے مقابلے میں مفید نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1342]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 155 (844)، الدعوات 18 (6330)، الرقاق 22 (6473)، القدر 12 (6615)، الاعتصام 3 (7292)، صحیح مسلم/المساجد 26 (593)، سنن ابی داود/الصلاة 360 (1505)، (تحفة الأشراف: 11535)، مسند احمد 4/245، 247، 250، 251، 254، 255، سنن الدارمی/الصلاة 88 (1389)، ویأتي عند المؤلف برقم: 1343، 1344 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1343
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْمُسَيَّبِ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ وَرَّادٍ، قَالَ: كَتَبَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ إِلَى مُعَاوِيَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يَقُولُ دُبُرَ الصَّلَاةِ إِذَا سَلَّمَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ , لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ , اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ , وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ , وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ".
وراد کہتے ہیں کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے بعد جب سلام پھیرتے تو کہتے: «لا إله إلا اللہ وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شىء قدير اللہم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ”نہیں ہے کوئی حقیقی معبود سوائے اللہ کے، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے سلطنت و حکومت ہے، اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک دے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور نہ مالدار کی مالداری تیرے عذاب سے بچا سکے گی“۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1343]
حضرت وراد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیر کر یوں پڑھتے تھے: «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اَللّٰهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ» ”اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی (حقیقی) معبود نہیں۔ وہ یکتا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کے لیے ہے بادشاہی اور اسی کے لیے ہے سب تعریف اور وہ ہر چیز پر خوب قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! کوئی اس چیز کو روکنے والا نہیں جو تو دے اور نہ کوئی وہ چیز دینے والا ہے جو تو روک دے اور کسی صاحب حیثیت کو اس کی حیثیت تیرے مقابلے میں مفید نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1343]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح