الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 

سنن نسائي کل احادیث 5761 :حدیث نمبر
سنن نسائي
كتاب الكسوف
کتاب: (چاند، سورج) گرہن کے احکام و مسائل
The Book of Eclipses
11. بَابُ: نَوْعٌ آخَرُ مِنْهُ عَنْ عَائِشَةَ،
باب: ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی سورج گرہن کی نماز کی ایک اور قسم کا بیان۔
Chapter: Another version narrated from Aishah
حدیث نمبر: 1473
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا محمد بن سلمة، عن ابن وهب، عن يونس، عن ابن شهاب، قال: اخبرني عروة بن الزبير، عن عائشة، قالت:" خسفت الشمس في حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم فقام فكبر وصف الناس وراءه، فاقترا رسول الله صلى الله عليه وسلم قراءة طويلة، ثم كبر فركع ركوعا طويلا، ثم رفع راسه , فقال: سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد، ثم قام فاقترا قراءة طويلة هي ادنى من القراءة الاولى، ثم كبر فركع ركوعا طويلا هو ادنى من الركوع الاول، ثم قال: سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد، ثم سجد، ثم فعل في الركعة الاخرى مثل ذلك، فاستكمل اربع ركعات واربع سجدات وانجلت الشمس قبل ان ينصرف، ثم قام فخطب الناس فاثنى على الله عز وجل بما هو اهله، ثم قال:" إن الشمس والقمر آيتان من آيات الله تعالى لا يخسفان لموت احد ولا لحياته، فإذا رايتموهما فصلوا حتى يفرج عنكم". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" رايت في مقامي هذا كل شيء وعدتم، لقد رايتموني اردت ان آخذ قطفا من الجنة حين رايتموني جعلت اتقدم، ولقد رايت جهنم يحطم بعضها بعضا حين رايتموني تاخرت، ورايت فيها ابن لحي وهو الذي سيب السوائب".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ فَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ تَعَالَى لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا حَتَّى يُفْرَجَ عَنْكُمْ". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَقَالَ رَسُولُ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رَأَيْتُ فِي مَقَامِي هَذَا كُلَّ شَيْءٍ وُعِدْتُمْ، لَقَدْ رَأَيْتُمُونِي أَرَدْتُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّةِ حِينَ رَأَيْتُمُونِي جَعَلْتُ أَتَقَدَّمُ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ، وَرَأَيْتُ فِيهَا ابْنَ لُحَيٍّ وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ السَّوَائِبَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن لگا تو آپ (نماز کے لیے) کھڑے ہوئے، اور تکبیر کہی، اور لوگوں نے آپ کے پیچھے صفیں باندھیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی لمبی قرآت کی، پھر «اللہ اکبر» کہا، اور ایک لمبا رکوع کیا، پھر اپنا سر اٹھایا، تو «سمع اللہ لمن حمده ربنا لك الحمد» کہا، پھر آپ کھڑے رہے، اور ایک لمبی قرآت کی مگر پہلی قرآت سے کم، پھر تکبیر کہی، اور ایک لمبا رکوع کیا، مگر پہلے رکوع سے چھوٹا، پھر آپ نے «سمع اللہ لمن حمده ربنا لك الحمد» کہا، پھر سجدہ کیا، پھر دوسری رکعت میں بھی آپ نے اسی طرح کیا، اس طرح آپ نے چار رکوع اور چار سجدے پورے کیے، آپ کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی سورج صاف ہو گیا، پھر آپ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو خطاب کیا، تو اللہ تعالیٰ کی ثنا بیان کی جو اس کے شایان شان تھی، پھر فرمایا: بلاشبہ سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، انہیں نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے، نہ کسی کے پیدا ہونے سے، جب تم انہیں دیکھو تو نماز پڑھو، جب تک کہ وہ تم سے چھٹ نہ جائے، نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے اس کھڑے ہونے کی جگہ میں ہر وہ چیز دیکھ لی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے، تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا، میں نے چاہا کہ جنت کے پھلوں میں سے ایک گچھا توڑ لوں، جب تم نے مجھے دیکھا میں آگے بڑھا تھا، اور میں نے جہنم کو دیکھا، اس حال میں کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کو توڑ رہا تھا جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا، اور میں نے اس میں ابن لحی کو دیکھا ۱؎، یہی ہے جس نے سب سے پہلے سائبہ چھوڑا ۲؎۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الکسوف 4 (1046)، 5 (1047)، 13 (1058)، العمل فی ال صلاة 11 (1212)، بدء الخلق 4 (3203)، صحیح مسلم/الکسوف 1 (901)، سنن ابی داود/الصلاة 262 (1180) مختصراً، سنن ابن ماجہ/الإقامة 152 (1263)، (تحفة الأشراف: 16692) (صحیح)»

وضاحت:
۱؎: اس کا نام عمرو ہے اور باپ کا نام عامر ہے اور لقب لحی ہے۔ ۲؎: سائبہ ایسی اونٹنی کو کہتے ہیں جسے بتوں کے نام پر آزاد چھوڑ دیا گیا ہو، اور اس سے سواری اور بار برداری کا کوئی کام نہ لیا جاتا ہو۔

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 1474
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا إسحاق بن إبراهيم، قال: حدثنا الوليد بن مسلم، عن الاوزاعي، عن الزهري، عن عروة، عن عائشة، قالت:" خسفت الشمس على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فنودي الصلاة جامعة فاجتمع الناس فصلى بهم رسول الله صلى الله عليه وسلم اربع ركعات في ركعتين واربع سجدات".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُودِيَ الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعَ النَّاسُ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو «الصلاة جامعة» (صلاۃ باجماعت ہو گی) کی منادی کرائی گئی، چنانچہ لوگ اکٹھا ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو رکعت میں چار رکوع اور چار سجدے کئے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1466 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 1475
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا قتيبة، عن مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عائشة، قالت:" خسفت الشمس في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم بالناس، فقام فاطال القيام ثم ركع فاطال الركوع، ثم قام فاطال القيام وهو دون القيام الاول ثم ركع فاطال الركوع وهو دون الركوع الاول، ثم رفع فسجد، ثم فعل ذلك في الركعة الاخرى مثل ذلك، ثم انصرف وقد تجلت الشمس، فخطب الناس فحمد الله واثنى عليه، ثم قال:" إن الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا يخسفان لموت احد ولا لحياته، فإذا رايتم ذلك فادعوا الله عز وجل وكبروا وتصدقوا"، ثم قال:" يا امة محمد , ما من احد اغير من الله عز وجل ان يزني عبده او تزني امته، يا امة محمد , والله لو تعلمون ما اعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا".
(مرفوع) أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَسَجَدَ، ثُمَّ فَعَلَ ذَلِكَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَبِّرُوا وَتَصَدَّقُوا"، ثُمَّ قَالَ:" يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ , مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ , وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی، آپ نے لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر لمبا قیام کیا، اور یہ پہلے قیام سے کم تھا، پھر لمبا رکوع کیا، اور یہ پہلے رکوع سے کم تھا، پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا، اور سجدہ کیا، پھر آپ نے دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا، پھر آپ فارغ ہوئے اس حال میں کہ سورج صاف ہو چکا تھا، تو آپ نے لوگوں کو خطاب کیا، پہلے آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، ان دونوں کو نہ کسی کے مرنے سے گرہن لگتا ہے، اور نہ ہی کسی کے جینے سے، تو جب تم اسے دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرو، اور اس کی بڑائی بیان کرو، اور صدقہ کرو، پھر آپ نے فرمایا: اے امت محمد! اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی اس بات پر غیرت کرنے والا نہیں کہ اس کا غلام یا لونڈی زنا کرے، اے امت محمد! قسم اللہ کی، اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں، تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الکسوف 2 (1044)، صحیح مسلم/الکسوف 1 (901)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 265 (1191)، (تحفة الأشراف: 17148)، موطا امام مالک/الکسوف 1 (1)، سنن الدارمی/الصلاة 187 (1570) (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح
حدیث نمبر: 1476
Save to word مکررات اعراب
(مرفوع) اخبرنا محمد بن سلمة، عن ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، عن يحيى بن سعيد، ان عمرة حدثته، ان عائشة حدثتها , ان يهودية اتتها , فقالت: اجارك الله من عذاب القبر , قالت عائشة: يا رسول الله , إن الناس ليعذبون في القبور؟، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" عائذا بالله" , قالت عائشة:" إن النبي صلى الله عليه وسلم خرج مخرجا فخسفت الشمس فخرجنا إلى الحجرة فاجتمع إلينا نساء , واقبل إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم وذلك ضحوة، فقام قياما طويلا ثم ركع ركوعا طويلا، ثم رفع راسه فقام دون القيام الاول ثم ركع دون ركوعه، ثم سجد، ثم قام الثانية فصنع مثل ذلك، إلا ان ركوعه وقيامه دون الركعة الاولى , ثم سجد وتجلت الشمس، فلما انصرف قعد على المنبر , فقال فيما يقول:" إن الناس يفتنون في قبورهم كفتنة الدجال" , قالت عائشة: كنا نسمعه بعد ذلك يتعوذ من عذاب القبر.
(مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ عَمْرَةَ حَدَّثَتْهُ، أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا , أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتْهَا , فَقَالَتْ: أَجَارَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ النَّاسَ لَيُعَذَّبُونَ فِي الْقُبُورِ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَائِذًا بِاللَّهِ" , قَالَتْ عَائِشَةُ:" إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مَخْرَجًا فَخَسَفَتِ الشَّمْسُ فَخَرَجْنَا إِلَى الْحُجْرَةِ فَاجْتَمَعَ إِلَيْنَا نِسَاءٌ , وَأَقْبَلَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَلِكَ ضَحْوَةً، فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ دُونَ رُكُوعِهِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَصَنَعَ مِثْلَ ذَلِكَ، إِلَّا أَنَّ رُكُوعَهُ وَقِيَامَهُ دُونَ الرَّكْعَةِ الْأُولَى , ثُمَّ سَجَدَ وَتَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ , فَقَالَ فِيمَا يَقُولُ:" إِنَّ النَّاسَ يُفْتَنُونَ فِي قُبُورِهِمْ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: كُنَّا نَسْمَعُهُ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی، اور کہنے لگی: اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے بچائے، یہ سنا تو عائشہ نے پوچھا: اللہ کے رسول! لوگوں کو قبر میں بھی عذاب دیا جائے گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی پناہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں جانے کے لیے نکلے اتنے میں سورج گرہن لگ گیا، تو ہم حجرہ میں چلے گئے، یہ دیکھ کر دوسری عورتیں بھی ہمارے پاس جمع ہو گئیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور یہ چاشت کا وقت تھا، آپ نماز کے لیے کھڑے ہوئے، آپ نے نماز میں لمبا قیام کیا، پھر لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اٹھایا، تو قیام کیا پہلے قیام سے کم، پھر آپ نے رکوع کیا، اپنے پہلے رکوع سے کم، پھر سجدہ کیا، پھر آپ دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے، تو اسی طرح کیا مگر دوسری رکعت میں آپ کا رکوع اور قیام پہلی رکعت سے کم تھا، پھر آپ نے سجدہ کیا، اور سورج صاف ہو گیا، تو جب آپ فارغ ہوئے، تو منبر پر بیٹھے، اور جو باتیں کہنی تھیں کہیں، اس میں ایک بات یہ بھی تھی: کہ لوگ اپنی قبروں میں آزمائے جائیں گے، جیسے دجال کے فتنے میں آزمائے جائیں گے، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس کے بعد سے برابر ہم آپ کو قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے ہوئے سنتے تھے۔

تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الکسوف 7 (1049)، 12 (1055)، صحیح مسلم/الکسوف 2 (903)، (تحفة الأشراف: 17936)، موطا امام مالک/الکسوف 1 (3)، مسند احمد 6/35، سنن الدارمی/الصلاة 187 (1568، 1573)، ویأتی عند المؤلف برقم: 1477، 1500 (صحیح)»

قال الشيخ الألباني: صحيح

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.