سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
18. بَابُ: كَيْفَ يَفْعَلُ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاَةَ قَائِمًا وَذِكْرِ اخْتِلاَفِ النَّاقِلِينَ عَنْ عَائِشَةَ فِي ذَلِكَ
باب: جب نماز کھڑے ہو کر شروع کرے تو کیسے کرے؟ اور اس باب میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرنے والوں کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 1647
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ بُدَيْلٍ , وَأَيُّوبُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا , وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا".
بدیل اور ایوب دونوں عبداللہ بن شفیق سے روایت کرتے ہیں، اور وہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں کافی دیر تک نماز پڑھتے، تو جب آپ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو کھڑے کھڑے ہی رکوع کرتے، اور جب بیٹھ کر پڑھتے تو بیٹھ کر رکوع کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1647]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو بہت دیر تک نماز پڑھتے رہتے، جب آپ کھڑے ہوکر نماز شروع فرماتے تو رکوع بھی کھڑے ہوکر ہی فرماتے اور جب بیٹھ کر نماز شروع فرماتے تو رکوع بھی بیٹھ کر ہی فرماتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1647]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 16 (730)، سنن ابی داود/الصلاة 179 (955)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 159 (375)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 140 (1228)، (تحفة الأشراف: 16201)، 16203)، مسند احمد 6/100، 227، 261، 262، 265 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1648
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، قال: أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ، قال: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَائِمًا وَقَاعِدًا، فَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا , وَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا".
ابن سیرین عبداللہ بن شفیق سے اور عبداللہ بن شقیق ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کھڑے ہو کر اور کبھی بیٹھ کر نماز پڑھتے، تو جب آپ کھڑے ہو کر نماز شروع کرتے تو کھڑے کھڑے رکوع کرتے، اور جب بیٹھ کر شروع کرتے تو بیٹھے بیٹھے ہی رکوع کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1648]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کھڑے ہوکر نفل نماز پڑھتے تھے اور کبھی بیٹھ کر۔ جب کھڑے ہوکر نماز شروع فرماتے تو رکوع بھی کھڑے ہوکر فرماتے اور جب بیٹھ کر نماز شروع فرماتے تو رکوع بھی بیٹھ کر فرماتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1648]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 16 (730)، (تحفة الأشراف: 16222)، مسند احمد 6/112، 113، 166، 204، 227، 228، 262 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1649
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ الْقَاسِمِ، عَنْ مَالِكٍ، قال: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , وَأَبُو النَّضْرِ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي وَهُوَ جَالِسٌ فَيَقْرَأُ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِذَا بَقِيَ مِنْ قِرَاءَتِهِ قَدْرَ مَا يَكُونُ ثَلَاثِينَ أَوْ أَرْبَعِينَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ رَكَعَ ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ يَفْعَلُ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور بیٹھے ہوتے، اور قرآت کرتے اور بیٹھے ہوتے، پھر جب آپ کی قرآت میں تیس یا چالیس آیتوں کے بقدر باقی رہ جاتی تو کھڑے ہو جاتے، اور کھڑے ہو کر قرآت کرتے، پھر رکوع کرتے، پھر سجدہ کرتے، پھر دوسری رکعت میں (بھی) ایسے ہی کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1649]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز شروع فرماتے تو بیٹھے بیٹھے ہی قراءت فرماتے۔ جب آپ کی قراءت سے تیس یا چالیس آیات باقی رہ جاتیں تو آپ کھڑے ہوجاتے اور وہ آیات کھڑے ہوکر تلاوت فرماتے، پھر رکوع فرماتے، پھر سجدہ فرماتے، پھر دوسری رکعت میں بھی ایسے ہی کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1649]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 20 (1119)، التھجد 16 (1148)، صحیح مسلم/المسافرین 16 (731)، سنن ابی داود/الصلاة 179 (954)، سنن الترمذی/الصلاة 159 (374)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/الإقامة 140 (1227)، (تحفة الأشراف: 17709)، موطا امام مالک/الجماعة 7 (23)، مسند احمد 6/178 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1650
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قال: أَنْبَأَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قال: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى جَالِسًا حَتَّى دَخَلَ فِي السِّنِّ، فَكَانَ يُصَلِّي وَهُوَ جَالِسٌ يَقْرَأُ، فَإِذَا غَبَرَ مِنَ السُّورَةِ ثَلَاثُونَ أَوْ أَرْبَعُونَ آيَةً قَامَ فَقَرَأَ بِهَا ثُمَّ رَكَعَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھی ہو یہاں تک کہ آپ بوڑھے ہو گئے، تو (جب آپ بوڑھے ہو گئے) تو آپ بیٹھ کر نماز پڑھتے اور بیٹھ کر قرآت کرتے، پھر جب سورۃ میں سے تیس یا چالیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو ان کی قرآت کھڑے ہو کر کرتے، پھر رکوع کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1650]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نماز پڑھتے نہیں دیکھا حتیٰ کہ آپ بڑھاپے میں داخل ہو گئے، پھر آپ بیٹھ کر نماز شروع فرماتے اور قراءت کرتے، جب اس سورت کی تیس چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہو کر انہیں پڑھتے، پھر رکوع فرماتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1650]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 17139) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 1651
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قال: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، قال: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ إِنْسَانٌ أَرْبَعِينَ آيَةً".
عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآت کرتے اور بیٹھے ہوتے، تو جب آپ رکوع کرنا چاہتے تو آدمی کے چالیس آیتیں پڑھنے کے بقدر (باقی رہنے پر) کھڑے ہو جاتے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1651]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کبھی) قراءت بیٹھ کر کرتے، جب رکوع کا ارادہ فرماتے تو اتنی دیر پہلے کھڑے ہو جاتے جتنی دیر میں انسان چالیس آیات پڑھ سکتا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1651]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 16 (731)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 140 (1226)، (تحفة الأشراف: 17950)، مسند احمد 6/217 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1652
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، قال: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ، قال: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: مَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: أَنَا سَعْدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ , قَالَتْ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَاكَ , قُلْتُ: أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ وَكَانَ , قُلْتُ: أَجَلْ , قَالَتْ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ صَلَاةَ الْعِشَاءِ ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ فَيَنَامُ، فَإِذَا كَانَ جَوْفُ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى حَاجَتِهِ وَإِلَى طَهُورِهِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَيُصَلِّي ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ يَضَعُ جَنْبَهُ فَرُبَّمَا جَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُغْفِيَ وَرُبَّمَا يُغْفِي وَرُبَّمَا شَكَكْتُ أَغْفَى أَوْ لَمْ يُغْفِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ، فَكَانَتْ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَسَنَّ وَلُحِمَ، فَذَكَرَتْ مِنْ لَحْمِهِ مَا شَاءَ اللَّهُ , قَالَتْ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ , فَإِذَا كَانَ جَوْفُ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى طَهُورِهِ وَإِلَى حَاجَتِهِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ، فَيُصَلِّي سِتَّ رَكَعَاتٍ يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُ يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الْقِرَاءَةِ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ ثُمَّ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، ثُمَّ يَضَعُ جَنْبَهُ وَرُبَّمَا جَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُغْفِيَ وَرُبَّمَا أَغْفَى وَرُبَّمَا شَكَكْتُ أَغْفَى أَمْ لَا حَتَّى يُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ , قَالَتْ: فَمَا زَالَتْ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سعد بن ہشام بن عامر کہتے ہیں میں مدینہ آیا تو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں سعد بن ہشام بن عامر ہوں، انہوں نے کہا: اللہ تمہارے باپ پر رحم کرے، میں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق کچھ بتائیے، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ایسا کرتے تھے، میں نے کہا: اچھا، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں عشاء کی نماز پڑھتے تھے، پھر آپ اپنے بچھونے کی طرف آتے اور سو جاتے، پھر جب آدھی رات ہوتی، تو قضائے حاجت کے لیے اٹھتے اور وضو کے پانی کے پاس آتے، اور وضو کرتے، پھر مسجد آتے اور آٹھ رکعتیں پڑھتے، تو پھر ایسا محسوس ہوتا کہ ان میں قرآت، رکوع اور سجدے سب برابر برابر ہیں، اور ایک رکعت وتر پڑھتے، پھر بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے، پھر آپ اپنے پہلو کے بل لیٹ جاتے، تو کبھی اس سے پہلے کہ آپ کی آنکھ لگے بلال رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آتے، اور آپ کو نماز کی اطلاع دیتے، اور کبھی آپ کی آنکھ لگ جاتی، اور کبھی مجھے شک ہوتا کہ آپ سوئے یا نہیں سوئے یہاں تک کہ وہ آپ کو نماز کی خبر دیتے، تو یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تھی، یہاں تک کہ آپ عمردراز ہو گئے، اور جسم پر گوشت چڑھ گیا، پھر انہوں نے آپ کے جسم پر گوشت چڑھنے کا حال بیان کیا جو اللہ نے چاہا، وہ کہتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھاتے، پھر اپنے بچھونے کی طرف آتے، تو جب آدھی رات ہو جاتی تو آپ اپنی پاکی اور حاجت کے لیے اٹھ کر جاتے، پھر وضو کرتے، پھر مسجد آتے تو چھ رکعتیں پڑھتے، ایسا محسوس ہوتا کہ آپ ان میں قرآت، رکوع اور سجدے میں برابری رکھتے ہیں، پھر آپ ایک رکعت وتر پڑھتے، پھر دو رکعت بیٹھ کر پڑھتے، پھر اپنے پہلو کے بل لیٹتے تو کبھی بلال رضی اللہ عنہ آپ کی آنکھ لگنے سے پہلے ہی آ کر نماز کی اطلاع دیتے، اور کبھی آنکھ لگ جانے پر آتے، اور کبھی مجھے شک ہوتا کہ آپ کی آنکھ لگی یا نہیں یہاں تک کہ وہ آپ کو نماز کی خبر دیتے، وہ کہتی ہیں: تو برابر یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز رہی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1652]
حضرت سعد بن ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مدینہ منورہ آیا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے پوچھا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: ہشام بن عامر کا بیٹا سعد ہوں۔ فرمانے لگیں: اللہ تعالیٰ تیرے باپ پر رحم فرمائے۔ میں نے عرض کیا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (رات کی نفل) نماز کے بارے میں بتائیے۔ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو بہت بلند و بالا شخصیت تھے۔ میں نے کہا: یقیناً ایسا ہی ہے۔ فرمانے لگیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو عشاء کی نماز پڑھتے، پھر اپنے بستر پر لیٹ کر سو جاتے۔ جب آدھی رات گزر جاتی تو اٹھ کر قضائے حاجت کرتے اور پانی لے کر وضو کرتے، پھر (اپنے گھر کی) مسجد میں داخل ہو جاتے اور آٹھ رکعات پڑھتے۔ مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں قراءت، رکوع اور سجدے برابر کرتے تھے، پھر ایک رکعت پڑھتے اور اس کے بعد بیٹھ کر دو رکعت پڑھتے، پھر لیٹ جاتے، پھر کبھی تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سونے سے پہلے ہی آ کر نماز کی اطلاع کرتے اور کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہلکی سی نیند لے لیتے تھے اور کبھی مجھے شک سا ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوئے ہوئے ہیں یا نہیں، حتیٰ کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع کرتے۔ تو یہ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک بڑھ گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فربہ ہو گئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فربہ ہونے کے بارے میں چند باتیں ذکر کیں، پھر انہوں نے فرمایا: (اس عمر میں) نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو عشاء کی نماز پڑھاتے، پھر اپنے بستر پر لیٹ جاتے۔ جب نصف رات گزر جاتی تو اٹھتے اور قضائے حاجت کرتے اور وضو کا پانی لے کر وضو فرماتے، پھر مسجد (گھر میں نماز کے لیے مخصوص جگہ) میں داخل ہو جاتے اور چھ رکعات پڑھتے۔ مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں قراءت، رکوع اور سجدہ ایک جیسا کرتے تھے، پھر ایک رکعت پڑھتے، پھر بیٹھ کر دو رکعات پڑھتے، پھر لیٹ جاتے۔ کبھی تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سونے سے پہلے ہی آ کر نماز کی اطلاع کرتے۔ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہلکی سی نیند لے لیتے تھے اور کبھی مجھے شک رہتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ہیں یا نہیں، حتیٰ کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز کی اطلاع کرتے۔ (وفات تک) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی (رات کی) نماز یہی رہی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1652]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الصلاة 316 (1352)، (تحفة الأشراف: 16096)، مسند احمد 6/91، 97، 168، 216، 227، 235، ویأتي عند المؤلف بأرقام: 1723، 1725 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (1352) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 334