سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ: صَلاَةِ الْقَاعِدِ فِي النَّافِلَةِ وَذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى أَبِي إِسْحَاقَ فِي ذَلِكَ
باب: نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان اور اس سلسلہ میں ابواسحاق سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 1653
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ حَدِيثِ أَبِي عَاصِمٍ، قال: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قال: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْتَنِعُ مِنْ وَجْهِي وَهُوَ صَائِمٌ، وَمَا مَاتَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ قَاعِدًا، ثُمَّ ذَكَرَتْ كَلِمَةً مَعْنَاهَا إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ، وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ مَا دَامَ عَلَيْهِ الْإِنْسَانُ وَإِنْ كَانَ يَسِيرًا" , خَالَفَهُ يُونُسُ , رَوَاهُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں میرے چہرے سے نہیں بچتے تھے ۱؎ اور آپ کی وفات نہیں ہوئی یہاں تک کہ آپ کی بیشتر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں، سوائے فرض نماز کے، اور سب سے زیادہ پسندیدہ عمل آپ کے نزدیک وہ تھا جس پر آدمی مداومت کرے اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو۔ یونس نے عمر بن ابی زائدہ کی مخالفت کی ہے یونس نے اسے ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے اسود سے اور اسود نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1653]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں میرے چہرے (کے بوسے) سے پرہیز نہیں فرماتے تھے اور جب آپ قریب الوفات تھے تو فرض نماز کے علاوہ آپ کی اکثر نماز بیٹھ کر ہوتی تھی۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک زیادہ پسندیدہ عمل وہ ہوتا تھا جس پر انسان ہمیشگی کرے چاہے وہ تھوڑا ہی ہو۔ یونس نے اس روایت کو ابو اسحاق سے بیان کرتے ہوئے عمر بن ابی زائدہ کی مخالفت کی ہے اور یہ روایت عن ابی اسحاق عن الاسود عن حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی سند سے بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1653]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 16032)، مسند احمد 6/113، 250 (صحیح) (آگے آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ درجہ کی ہے)»
وضاحت: ۱؎: یعنی روزے کی حالت میں بوسہ وغیرہ لینے سے پرہیز نہیں کرتے تھے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1654
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ، قال: حَدَّثَنَا النَّضْرُ، قال: أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" مَا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ جَالِسًا إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ" , خَالَفَهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ، وَقَالَا: عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ کی بیشتر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں سوائے فرض نماز کے۔ شعبہ اور سفیان نے یونس بن شریک کی مخالفت کی ہے، ان دونوں نے اسے ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے ام سلمہ سے روایت کی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1654]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے قریب فرض نماز کے علاوہ نماز اکثر بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔ شعبہ اور سفیان نے یونس کی مخالفت کی ہے، انہوں نے یہ روایت «عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ» ”ابو اسحاق سے، وہ ابوسلمہ سے اور وہ ام سلمہ سے“ کی سند سے بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1654]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18145)، مسند احمد 6/297، وانظر مایأتی (صحیح) (آگے آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ درجہ کی ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1655
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قال: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ قَاعِدًا إِلَّا الْفَرِيضَةَ، وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ أَدْوَمَهُ وَإِنْ قَلَّ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ کی اکثر و بیشتر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں، سوائے فرض نماز کے اور آپ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جس کو ہمیشہ کیا جائے خواہ وہ تھوڑا ہی ہو۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1655]
سیدتنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات کے قریب فرض نماز کے علاوہ باقی نماز اکثر بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے اور آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جس پر ہمیشگی کی جائے اگرچہ وہ کم ہو۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1655]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الإقامة 140 (1225)، الزھد 28 (4237)، (تحفة الأشراف: 18236)، مسند احمد 6/304، 305، 319، 320، 321، 322 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 1656
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، قال: حَدَّثَنَا يَزِيدُ، قال: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ , مَا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ قَاعِدًا إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ، وَكَانَ أَحَبُّ الْعَمَلِ إِلَيْهِ مَا دَاوَمَ عَلَيْهِ وَإِنْ قَلَّ" , خَالَفَهُ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ فَرَوَاهُ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ کی بیشتر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں سوائے فرض نماز کے، اور آپ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل وہ تھا جس پر مداومت کی جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہی ہو۔ عثمان بن ابی سلیمان نے ابواسحاق کی مخالفت کی ہے انہوں نے اسے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1656]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے قریب فرض نماز کے علاوہ باقی نماز اکثر بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک پسندیدہ عمل وہ تھا جس پر ہمیشگی کی جائے ”اگرچہ وہ کم ہو“، عثمان بن ابوسلیمان نے ان کی مخالفت کی ہے، انہوں نے یہ روایت «عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ» ”ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے“ کی سند سے بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1656]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مخالفت اس طرح ہے کہ عثمان نے ام سلمہ کی جگہ عائشہ کا ذکر کیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
حدیث نمبر: 1657
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قال: أَخْبَرَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لَمْ يَمُتْ حَتَّى كَانَ يُصَلِّي كَثِيرًا مِنْ صَلَاتِهِ وَهُوَ جَالِسٌ".
ابن جریج سے روایت ہے کہ مجھے عثمان بن ابی سلیمان نے خبر دی ہے وہ کہتے ہیں کہ ابوسلمہ نے انہیں خبر دی ہے وہ کہتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ اپنی بیشتر نمازیں بیٹھ کر پڑھنے لگے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1657]
عثمان بن ابوسلیمان سے مروی ہے کہ ابوسلمہ نے ان سے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے بیان فرمایا کہ وفات سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اکثر نمازیں بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1657]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 16 (731)، سنن الترمذی/الشمائل 39 (266)، (تحفة الأشراف: 17734)، مسند احمد 6/169 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1658
أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَشْعَثِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ، قال: أَنْبَأَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قال: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ قَاعِدٌ؟ قَالَتْ:" نَعَمْ، بَعْدَ مَا حَطَمَهُ النَّاسُ".
عبداللہ بن شفیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں، اس کے بعد کہ لوگوں نے آپ پر ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال کر آپ کو کمزور کر دیا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1658]
حضرت عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نفل) نماز بیٹھ کر پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں، جب لوگوں (کی فکر اور ان کے کاموں کے بوجھ) نے آپ کو بوڑھا کر دیا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1658]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 16 (732)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 179 (956)، (تحفة الأشراف: 16214)، مسند احمد 6/171، 218 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم
حدیث نمبر: 1659
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ، عَنْ حَفْصَةَ، قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي سُبْحَتِهِ قَاعِدًا قَطُّ حَتَّى كَانَ قَبْلَ وَفَاتِهِ بِعَامٍ، فَكَانَ يُصَلِّي قَاعِدًا يَقْرَأُ بِالسُّورَةِ فَيُرَتِّلُهَا حَتَّى تَكُونَ أَطْوَلَ مِنْ أَطْوَلَ مِنْهَا".
ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بیٹھ کر نفل پڑھتے نہیں دیکھا یہاں تک کہ اپنی وفات سے ایک سال قبل آپ بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے تھے، آپ سورت پڑھتے تو اتنا ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے کہ وہ طویل سے طویل تر ہو جاتی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1659]
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے، وہ فرماتی ہیں: میں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیٹھ کر نفل نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا حتیٰ کہ آپ کی وفات سے ایک سال قبل ایسا ہوا کہ آپ بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے، مگر آپ سورت کو اتنا ٹھہر ٹھہر کر سکون سے پڑھتے تھے کہ وہ اپنے سے لمبی سورت سے بھی لمبی بن جاتی تھی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1659]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 16 (733)، سنن الترمذی/الصلاة 159 (373)، (تحفة الأشراف: 15812)، موطا امام مالک/الجماعة 7 (21)، مسند احمد 6/285، سنن الدارمی/الصلاة 109 (1425، 1426) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم