سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب : صلاة القاعد في النافلة وذكر الاختلاف على أبي إسحاق في ذلك
باب: نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان اور اس سلسلہ میں ابواسحاق سے روایت کرنے والے راویوں کے اختلاف کا بیان۔
حدیث نمبر: 1654
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ الْبَلْخِيُّ، قال: حَدَّثَنَا النَّضْرُ، قال: أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ:" مَا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَانَ أَكْثَرُ صَلَاتِهِ جَالِسًا إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ" , خَالَفَهُ شُعْبَةُ وَسُفْيَانُ، وَقَالَا: عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ کی بیشتر نمازیں بیٹھ کر ہونے لگیں سوائے فرض نماز کے۔ شعبہ اور سفیان نے یونس بن شریک کی مخالفت کی ہے، ان دونوں نے اسے ابواسحاق سے اور ابواسحاق نے ابوسلمہ سے اور ابوسلمہ نے ام سلمہ سے روایت کی۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1654]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے قریب فرض نماز کے علاوہ نماز اکثر بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔ شعبہ اور سفیان نے یونس کی مخالفت کی ہے، انہوں نے یہ روایت «عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ» ”ابو اسحاق سے، وہ ابوسلمہ سے اور وہ ام سلمہ سے“ کی سند سے بیان کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب قيام الليل وتطوع النهار/حدیث: 1654]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 18145)، مسند احمد 6/297، وانظر مایأتی (صحیح) (آگے آنے والی حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح لغیرہ درجہ کی ہے)»
قال الشيخ الألباني: صحيح لغيره
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1654
| ما قبض رسول الله حتى كان أكثر صلاته جالسا إلا المكتوبة |
سنن النسائى الصغرى |
1655
| ما مات رسول الله حتى كان أكثر صلاته قاعدا إلا الفريضة أحب العمل إليه أدومه وإن قل |
سنن النسائى الصغرى |
1656
| ما مات رسول الله حتى كان أكثر صلاته قاعدا إلا المكتوبة أحب العمل إليه ما داوم عليه وإن قل |
سنن ابن ماجه |
4237
| ما مات حتى كان أكثر صلاته وهو جالس أحب الأعمال إليه العمل الصالح الذي يدوم عليه العبد وإن كان يسيرا |
سنن ابن ماجه |
1225
| أكثر صلاته وهو جالس أحب الأعمال إليه العمل الصالح الذي يدوم عليه العبد وإن كان يسيرا |
المعجم الصغير للطبراني |
300
| ما مات حتى كان أكثر صلاته قاعدا |
سنن نسائی کی حدیث نمبر 1654 کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1654
1654۔ اردو حاشیہ: عمر بن زائدہ اور یونس نے ابواسحاق کا استاد اسود بتایا تھا جبکہ شعبہ اور سفیان نے ابواسحاق کا استاد ابوسلمہ بتایا ہے، البتہ یہ روایت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہی کی بتائی ہوئی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1654]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1225
نفل نماز بیٹھ کر پڑھنے کا بیان۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کو قبض کیا، آپ وفات سے پہلے اکثر بیٹھ کر نمازیں پڑھا کرتے تھے، اور آپ کو وہ نیک عمل انتہائی محبوب اور پسندیدہ تھا جس پر بندہ ہمیشگی اختیار کرے، خواہ وہ تھوڑا ہی ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1225]
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قسم ہے اس ذات کی جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جان کو قبض کیا، آپ وفات سے پہلے اکثر بیٹھ کر نمازیں پڑھا کرتے تھے، اور آپ کو وہ نیک عمل انتہائی محبوب اور پسندیدہ تھا جس پر بندہ ہمیشگی اختیار کرے، خواہ وہ تھوڑا ہی ہو ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1225]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اگر نمازی نفل نماز میں طویل قراءت کرنا چاہتا ہو لیکن طویل قیام اس کے لئے مشقت کا باعث ہو تو کچھ قرءات کھڑے ہوکر اور کچھ قراءت بیٹھ کر کرسکتا ہے۔
جیسے کے اگلی حدیث میں آرہا ہے۔
(2)
نیکی کے کام پر پابندی سے عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
تاہم اس طرح کا عمل فرض نہیں ہوجاتا۔
اس لئے اگر کسی موقع پر آدمی آرام کی ضرورت محسوس کرے۔
تو اس میں ناغہ کرسکتا ہے۔
اس کی مقدار کم کرسکتا ہے۔
(3)
بظاہر چھوٹی نیکی کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کردینا مناسب نہیں کیونکہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں مل کر بڑے درجات کا باعث بن سکتی ہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
اگر نمازی نفل نماز میں طویل قراءت کرنا چاہتا ہو لیکن طویل قیام اس کے لئے مشقت کا باعث ہو تو کچھ قرءات کھڑے ہوکر اور کچھ قراءت بیٹھ کر کرسکتا ہے۔
جیسے کے اگلی حدیث میں آرہا ہے۔
(2)
نیکی کے کام پر پابندی سے عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
تاہم اس طرح کا عمل فرض نہیں ہوجاتا۔
اس لئے اگر کسی موقع پر آدمی آرام کی ضرورت محسوس کرے۔
تو اس میں ناغہ کرسکتا ہے۔
اس کی مقدار کم کرسکتا ہے۔
(3)
بظاہر چھوٹی نیکی کو معمولی سمجھ کر نظرانداز کردینا مناسب نہیں کیونکہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں مل کر بڑے درجات کا باعث بن سکتی ہیں۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1225]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث4237
نیک کام کو ہمیشہ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قسم ہے اس (اللہ) کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (دنیا سے) لے گیا! آپ جب فوت ہوئے تو آپ زیادہ نماز (تہجد) بیٹھ کر ادا فرماتے تھے۔ اور آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ عمل وہ نیک عمل تھا جس پر بندہ ہمیشگی کرے اگرچہ تھوڑا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4237]
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ قسم ہے اس (اللہ) کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (دنیا سے) لے گیا! آپ جب فوت ہوئے تو آپ زیادہ نماز (تہجد) بیٹھ کر ادا فرماتے تھے۔ اور آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ عمل وہ نیک عمل تھا جس پر بندہ ہمیشگی کرے اگرچہ تھوڑا ہو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4237]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
تھوڑی نیکی اگر پابندی سے کی جائے تو وہ طبعیت پر بوجھ نہیں بنتی اور نتیجے کے لحاظ سے اس زیادہ نیکی سے بڑھ جاتی ہے۔
جو چند دن زور شور سے کی جائے۔
پھر چھوڑ دی جائے۔
(2)
ہمیشگی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان بیمارہو مجبور ہو یا کوئی اور عذر ہو۔
پھر بھی ضرور ادا کرے۔
اس طرح یہ نفلی عمل فرض کے مشابہ ہوجائے گا اور نفل کو فرض کا مقام دینا درست نہیں۔
(3)
نیکی کا جو کام ہمیشہ کرنے کی عادت ہو پھر کسی وجہ سے وہ چھوٹ جائے بعد میں جب وہ وجہ ختم ہوجائے۔
تو دوبارہ شروع کردینا چاہیے۔
(4)
تہجد میں طویل قیام افضل ہے اگرچہ تھک جانے کی وجہ سے قیام کا کچھ حصہ یا اکثر حصہ بیٹھ کر ادا کیا جائے۔
فوائد و مسائل:
(1)
تھوڑی نیکی اگر پابندی سے کی جائے تو وہ طبعیت پر بوجھ نہیں بنتی اور نتیجے کے لحاظ سے اس زیادہ نیکی سے بڑھ جاتی ہے۔
جو چند دن زور شور سے کی جائے۔
پھر چھوڑ دی جائے۔
(2)
ہمیشگی کا مطلب یہ نہیں کہ انسان بیمارہو مجبور ہو یا کوئی اور عذر ہو۔
پھر بھی ضرور ادا کرے۔
اس طرح یہ نفلی عمل فرض کے مشابہ ہوجائے گا اور نفل کو فرض کا مقام دینا درست نہیں۔
(3)
نیکی کا جو کام ہمیشہ کرنے کی عادت ہو پھر کسی وجہ سے وہ چھوٹ جائے بعد میں جب وہ وجہ ختم ہوجائے۔
تو دوبارہ شروع کردینا چاہیے۔
(4)
تہجد میں طویل قیام افضل ہے اگرچہ تھک جانے کی وجہ سے قیام کا کچھ حصہ یا اکثر حصہ بیٹھ کر ادا کیا جائے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4237]
Sunan an-Nasa'i Hadith 1654 in Urdu
الأسود بن يزيد النخعي ← أم سلمة زوج النبي