صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
23. بَابُ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ مِنَ الثِّيَابِ وَالأَرْدِيَةِ وَالأُزُرِ:
باب: محرم چادریں، تہبند اور کون کون سے کپڑے پہنے۔
حدیث نمبر: Q1545
وَلَبِسَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا الثِّيَابَ الْمُعَصْفَرَةَ , وَهِيَ مُحْرِمَةٌ , وَقَالَتْ: لَا تَلَثَّمْ , وَلَا تَتَبَرْقَعْ , وَلَا تَلْبَسْ ثَوْبًا بِوَرْسٍ وَلَا زَعْفَرَانٍ , وَقَالَ جَابِرٌ: لَا أَرَى الْمُعَصْفَرَ طِيبًا وَلَمْ تَرَ عَائِشَةُ بَأْسًا بِالْحُلِيِّ , وَالثَّوْبِ الْأَسْوَدِ , وَالْمُوَرَّدِ , وَالْخُفِّ لِلْمَرْأَةِ , وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ لَا بَأْسَ أَنْ يُبْدِلَ ثِيَابَهُ.
اور عائشہ رضی اللہ عنہا محرم تھیں لیکن کسم (کیسو کے پھول) میں رنگے ہوئے کپڑے پہنے ہوئی تھیں۔ آپ نے فرمایا کہ عورتیں احرام کی حالت میں اپنے ہونٹ نہ چھپائیں نہ منہ پر نقاب ڈالیں اور نہ ورس یا زعفران کا رنگا ہوا کپڑا پہنیں اور جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں کسم کو خوشبو نہیں سمجھتا اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے عورتوں کے لیے زیور سیاہ گلابی کپڑے اور موزوں کے پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھا اور ابراہیم نخعی نے کہا کہ عورتوں کو احرام کی حالت میں کپڑے بدل لینے میں کوئی حرج نہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: Q1545]
حدیث نمبر: 1545
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ بَعْدَ مَا تَرَجَّلَ وَادَّهَنَ , وَلَبِسَ إِزَارَهُ , وَرِدَاءَهُ هُوَ , وَأَصْحَابُهُ، فَلَمْ يَنْهَ عَنْ شَيْءٍ مِنَ الْأَرْدِيَةِ , وَالْأُزُرِ تُلْبَسُ إِلَّا الْمُزَعْفَرَةَ الَّتِي تَرْدَعُ عَلَى الْجِلْدِ، فَأَصْبَحَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ حَتَّى اسْتَوَى عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ هُوَ وَأَصْحَابُهُ، وَقَلَّدَ بَدَنَتَهُ وَذَلِكَ لِخَمْسٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ , فَقَدِمَ مَكَّةَ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْ ذِي الْحَجَّةِ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ أَجْلِ بُدْنِهِ لِأَنَّهُ قَلَّدَهَا، ثُمَّ نَزَلَ بِأَعْلَى مَكَّةَ عِنْدَ الْحَجُونِ وَهُوَ مُهِلٌّ بِالْحَجِّ وَلَمْ يَقْرَبْ الْكَعْبَةَ بَعْدَ طَوَافِهِ بِهَا حَتَّى رَجَعَ مِنْ عَرَفَةَ، وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ يُقَصِّرُوا مِنْ رُءُوسِهِمْ، ثُمَّ يَحِلُّوا وَذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ بَدَنَةٌ قَلَّدَهَا، وَمَنْ كَانَتْ مَعَهُ امْرَأَتُهُ فَهِيَ لَهُ حَلَالٌ وَالطِّيبُ وَالثِّيَابُ".
ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے کریب نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ حجتہ الوداع میں ظہر اور عصر کے درمیان ہفتہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنگھا کرنے اور تیل لگانے اور ازار اور رداء پہننے کے بعد اپنے صحابہ کے ساتھ مدینہ سے نکلے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت زعفران میں رنگے ہوئے ایسے کپڑے کے سوا جس کا رنگ بدن پر لگتا ہو کسی قسم کی چادر یا تہبند پہننے سے منع نہیں کیا۔ دن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ پہنچ گئے (اور رات وہیں گزاری) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور بیداء سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے لبیک کہا اور احرام باندھا اور اپنے اونٹوں کو ہار پہنایا۔ ذی قعدہ کے مہینے میں اب پانچ دن رہ گئے تھے پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچے تو ذی الحجہ کے چار دن گزر چکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کی سعی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی حلال نہیں ہوئے کیونکہ قربانی کے جانور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گردن میں ہار ڈال دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجون پہاڑ کے نزدیک مکہ کے بالائی حصہ میں اترے۔ حج کا احرام اب بھی باقی تھا۔ بیت اللہ کے طواف کے بعد پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اس وقت تک تشریف نہیں لے گئے جب تک میدان عرفات سے واپس نہ ہو لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا تھا کہ وہ بیت اللہ کا طواف کریں اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کریں، پھر اپنے سروں کے بال ترشوا کر حلال ہو جائیں۔ یہ فرمان ان لوگوں کے لیے تھا جن کے ساتھ قربانی کے جانور نہیں تھے۔ اگر کسی کے ساتھ اس کی بیوی تھی تو وہ اس سے ہمبستر ہو سکتا تھا۔ اسی طرح خوشبودار اور (سلے ہوئے) کپڑے کا استعمال بھی اس کے لیے جائز تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1545]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کنگھی کرنے، تیل لگانے، تہبند پہننے اور چادر اوڑھنے کے بعد مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی قسم کی چادر اور تہبند پہننے سے منع نہیں فرمایا، البتہ زعفران سے رنگے ہوئے کپڑے جن سے بدن پر زعفران لگے ان سے منع فرمایا۔ الغرض صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ سے اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور جب مقام بیداء پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے «لَبَّيْكَ» ”میں حاضر ہوں“ کہا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قربانیوں کے گلے میں قلادے ڈال دیے۔ اور یہ پچیس ذوالقعدہ کا واقعہ ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چار ذوالحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے تو کعبہ کا طواف کیا اور صفا مروہ کے درمیان سعی فرمائی۔ چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کے اونٹ ساتھ لائے تھے اور انہیں قلادہ پہنا چکے تھے، اس لیے احرام نہ کھول سکے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی بلندی پر مقام حجون کے پاس فروکش ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج کا احرام باندھے ہوئے تھے۔ اس بنا پر طواف قدوم کرنے کے بعد پھر کعبہ کے قریب نہیں گئے یہاں تک کہ عرفات سے واپس آئے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو حکم دیا کہ وہ کعبہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کریں، پھر اپنے بال کتروا ڈالیں اور احرام کھول دیں۔ یہ حکم ان لوگوں کو دیا جن کے پاس قربانی کا جانور نہ تھا جسے پہلے قلادہ پہنایا گیا ہو۔ اور جس کے ساتھ اس کی بیوی تھی تو وہ اس کے لیے حلال ہو گئی۔ اسی طرح خوشبو اور دیگر لباس بھی استعمال کرنا اب جائز ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 1545]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة