مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
444. حَدِیث معَاوِیَةَ بنِ اَبِی سفیَانَ
حدیث نمبر: 16882
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَتُوُفِّيَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَتُوُفِّيَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ
جریر کہتے ہیں کہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تریسٹھ سال تھی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی عمر بھی تریسٹھ سال تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی عمر بھی تریسٹھ سال تھی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16882]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، م: 2352، وهذا إسناد اضطرب فيه يونس، وقد خالف شعبة
حدیث نمبر: 16883
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " الْعُمْرَى جَائِزَةٌ لِأَهْلِهَا"
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے اس شخص کے حق میں ”عمریٰ“ جائز ہوتا ہے جس کے لیے وہ کیا گیا ہو۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16883]
حکم دارالسلام: إسناده ضعيف
حدیث نمبر: 16884
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ لِي مُعَاوِيَةُ : عَلِمْتَ أَنِّي قَصَّرْتُ مِنْ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ؟ فَقُلْتُ لَهُ: لَا أَعْلَمُ هَذَا إِلَّا حُجَّةً عَلَيْكَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ مجھ سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال اپنے پاس موجود قینچی سے کاٹے تھے، میں نے ان سے کہا ہے کہ میں تو اسے آپ پر حجت سمجھتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16884]
حکم دارالسلام: صحيح، خ: 1730، م: 1246، هشام ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 16885
قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: قَصَّرْتُ عَنْ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْمَرْوَةِ
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال اپنے پاس موجود قینچی سے مروہ پر کاٹے تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16885]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على جعفر بن محمد
حدیث نمبر: 16886
قَالَ عَبْدِ اللَّهِ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُقَصِّرُ بِمِشْقَصٍ"
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال اپنے پاس موجود قینچی سے مروہ پر کاٹے تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16886]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على جعفر بن محمد
حدیث نمبر: 16887
قَالَ عَبْد اللَّهِ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَبُو مَعْمَرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حُجَيْرٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ: قَالَ مُعَاوِيَةُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: أَمَا عَلِمْتَ أَنِّي قَصَّرْتُ مِنْ رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَا ، قَالَ ابْنُ عَبَّادٍ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَهَذِهِ حُجَّةٌ عَلَى مُعَاوِيَةَ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں مجھ سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال اپنے پاس موجود قینچی سے کاٹے تھے، میں نے ان سے کہا: میں تو اسے آپ پہ حجت سمجھتا ہوں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16887]
حکم دارالسلام: حديث صحيح ، خ: 1730، م: 1246، هشام ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 16888
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ مُغِيرَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاضْرِبُوهُ، فَإِنْ عَادَ فَاضْرِبُوهُ، فَإِنْ عَادَ فَاضْرِبُوهُ، فَإِنْ عَادَ فَاقْتُلُوهُ"
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص شراب پیے اسے کوڑے مارے جائیں، اگر دوبارہ پیے تو دوبارہ کوڑے مارو حتیٰ کہ اگر چوتھی مرتبہ پیے تو اسے قتل کر دو۔“ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16888]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16889
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ الْقُرَظِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ إِذَا انْصَرَفَ مِنَ الصَّلَاةِ: " اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ"
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز سے فراغت کے بعد میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کلمات کہتے ہوئے سنا ہے کہ جسے آپ دیں، اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے آپ روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا اور ذی عزت کو آپ کے سامنے اس کی عزت نفع نہیں پہنچا سکتی۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16889]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16890
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ أَبُو قَطَنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: " مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَمَاتَ أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَمَاتَ عُمَرُ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَأَنَا الْيَوْمَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ"
جریر کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو دوران خطبہ یہ کہتے ہوۓ سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر تریسٹھ سال تھی، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی عمر بھی تریسٹھ سال تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی عمر بھی تریسٹھ سال تھی، اور میں اب تریسٹھ سال کا ہو گیا ہوں۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16890]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2352
حدیث نمبر: 16891
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، سَمِعَ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ بِالْمَدِينَةِ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ، وَهُوَ يَقُولُ: " مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ"
حمید کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں دوران خطبہ یہ کہتے ہوۓ سنا کہ اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کہاں چلے گئے؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے، یہ عاشوراء کا دن ہے، اس کا روزہ رکھنا ہم پر فرض نہیں ہے، لہٰذا تم میں سے جو روزہ رکھنا چاہے وہ رکھ لے، اور میں تو روزے سے ہوں، اس پر لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا۔ پھر انہوں نے ہاتھوں میں بالوں کا ایک گچھا لے کر فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قسم کی چیزوں سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل پر عذاب اسی وقت آیا تھا جب ان کی عورتوں نے اسی کو اپنا مشغلہ بنا لیا تھا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16891]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3468، م: 1129، 2127