مسند احمد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
444. حَدِیث معَاوِیَةَ بنِ اَبِی سفیَانَ
حدیث نمبر: 16862
حَدَّثَنَا يَعْلَى ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُجَمِّعُ بْنُ يَحْيَى الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: كُنْتُ إِلَى جَنْبِ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ ، وَهُوَ مُسْتَقْبِلُ الْمُؤَذِّنِ، وَكَبَّرَ الْمُؤَذِّنُ اثْنَتَيْنِ، فَكَبَّرَ أَبُو أُمَامَةَ اثْنَتَيْنِ، وَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، اثْنَتَيْنِ، فَشَهِدَ أَبُو أُمَامَةَ اثْنَتَيْنِ، وَشَهِدَ الْمُؤَذِّنُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، اثْنَتَيْنِ، وَشَهِدَ أَبُو أُمَامَةَ اثْنَتَيْنِ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ، فَقَالَ: هَكَذَا حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم
مجمع بن یحییٰ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ابوامامہ بن سہل کے پہلو میں تھا، جو مؤذن کے سامنے تھے، مؤذن نے دو مرتبہ «اللہ اكࣿبر» کہا: تو ابوامامہ نے بھی دو مرتبہ «الله اكࣿبر» کہا: مؤذن نے دو مرتبہ «ا شهد انࣿ لا اله الا اللہ» کہا: تو اُنہوں نے بھی دو مرتبہ کہا، مؤذن نے دو مرتبہ «اشهد ان محمدا رسول اللہ» کہا: تو انہوں نے بھی کہا، پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے میرے سامنے اسی طرح بیان فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16862]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 612
حدیث نمبر: 16863
حَدَّثَنَا أَبُو عَمْرٍو مَرْوَانُ بْنُ شُجَاعٍ الْجَزَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَعَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ أخْبَرَهُ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَصَّرَ مِنْ شَعَرِهِ بِمِشْقَصٍ" ، فَقُلْنَا لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا بَلَغَنَا هَذَا إِلَّا عَنْ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: مَا كَانَ مُعَاوِيَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّهَمًا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے نبی کے سر کے بال اپنے پاس موجود قینچی سے کاٹے تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16863]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16864
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَالَ لِنَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ جُلُودِ النُّمُورِ أَنْ يُرْكَبَ عَلَيْهَا"؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ: قَالَ: وَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ " نَهَى عَنْ لِبَاسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا"؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ: قَالَ: وَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ " نَهَى عَنِ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ"؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ: قَالَ: وَتَعْلَمُونَ أَنَّهُ " نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ يَعْنِي مُتْعَةَ الْحَجِّ"؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ لَا
ابوشیخ ہنائی کہتے ہیں کہ (میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مجلس میں ایک مرتبہ بیٹھا ہوا تھا) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چیتے کی کھال پر سواری سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! پھر پوچھا کہ کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردوں کو سونا پہننے سے منع فرمایا ہے الا یہ کہ معمولی سا ہو؟ انہوں نے جواب دیا، جی ہاں! پھر پوچھا: کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے چاندی کے برتن میں پانی پینے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! پھر پوچھا: کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کو ایک سفر میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے؟ انہوں نے جواب دیا یہ بات ہم نہیں جانتے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16864]
حکم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 16865
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ رَأَى مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَفِي يَدِهِ قُصَّةٌ مِنْ شَعَرٍ، قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذَه، وَقَالَ: " إِنَّمَا عُذِّبَ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَتْ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ"
حمید بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ہاتھوں میں بالوں کا ایک گچھا لے کر منبر پر یہ خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ اے اہل مدینہ! تمہارے علماء کہاں ہیں؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قسم کی چیزوں سے منع کرتے ہوئے سنا ہے، اور فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل پر عذاب اسی وقت آیا تھا جب ان کی عورتوں نے اسی کو اپنا مشغلہ بنا لیا تھا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16865]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 3689، م: 2127
حدیث نمبر: 16866
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ رَآهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: نَعَمْ، صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قُمْتُ فِي مَقَامِي، فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَقَالَ: لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ، إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ، فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تَتَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ، فَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِذَلِكَ، لَا تُوصَلُ صَلاةٌ بِصَلَاةٍ حَتَّى تَخْرُجَ أَوْ تَتَكَلَّمَ
عمر بن عطاء کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے نافع بن جبیر نے سائب بن یزید کے پاس یہ پوچھنے کے لیے بھیجا کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا، جی ہاں! ایک مرتبہ میں نے ان کے ساتھ ”مقصورہ“ میں جمعہ پڑھا تھا، جب انہوں نے نماز کا سلام پھیرا تو میں اپنی جگہ پر ہی کھڑے ہو کر سنتیں پڑھنے لگا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ جب اندر چلے گئے تو مجھے بلا کر فرمایا: آج کے بعد دوبارہ اس طرح نہ کرنا جیسے ابھی کیا، جب تم جمعہ کی نماز پڑھو تو اس سے متصل ہی دوسری نماز نہ پڑھو جب تک کوئی بات نہ کر لو یا وہاں سے ہٹ نہ جاؤ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ کسی نماز کے متصل بعد ہی دوسری نماز نہ پڑھی جائے جب تک کہ کوئی بات نہ کر لو یا وہاں سے ہٹ نہ جاؤ۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16866]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 883
حدیث نمبر: 16867
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يَخْطُبُ بِالْمَدِينَةِ، يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ، أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " هَذَا يَوْمُ عَاشُورَاءَ، وَلَمْ يُفْرَضْ عَلَيْنَا صِيَامُهُ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَ فَلْيَصُمْ، فَإِنِّي صَائِمٌ" ، فَصَامَ النَّاسُ.
حمید کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں دوران خطبہ یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے اہل مدینہ تمہارے علماء کہاں چلے گئے؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے یہ عاشورا کا دن ہے , اس کا روزہ رکھنا ہم پر فرض نہیں ہے، لہٰذا تم میں سے جو روزہ رکھنا چاہے وہ روزہ رکھ لے اور میں تو روزے سے ہوں، اس پر لوگوں نے بھی روزہ رکھ لیا۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16867]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1129
حدیث نمبر: 16868
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، عَامَ حَجَّ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16868]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 1129
حدیث نمبر: 16869
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ فِي شَارِبِ الْخَمْرِ: " إِذَا شَرِبَ الْخَمْرَ، فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِذَا شَرِبَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِذَا شَرِبَ الثَّالِثَةَ فَاجْلِدُوهُ، ثُمَّ إِذَا شَرِبَ الرَّابِعَةَ فَاضْرِبُوا عُنُقَهُ"
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص شراب پیے تو اسے کوڑے مارے جائیں، اگر دوبارہ پیے تو دوبارہ کوڑے مارو، حتیٰ کہ اگر چوتھی مرتبہ پیے تو اسے قتل کر دو۔“ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16869]
حکم دارالسلام: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 16870
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . وَرَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَبَّاسِ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ قَالَ رَوْحٌ أخْبَرَهُ، قَالَ: قَصَّرْتُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِشْقَصٍ عَلَى الْمَرْوَةِ، أَوْ رَأَيْتُهُ يُقَصَّرُ عَنْهُ بِمِشْقَصٍ عَلَى الْمَرْوَةِ
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بال اپنے پاس موجود قینچی سے مروہ پر کاٹے تھے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16870]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح، خ: 1730، م: 1246
حدیث نمبر: 16871
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَهُ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ جَارِيَةَ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا فِي نَفَرٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ مُعَاوِيَةُ، فَسَأَلَهُمْ عَنْ حَدِيثِهِمْ، فَقَالُوا: كُنَّا فِي حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِ الْأَنْصَارِ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : أَلَا أَزِيدُكُمْ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالُوا: بَلَى يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ أَحَبَّ الْأَنْصَارَ، أَحَبَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَمَنْ أَبْغَضَ الْأَنْصَارَ، أَبْغَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ"
یزید بن جاریہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں ایک مرتبہ وہ کچھ انصاری لوگوں کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور موضوع بحث پوچھنے لگے، لوگوں نے بتایا کہ ہم انصار کے حوالے سے گفتگو کر رہے ہیں، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا میں بھی تمہاری معلومات میں اضافہ کے لیے ایک حدیث نہ سناؤں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ لوگوں نے کہا: کیوں نہیں، امیر المؤمنین! انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو انصار سے محبت کرتا ہے اللہ اس سے محبت کرتا ہے اور جو انصار سے بغض رکھتا ہے اللہ اس سے بغض رکھتا ہے۔ [مسند احمد/مسند الشاميين/حدیث: 16871]
حکم دارالسلام: إسناده صحيح