🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 381
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 381
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: وَأَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ , أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا أَيُّوبَ الأَنْصَارِيَّ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلاثٍ: يَلْتَقِيَانِ، فَيَصُدُّ هَذَا , وَيَصُدُّ هَذَا، وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلامِ" . قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ الزُّهْرِيُّ. حَدَّثَنَا قَبْلَهُ حَدِيثَ أَنَسٍ , ثُمَّ أتْبَعَهُ هَذَا، فَقَالَ: فأَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ.
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: کسی بھی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ لاتعلقی اختیار کرے یوں کہ جب وہ دونوں ملیں، تو یہ ادھر منہ کر لے اور وہ ادھر منہ کر لے ان دونوں میں بہتر وہ ہو گا، جو سلام میں پہل کرے۔ سفیان کہتے ہیں: زہری پہلے یہ روایت سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت کے طور پر سناتے تھے، لیکن پھر انہوں نے اسے عطاء بن یزید کے حوالے سے سنانا شروع کر دیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 381]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح والحديث متفق عليه: أخرجه البخاري في «الاستئذان» برقم: 6077، 6237، ومسلم فى «البر والصلة» برقم: 2560، ومالك فى «الموطأ» ، برقم: 691، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5669، 5670، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4911، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1932، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 20084، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 24011، وعبد الرزاق في «مصنفه» ، برقم: 20223، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» ، برقم: 25877، والطبراني فى "الكبير"، برقم: 3949»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 382
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 382
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ وَلا بَوْلٍ , وَلا تَسْتَدْبِرُوهَا، وَلَكِنْ شَرِّقُوا , أَوْ غَرِّبُوا" . قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: فَقَدِمْنَا الشَّامَ، فَوَجَدْنَا مَرَاحِيضَ بُنِيَتْ قِبَلَ الْقِبْلَةِ، فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ، فَقِيلَ لِسُفْيَانَ: فَإِنَّ نَافِعَ بْنَ عُمَرَ الْجُمَحِيَّ لا يُسْنِدُهُ، فَقَالَ: لَكِنِّي أَحْفَظُهُ وَأُسْنِدُهُ كَمَا قُلْتُ لَكَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الْمَكِّيِّينَ إِنَّمَا أَخَذُوا كِتَابًا جَاءَ بِهِ حُمَيْدٌ الأَعْرَجُ مِنَ الشَّامِ قَدْ كُتِبَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَوَقَعَ إِلَى ابْنِ جرجه، وَكَانَ الْمَكِّيُّونَ يَعْرِضُونَ ذَلِكَ الْكِتَابَ عَلَى ابْنِ شِهَابٍ، فَأَمَّا نَحْنُ فَإِنَّمَا كُنَّا نَسْمَعُ مِنْ فِيهِ.
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: پاخانہ یا پیشاب کرتے وقت قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ نہ کرو، بلکہ (مدینہ منورہ کے حساب سے) مشرق یا مغرب کی جانب رخ کرو۔ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ شام آئے، تو وہاں ہم نے ایسے بیت الخلاء دیکھے، جو قبلہ کی سمت میں بنائے گئے تھے، تو ہم ذرا ٹیڑھے ہو کر بیٹھا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کیا کرتے تھے۔ سفیان سے کہا گیا، نافع بن عمر نامی راوی اس کی سند بیان نہیں کرتے ہیں، تو سفیان نے کہا: مجھے تو یہ روایت یاد ہے اور میں اس کی سند وہی بیان کرتا ہوں جو میں نے تمہارے سامنے بیان کی ہے۔ پھر انہوں نے یہ بات بتائی کہ مکہ کے رہنے والے جو راوی ہیں انہوں نے ایک تحریر حاصل کی تھی۔ جو حمید نامی راوی شام سے لے کر آئے تھے۔ اور یہ روایات انہوں نے زہری کے حوالے سے نوٹ کی تھیں، تو وہ تحریر ابن جرجہ تک پہنچی تو اہل مکہ نے اس تحریر کی وجہ سے ابن شہاب سے اعراض کرنا شروع کر دیا، تاہم ہم نے تو ابن شہاب کی زبانی یہ بات سنی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 382]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «الوضوء» برقم: 144،394، ومسلم في «الطهارة» برقم: 264، ومالك فى «الموطأ» ، برقم: 658، وابن خزيمة في «صحيحه» ، برقم: 57، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1416، 1417 وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 23997، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» ، برقم: 1611، 1612»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 383
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 383
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُنَيْنٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ:" امْتَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ , وَالْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ بِالْعَرَجِ فِي الْمُحْرِمِ يَغْسِلُ رَأْسَهُ، فَأَرْسَلُونِي إِلَى أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، فَذَهَبْتُ إِلَيْهِ فَوَجَدْتُهُ بَيْنَ قَرْنَيِ الْبِئْرِ يَغْتَسِلُ، فَلَمَّا رَآنِي مُقْبِلا، جَمَعَ ثِيَابَهُ إِلَى صَدْرِهِ حَتَّى نَظَرْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ ابْنُ أَخِيكَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَسْأَلُكَ كَيْفَ رَأَيْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ؟ فَقَالَ: بِيَدَيْهِ فِي رَأْسِهِ، فَأَقْبَلَ بِهِمَا وَأَدْبَرَ، وَقَالَ: هَكَذَا ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِمَا، فَأَخْبَرْتُهُمَا، فَقَالَ الْمِسْوَرُ لابْنِ عَبَّاسٍ: لا أُمَارِيكَ أَبَدًا.
ابراہیم بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: عرج کے مقام پر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا مسور بن محزمہ رضی اللہ عنہ کے درمیان اس بات پر بحث ہو گئی کہ احرام والا شخص اپنا سر دھو سکتا ہے؟ ان حضرات نے مجھے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیج دیا، میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، تو میں نے انہیں کنوئیں کے کنارے پڑے ہوئے لکڑی کے ٹکڑوں کے درمیان غسل کرتے ہوئے دیکھا۔ جب انہوں نے مجھے آتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے سینے تک اپنے کپڑے اکٹھے کر لئے۔ جب میں ان کے پاس پہنچا تو میں نے گزارش کی: آپ کے بھتیجے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے، تاکہ میں آپ سے دریافت کروں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام کے دوران اپنا سر دھوتے ہوئے آپ نے کیسے دیکھا ہے؟ تو انہوں نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے سر پر رکھے، اسے آگے سے پیچھے کی طرف لے گئے پھر پیچھے سے آگے کی طرف لے آئے اور کہا: اس طرح اور اس طرح۔ میں ان دونوں صاحبان کے پاس واپس آیا اور ان دونوں حضرات کو اس بارے میں بتایا تو سیدنا مسور بن محزمہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: میں آپ کے ساتھ بحث نہیں کروں گا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 383]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «الصيد» برقم: 1840، ومسلم فى «الحج» برقم: 1205، ومالك فى «الموطأ» ، برقم: 1154 وابن خزيمة فى «صحيحه» ، برقم: 2650، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3948، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 5998، والنسائي فى «المجتبى» برقم:، والنسائي فى «الكبرى» برقم: 3631، وأبو داود في «سننه» برقم: 1840، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2934، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 24012، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» ، برقم: 13002، والطبراني فى «الكبير» ، برقم: 3976»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 384
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 384
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، وَأَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ الدَّهْرَ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَقُلْتُ لِسُفْيَانَ , أَوْ قِيلَ لَهُ: إِنَّهُمْ يَرْفَعُونَهُ، قَالَ: اسْكُتْ عَنْهُ قَدْ عَرَفْتُ ذَلِكَ.
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جو شخص رمضان کے روزے رکھے اس کے بعد شوال کے 6 روزے رکھے تو گویا اس نے ہمیشہ نفلی روزے رکھے۔
امام حمیدی رحمہ اللہ: میں نے سفیان سے کہا: یا شاید سفیان سے یہ کہا گیا: دیگر لوگ تو اسے مرفوع حدیث کے طور پر نقل کرتے ہیں، تو وہ بولے: تم اس حوالے سے خاموش رہو، میں یہ بات جانتا ہوں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 384]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده حسن: وأخرجه مسلم «في الصيام» برقم: 1164، وابن خزيمة في «صحيحه» برقم: 2114، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3634، وأحمد في «مسنده» ، برقم: 24016، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2433، والترمذي فى «جامعه» برقم: 759، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» ، برقم: 2337»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 385
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 385
حَدَّثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، وَسَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ صَامَ رَمَضَانَ، وَأَتْبَعَهُ سِتًّا مِنْ شَوَّالٍ فَكَأَنَّمَا صَامَ الدَّهْرَ" .
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص رمضان کے روزے رکھے۔ اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھ لے، تو گویا اس نے ہمیشہ نفلی روزے رکھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 385]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح: وأخرجه مسلم «في الصيام» برقم: 1164، وابن خزيمة في «صحيحه» برقم: 2114، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3634، وأحمد في «مسنده» ، برقم: 24016، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2433، والترمذي فى «جامعه» برقم: 759، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» ، برقم: 2337»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 386
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 386
حَدَّثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثنا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 386]
تخریج الحدیث: «وأخرجه مسلم «في الصيام» برقم: 1164، وابن خزيمة في «صحيحه» برقم: 2114، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3634، وأحمد في «مسنده» ، برقم: 24016، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2433، والترمذي فى «جامعه» برقم: 759، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» ، برقم: 2337»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 387
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 387
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِجَمْعٍ جَمِيعًا" .
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے مزدلفہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی تھیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 387]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح والحديث متفق عليه: وأخرجه البخاري فى «الحج» برقم: 1674، 4414، ومسلم فى «الحج» برقم: 1287، ومالك فى «الموطأ» ، برقم: 1501 وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3858، والنسائي فى «المجتبى» ، برقم: 606، والنسائي فى «الكبرى» برقم: 1589، 4009،4010، وابن ماجه في «سننه» برقم: 3020، والبيهقي في «سننه الكبير» برقم: 1920، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 24032، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» ، برقم: 14239»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 388
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 388
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعْدٍ الأَعْمَى يُحَدِّثُ عَطَاءَ بْنَ أَبِي رَبَاحٍ، يَقُولُ: خَرَجَ أَبُو أَيُّوبَ إِلَى عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ وَهُوَ بِمِصْرَ يَسْأَلُهُ عَنْ حَدِيثٍ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَهُ وَغَيْرَ عُقْبَةَ، فَلَمَّا قَدِمَ أَتَى مَنْزِلَ مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ الأَنْصَارِيِّ وَهُوَ أَمِيرُ مِصْرَ، فَأُخْبِرَ بِهِ، فَعَجِلَ فَخَرَجَ إِلَيْهِ، فَعَانَقَهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا جَاءَ بِكَ يَا أَبَا أَيُّوبَ؟ فَقَالَ: حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرِي وَغَيْرَ عُقْبَةَ، فَابْعَثْ مَنْ يَدُلُّنِي عَلَى مَنْزِلِهِ، قَالَ: فَبَعَثَ مَعَهُ مَنْ يَدُلُّهُ عَلَى مَنْزِلِ عُقْبَةَ، فَأُخْبِرَ عُقْبَةُ بِهِ فَعَجِلَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَعَانَقَهُ، وَقَالَ: مَا جَاءَ بِكَ يَا أَبَا أَيُّوبَ؟ فَقَالَ: حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَبْقَ أَحَدٌ سَمِعَهُ غَيْرِي وَغَيْرَكَ فِي سَتْرِ الْمُؤْمِنِ، قَالَ عُقْبَةُ : نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ سَتَرَ مُؤْمِنًا فِي الدُّنْيَا عَلَى خِزْيِهِ سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" ، فَقَالَ لَهُ أَبُو أَيُّوبَ: صَدَقْتَ، ثُمَّ انْصَرَفَ أَبُو أَيُّوبَ إِلَى رَاحِلَتِهِ، فَرَكِبَهَا رَاجِعًا إِلَى الْمَدِينَةِ، فَمَا أَدْرَكَتْهُ جَائِزَةُ مَسْلَمَةَ بْنِ مُخْلَدَّ إِلا بَعَرِيشِ مِصْرَ.
عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ، سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ وہ اس وقت مصر میں تھے۔ انہوں نے ان سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا، جو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی تھی اور اب کوئی بھی ایسا شخص باقی نہیں رہا تھا جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی وہ حدیث سنی ہو۔ صرف سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے وہ حدیث سنی ہوئی تھی۔ جب سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ مصر آئے تو مسلمہ بن مخلد انصاری کے گھر ٹھہرے، جو مصر کا امیر تھا۔ اسے اس بارے میں بتایا گیا، تو وہ تیزی سے نکل کر ان کے پاس آیا۔ اس نے ان کے ساتھ معانقہ کیا، پھر بولا: اے ابوایوب! آپ کیوں تشریف لائے ہیں؟ تو سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے بتایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ایک حدیث سنی تھی، اب میرے اور عقبہ بن عامر کے علاوہ ایسا کوئی شخص نہیں رہا، جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی وہ حدیث سنی ہو، تو تم کسی ایسے شخص کو میرے ساتھ بھیجو جو مجھے ان کے گھر تک پہنچا دے۔ راوی کہتے ہیں: تو امیر نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے ہمراہ اس شخص کو بھیجا جو انہیں سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے گھر تک پہنچا دے۔ جب سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کو ان کے بارے میں پتہ چلا تو وہ تیزی سے نکل کر باہر آئے اور ان سے گلے ملے اور دریافت کیا: اے ابوایوب! آپ کیوں تشریف لائے ہیں؟ تو انہوں نے بتایا: میں نے ایک حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی تھی اب میرے اور آپ کے علاوہ ایسا کوئی شخص باقی نہیں رہا، جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ حدیث سنی ہو اور وہ حدیث مؤمن کی پردہ داری کے بارے میں ہے، تو سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ بولے: جی ہاں! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص دنیا میں کسی مؤمن کی خامی کی پردہ پوشی کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ تو سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ نے سچ بیان کیا ہے، پھر سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ واپس اپنی سواری کی طرف آئے اس پر سوار ہوئے اور واپس مدینہ آ گئے۔ مسلمہ بن مخلد کی مہمانی مصر کے شہر عریش میں ہی تھی کہ آپ واپس بھی آ گئے۔ (یعنی وہ مہمانداری کرنے کا ارادہ کر رہا تھا) [مسند الحميدي/حدیث: 388]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1164، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2114، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3634، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2875، 2876، 2877، 2878، 2879، 2880، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2433، والترمذي فى «جامعه» برقم: 759، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1795، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1716، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8521، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24016، 24039»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 389
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 389
حَدَّثنا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثنا عُبَيْدَةُ الضَّبِّيُّ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنِ الْقَرْثَعِ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ يُصَلِّي أَرْبَعًا، وَيَقُولُ:" إِنَّ أَبْوَابَ السَّمَاءِ تُفْتَحُ , أَوِ الْجَنَّةِ عِنْدَ زَوَالِ الشَّمْسِ" .
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھل جانے کے بعد چار رکعات ادا کرتے تھے اور یہ ارشاد فرمایا کرتے تھے: سورج ڈھلنے کے وقت آسمان (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 389]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف: عبيدة هو ابن معتب الضبي ضعيف، وباقي رجالة ثقات، وقزعة هو ابن يحيي - وأخرجه ابن خزيمة في «صحيحه» برقم: 1214، والحاكم فى «مستدركه» ، برقم: 5994، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1270، وابن ماجه في «سننه» برقم: 1157، والبيهقي فى «سننه الكبير» ، برقم: 4651، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 24015، والطيالسي فى «مسنده» ، برقم: 598، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» ، برقم: 5992، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» ، برقم: 1966»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں