مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 812
حدیث نمبر: 812
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلاقَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ ، يَقُولُ: " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ" , قَالَ سُفْيَانُ : وَزَادَ مِسْعَرٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" وَإِنِّي لَكُمْ لَنَاصِحٌ".
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک پر اس بات کی بیعت کی تھی کہ ہر مسلمان کے لیے خیر خواہی اختیار کروں گا۔ سفیان نامی راوی نے ایک اور سند کے ساتھ اس میں سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ بھی نقل کیے ہیں۔ ”میں تم لوگوں کا خیر خواہ ہوں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 812]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 57، 58، 524، 1401، 2157، 2714، 2715، 7204، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 56، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4545، 4546، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4167، 4168، 4185، 4186، 4187، 4188، 4200، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4945، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1925، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2582، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10563، 10564، 16651، 17824، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19459 برقم: 19460 برقم: 19468»
حدیث نمبر 813
حدیث نمبر: 813
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا يُحَدِّثُ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ الصَّلاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ" .
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر نماز قائم کرنے، زکوٰة ادا کرنے اور ہر مسلمان کے لیے خیر خواہی کی بیعت کی تہی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 813]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 57، 58، 524، 1401، 2157، 2714، 2715، 7204، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 56، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4545، 4546، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4167، 4168، 4185، 4186، 4187، 4188، 4200، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4945، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1925، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2582، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10563، 10564، 16651، 17824، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19459 برقم: 19460 برقم: 19468»
حدیث نمبر 814
حدیث نمبر: 814
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، وَمُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَتَاكُمُ الْمُصَدِّقُ فَلا يَفَارِقَنَّكُمْ إِلا عَنْ رِضًا" .
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب زکوٰة وصول کرنے والا شخص تمہارے پاس آئے تو وہ مطمئن ہو کر تم سے الگ ہو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 814]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح نعم مجالد بن سعيد ضعيف لكنه متابع عليه أخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 989، 1017، وابن حبان فى «صحيحه» ، برقم: 3308، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2459، 2460، 2553، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1589، والترمذي فى «جامعه» برقم: 647، 648، 2675، والدارمي فى «مسنده» برقم: 529، 531، 1712، 1713، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 203، 1802، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7472، 7623، 7624، 7835، 7836، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19463 برقم: 19464»
حدیث نمبر 815
حدیث نمبر: 815
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ: رَأَيْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَتَوَضَّأُ مِنْ مَطْهَرَةِ الْمَسْجِدِ الَّذِي يَتَوَضَّأُ مِنْهَا الْعَامَّةُ، ثُمَّ يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقِيلَ لَهُ: أَتَفْعَلُ هَذَا؟ قَالَ: وَمَا يَمْنَعُنِي وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ" , قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَكَانَ هَذَا الْحَدِيثُ يُعْجِبُ أَصْحَابَ عَبْدِ اللَّهِ، لأَنَّ إِسْلامَ جَرِيرٍ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ.
ہمام بن حارث بیان کرتے ہیں۔ میں نے سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو مسجد کے وضو خانے سے وضو کرتے ہوئے دیکھا جہاں سے عام لوگ بھی وضو کرتے ہیں۔ پھر انہوں نے اپنے موزوں پر مسح کر لیا تو ان سے دریافت کیا گیا: آپ ایسا کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: میں ایسا کیوں نہ کروں، جبکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگردوں کو یہ روایت بہت پسند تھی۔ کیونکہ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے سورة مائدہ نازل ہونے کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 815]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 387، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 272، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1335، 1336، 1337، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 608، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 51، 118، 773، وأبو داود فى «سننه» برقم: 154، والترمذي فى «جامعه» برقم: 93، 94، 611، 612، والدارمي فى «مسنده» برقم: 706، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 359، 543، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 526، 562، 1296، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19475 برقم: 19508 برقم: 19529 برقم: 19531»
حدیث نمبر 816
حدیث نمبر: 816
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ، وَإِقَامِ الصَّلاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ" .
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر (حاکم کی) اطاعت و فرمانبرداری کرنے، نماز قائم کرنے، زکوٰة ادا کرنے اور ہر مسلمان کی خیر خواہی کی بیعت کی تہی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 816]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، من أجل مجالد، والحديث متفق عليه، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 57، 58، 524، 1401، 2157، 2714، 2715، 7204، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 56، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4545، 4546، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 5949، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4167، 4168، 4185، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4945، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1925، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2582، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10563، 10564، 16651، 17824، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19459 برقم: 19460»
حدیث نمبر 817
حدیث نمبر: 817
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِنَ الشَّهْرِ، فَقَالَ:" هَلْ تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ؟ فَإِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ كَمَا تَرَوْنَ هَذَا الْقَمَرَ، لا تُضَامُونَ فِي رُؤْيَتِهِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لا يُغْلَبَ عَلَى صَلاةٍ قَبْلِ طُلُوعِ الشَّمْسِ، وَلا قَبْلَ غُرُوبِهَا فَلْيَفْعَلْ" .
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ مہینے کی چودھویں رات میں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو؟ بے شک تم اپنے پروردگار کا اسی طرح دیدار کرو گے، جس طرح تم اس چاند کو دیکھ رہے ہو کہ تمہیں اسے دیکھنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آ رہی، تو تم میں سے جس شخص کے لیے یہ ممکن ہو وہ سورج نکلنے سے پہلے والی اور سورج غروب ہونے سے پہلے والی نماز کے حوالے سے مغلوب نہ ہو جائے (یعنی انہیں قض نہ کرے)“ [مسند الحميدي/حدیث: 817]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 554، 573، 4851، 7434، 7435، 7436، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 633، 634، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7442، 7443، 7444، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4729، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2551، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 177، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1712، 2216، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19497 برقم: 19512»
حدیث نمبر 818
حدیث نمبر: 818
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيَّ ، يَقُولُ: مَا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ إِلا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي،
سیدنا جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی مجھے دیکھتے تھے، تو مجھے دیکھ کر مسکرا دیتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 818]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3822، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2475، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7200، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8244، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3820، 3821، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 159، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16785، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19480 برقم: 19485»
حدیث نمبر 819
حدیث نمبر: 819
قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَطْلُعُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْبَابِ رَجُلٌ مِنْ خَيْرِ ذِي يُمْنٍ، عَلَى وَجْهِهِ مِسْحَةُ مَلَكٍ" ، فَطَلَعَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ.
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس دروازے میں سے تمہارے سامنے ایک ایسا شخص آئے گا، جو برکت والوں میں سب سے بہتر ہے اور اس کے چہرے پر فرشتے نے ہاتھ پھیرا ہے۔“ تو سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ وہاں سے سامنے آئے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 819]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1797، 1798، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7199، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1057، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8246، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5924، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19487 برقم: 19488 برقم: 19535»
حدیث نمبر 820
حدیث نمبر: 820
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلا تَكْفِينِي هَذِهِ الْخَلْصَةَ الْيَمَانِيَّةَ؟"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي رَجُلٌ لا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، قَالَ: فَضَرَبَ فِي صَدْرِي، وَقَالَ:" اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ، وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا" , قَالَ: فَخَرَجْتُ، قَالَ سُفْيَانُ فِي أَرْبَعِينَ، أَوْ قَالَ: فِي خَمْسِينَ رَاكِبًا مِنْ قَوْمِي فَحَرَّقْتُهَا، ثُمَّ جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مَا جِئْتُكَ حَتَّى تَرَكْتُهَا مِثْلَ الْجَمَلِ الأَجْرَبِ، أَوْ قَالَ: الأَجْرَدِ , قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأَحْمَسَ خَيْلِهَا وَرِجَالِهَا ثَلاثًا.
سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کیا تم یمن کے (بت کدے) ”خلصہ“ کو تباہ نہیں کرو گے؟“ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ایک ایسا شخص ہوں۔ جو گھوڑے پر جم کر نہیں بیٹھ سکتا۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینے پر ہاتھ مارا اور دعا کی۔ ”اے اللہ! اسے جمائے رکھ اور اسے ہدایت دینے والا اور ہدایت کا مرکز بنا دے۔“ راوی کہتے ہیں: میں روانہ ہوا۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: شاید چالیس یا پچاس افراد کے ہمراہ روانہ ہوا جو میری قوم سے تعلق رکھتے تھے۔ میں نے اس بت خانے کو جلا دیا۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی: میں اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آیا ہوں۔ جب میں نے اسے خارش زادہ اونٹ کی مانند (بے کار) چھوڑا تھا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) راوی کہتے ہیں: تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احمس قبیلے کے گھڑ سواروں اور پیادہ افراد کے لیے تین مرتبہ دعائے رحمت کی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 820]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3020، 3035، 3076، 3823، 4355، 4356، 4357، 6089، 6333، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2475، 2476، 2476، 2476، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 7201، 7202، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8245، 8558، 8618، 10281، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2772، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18656، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19492 برقم: 19495 برقم: 19511 برقم: 19556»
حدیث نمبر 821
حدیث نمبر: 821
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، وَمَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ قَالا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لا يَرْحَمُ النَّاسَ لا يَرْحَمُهُ اللَّهُ" .
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں کرتا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 821]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6013، 7376، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2319، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 465 467، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1922، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16739، 17976، 17977، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19468 برقم: 19471»