مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 822
حدیث نمبر: 822
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: اسْتَعْمَلَ مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ عَلَى سَرِيَّةٍ، فَأَصَابَهُمْ بَرِدٌ شَدِيدٌ، فَأَقْفَلَهُمْ جَرِيرٌ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: لِمَ أَقْفَلْتَهُمْ؟ قَالَ جَرِيرٌ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ لا يَرْحَمُ النَّاسَ لا يَرْحَمُهُ اللَّهُ" ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ ,
نافع بن جبیر بیان کرتے ہیں۔ سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ نے سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو ایک جنگی مہم کا سپہ سالار مقرر کیا۔ راستے میں انہیں شدید سردی لاحق ہوئی تو سیدنا جریر رضی اللہ عنہ انہیں لے کر واپس آ گئے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: آپ انہیں لے کر واپس کیوں آئے ہیں؟ تو سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بولے: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس پر رحم نہیں کرتا۔“ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”جی ہاں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 822]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6013، 7376، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2319، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 465 467، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1922، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16739، 17976، 17977، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19468 برقم: 19471»
حدیث نمبر 823
حدیث نمبر: 823
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: يُرِيدُ مُعَاوِيَةُ أَنْ يُرِيَ النَّاسَ أَنَّمَا تَرَكَهُ , لأَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لأَنْ لا يَجْتَرِئَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ، فَيَقْفِلَ بِغَيْرِ إِذْنِهِ.
سفیان نامی راوی کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کے سامنے یہ واضح کرنا چاہ رہے تھے۔ کہ انہوں نے سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس لیے چھوڑ دیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کر دی ہے ورنہ اور کسی کی اتنی جرأت نہیں ہو سکتی، کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے اجازت لیے بغیر کسی مہم سے واپس آ جائے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 823]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
حدیث نمبر 824
حدیث نمبر: 824
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: جَاءَ قَوْمٌ مُجْتَابُو النِّمَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلُوهُ، فَحَثَّ النَّاسَ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَأَنْطَوْا، حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنَّ رَجُلا مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ بِقِطْعَةٍ مِنْ ذَهَبٍ، أَوْ قَالَ: تَبْرٍ فَأَلْقَاهَا، فَتَتَابَعُوا النَّاسُ حَتَّى عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ سَنَّ سُنَّةً حَسَنَةً فَعَمِلَ بِهَا، كَانَ لَهُ مِنَ الأَجْرِ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا، وَمَنْ سَنَّ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعَمِلَ بِهَا، كَانَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا لا يُنْقِصُ ذَلِكَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا" .
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کچھ لوگ پھٹے پرانے کپڑوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد کی درخواست کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی، تو لوگوں نے عطیات نہیں دئے اس کا رد عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک سے ظاہر ہوا پھر انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص لوہے کا ایک ٹکڑا لے کر آیا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) تو لوگ یکے بعد دیگرے (اس کی دیکھا دیکھی) چیزیں لانے لگے، یہاں تک کہ اس چیز کا رد عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر محسوس ہوا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص کسی اچھے کام کا آغاز کرتا ہے۔ اور اس پر عمل کیا جاتا ہے، تو اس شخص کو ان تمام لوگوں جتنا اجر ملے گا، جو اس اچھے کام پر عمل کرتے ہیں اور ان لوگوں کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوگی، جو اس پر عمل کرتے ہیں، اور ان لوگوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 824]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 989، 1017، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3308، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2459، 2460، 2553، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1589، والترمذي فى «جامعه» برقم: 647، 648 2675، والدارمي فى «مسنده» برقم: 529، 531، 1712، 1713، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 203، 1802، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7472، 7623، 7624، 7835، 7836، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19463 برقم: 19464»
حدیث نمبر 825
حدیث نمبر: 825
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا أَبِقَ الْعَبْدُ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ، فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب کوئی غلام مفرور ہو کر دشمن کی سرزمین کی طرف چلا جائے، تو اس سے اللہ تعالیٰ کا ذمہ ختم ہو جاتا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 825]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لانقطاعه، حبيب بن أبى ثابت لم يدر جريراً۔ وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 68، 69، 70، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 941، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4060، 4061، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4360، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16976، 16977، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19462 برقم: 19518»
حدیث نمبر 826
حدیث نمبر: 826
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ جَرِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 826]
تخریج الحدیث: «إسناده فيه جهالة، وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 941، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4060، 4061، 4062، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4360، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 16976، 16977، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19462 برقم: 19518، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33529، 33530، والطبراني فى «الصغير» برقم: 826»
حدیث نمبر 827
حدیث نمبر: 827
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ أَبِي صَفِيَّةَ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ زَاذَانَ ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّحْدُ لَنَا، وَالشَّقُّ لِغَيْرِنَا" .
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا۔ ”(قبر بناتے ہوئے) لحد کا طریقہ ہمارے لیے ہے اور شق کا طریقہ دوسروں کے لیے ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 827]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف ثابت بن أبى صفية، ولكنه صحيح بطرقه و شواهده أخرجه ابن ماجه فى «سننه» ، برقم: 1555، والبيهقي فى «سننه الكبير» ، برقم: 6820، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 19465 برقم: 19466، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» ، برقم: 11748، وأخرجه الطبراني فى «الكبير» ، برقم: 2328»