🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 1057
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1057
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَلَقُّوا الرُّكْبَانَ لِلْبَيْعِ، وَلا تَنَاجَشُوا، وَلا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلا يَبِعِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ، وَلا يَخْطُبْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: (منڈی سے باہر) سواروں سے سودے کے لیے نہ ملو اور مصنوعی بولی نہ لگاؤ اور شہری کسی دیہاتی کے لیے سودا نہ کرے۔ اور کوئی شخص اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے اور کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام نہ بھیجے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1057]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وانظر الحديث السابق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1058
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1058
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا تَصَرُّوا الإِبِلَ وَالْغَنَمَ لِلْبَيْعِ، مَنِ اشْتَرَى مِنْكُمْ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا، وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا، وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ لا سَمُرَاءَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اونٹوں اور بکریوں کو فروخت کرنے کے لیے ان کا تصریہ (تھنوں میں دودھ جمع) نہ کرو۔ تم میں سے جو شخص اس طرح کا کوئی جانور خریدے تو اسے دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہوگا، اگر وہ چاہے، تو اسے اپنے پاس رکھے اور اگر چاہے، تو اسے واپس کر دے اور اس کے ساتھ کھجور کا ایک صاع دے، گندم نہ دے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1058]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2140، 2148، 2150، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1524، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4046، 4048، 4050، 4970، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3239، 3240، 3241، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2065، 2066، 2080، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1125 م، 1126، 1134، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2221، 2224، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1867، 1929، 2172، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10567، 10818، 10819، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7254، 7368، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5884، 5887»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1059
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1059
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنِ اشْتَرَى مُصَرَّاةً فَهُوَ بِالْخِيَارِ، إِنْ شَاءَ أَمْسَكَهَا، وَإِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ، لا سَمُرَاءَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جو شخص تصریہ والا جانور خرید لے اسے اختیار ہوگا، اگر وہ چاہے، تو اسے اپنے پاس رکھے اور اگر چاہے، تو اسے کھجوروں کے ایک صاع کے ساتھ واپس کر دے لیکن (کھجوریں دے) گندم نہ دے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1059]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وانظر الحديث السابق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1060
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1060
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلاءُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " الْيَمِينُ الْكَاذِبَةُ مَنْفَقَةٌ لِلسِّلْعَةِ، مَمْحَقَةٌ لِلْكَسْبِ" ,
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جھوٹی قسم سودا فروخت کروا دیتی ہے لیکن آمدن میں برکت کو مٹا دیتی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1060]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2087، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1606، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4906، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4473، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6009، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3335، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10517، 10518، 10519، 10520، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7327، 7413، 9473، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1061، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6460، 6480»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1061
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1061
حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الأَيْلِيِّ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1061]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأبو ضمرة هو: أنس بن عياض، وانظر الحديث السابق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1062
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1062
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الظُّلْمُ مَطْلُ الْغَنِيِّ، فَإِذَا أُتْبِعَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيُتْبِعْ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ظلم یہ ہے کہ خوشحال شخص قرض کی واپسی میں ٹال مٹول کرے اور جب کسی شخص کو قرض کی وصولی کے لیے کسی مالدار کے حوالے کر دیا جائے تو اسے (اس مالدار شخص سے) تقاضا کرنا چاہئے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1062]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2287، 2288، 2400، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1564، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5053، 5090، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4702، 4705، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6241، 6244، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3345، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1308، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2628، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2403، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11399، 11505، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7454، 7570، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6283، 6298، 6344»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1063
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1063
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَلاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِرَجُلٍ يَبِيعُ طَعَامًا، فَأَعْجَبَهُ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ، فَإِذَا هُوَ طَعَامٌ مَبْلُولٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک شخص کے پاس سے گزرے، جو اناج فروخت کر رہا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ اناج اچھا لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک اس میں داخل کیا، تو اس میں گیلا اناج بھی شامل تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ملاوٹ کرے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1063]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 101، 102، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4905، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2163، 2164، 2165، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3452، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1315، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2224، 2575، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10844، 10845، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7412، 8474، 9520، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6520»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1064
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1064
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَجُلا كَانَ يُهْدِي لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ عَامِ رَاوِيَةً مِنْ خَمْرٍ، فَأَهْدَاهَا إِلَيْهِ عَامًا، وَقَدْ حُرِّمَتْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا قَدْ حُرِّمَتْ، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَفَلا أَبِيعُهَا؟ فَقَالَ: إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا، قَالَ: أَفَلا أُكَارِمُ بِهَا الْيَهُودَ؟ قَالَ: إِنَّ الَّذِي حَرَّمَهَا حَرَّمَ أَنْ يُكَارَمَ بِهَا الْيَهُودُ، قَالَ: فَكَيْفَ أَصْنَعُ بِهَا؟ قَالَ: شُنَّهَا فِي الْبَطْحَاءِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص ہر سال شراب کا ایک مشکیزہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحفے کے طور پر پیش کرتا تھا ایک مرتبہ اس نے اسی طرح وہ تحفہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، تو شراب کو حرام قرار دیا جا چکا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے حرام قرار دیا جا چکا ہے۔ اس شخص نے عرض کی: کیا میں اسے فروخت نہ کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس ذات نے اس کے پینے کو حرام قرار دیا ہے، اس نے اس کی فروخت کو بھی حرام قرار دیا ہے، تو ان صاحب نے عرض کی: کیا میں یہود کو بغیر معاوضہ کے ویسے ہی دے دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس ذات نے اسے حرام قرار دیا ہے، اس نے اس بات کو بھی حرام قرار دیا ہے کہ وہ یہودیوں کو بغیر معاوضہ کے بھی نہ دو (بلکہ اسے ضائع کر دو)۔ ان صاحب نے عرض کی: پھر میں اس کا کیا کروں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اسے کھلے میدان میں بہا دو۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1064]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 822، وأورده ابن حجر فى «المطالب العالية» برقم: 1806، وله شاهد من حديث عبد الله بن عباس، أخرجه أحمد فى «مسنده» برقم: 3026، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4944، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2590»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1065
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1065
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ يَحْيَى الْمَخْزُومِيُّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَيُّمَا رَجُلٍ وَجَدَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ عِنْدَ رَجُلٍ قَدْ أَفْلَسَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ" ,
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص کسی دوسرے شخص کے پاس بعینہ اپنے سامان کو پاتا ہے، جس دوسرے شخص کو مفلس قرار دیا جا چکا ہو، تو وہ (پہلا شخص) اس سامان کا زیادہ حقدار ہوگا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1065]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2402، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1559، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5036، 5037، 5038، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2327، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4690، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6228، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3519، 3520، 3523، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1262، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2632، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2358، 2359، 2360، 2361، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11357، 11358، 11359،والدارقطني فى «سننه» برقم: 2900، 2901، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7245، 7489، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 2497، 2572، 2629، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1066، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6470»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1066
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1066
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1066]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وانظر الحديث السابق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12»