🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الحمیدی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1337)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث نمبر 1257
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1257
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ قَائِمٌ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَصَلَّيْتَ؟ قَالَ: لا، قَالَ: فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ" , قَالَ سُفْيَانُ: وَسَمَّى أَبُو الزُّبَيْرِ فِي حَدِيثِهِ الرَّجُلَ سُلَيْكَ بْنَ عَمْرٍو الْغَطَفَانِيَّ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص مسجد میں داخل ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت منبر پر موجود جمعے کا خطبہ دے رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: کیا تم نے نماز ادا کر لی ہے؟ اس نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دو رکعت نماز ادا کر لو۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: ابوزبیر نامی راوی نے اس روایت میں ان صاحب کا نام سیدنا سلیک بن عمر و عطفانی رضی اللہ عنہ بیان کیا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1257]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 930، 931، 1166، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 875، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1831، 1832، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2500، 2501، 2502، 2504، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم:، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 499، 1715، 1716، 1717، 1729، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1115، 1116، بدون ترقيم، والترمذي فى «جامعه» برقم: 510، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1592، 1596، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1112، 1114، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5771، 5772، 5773، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14391، 14530، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1830، 1946، 1969، 1970، 1988، 1989، 2117، 2186، 2276، 2622»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1258
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1258
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ جَعْدَةَ، قَالَ:" رَأَيْتُ الْحَسَنَ بْنَ أَبِي الْحَسَنِ دَخَلَ مَسْجِدَ وَاسِطَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَابْنُ هُبَيْرَةَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَجَلَسَ" .
حسان نامی راوی کہتے ہیں: میں نے حسن بن ابوالحسن کو مسجد واسط میں جمعہ کے دن داخل ہوتے دیکھا اس وقت ابن ہبیرہ منبر پر خطبہ دے رہا تھا، تو انہوں نے پہلے دو رکعت ادا کیں پھر وہ بیٹھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1258]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، وأخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 511، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1594، وأورده ابن حجر فى «المطالب العالية» ‏‏‏‏ برقم: 716، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 5515، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 5205، 5207، 5208، 37640، 37641»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1259
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1259
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، فَقَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ، فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الأَرْضِ" , قَالَ جَابِرٌ: لَوْ كُنْتُ أُبْصِرُ لأَرَيْتُكُمْ مَوْضِعَ الشَّجَرَةِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حدیبیہ کے دن ہم لوگ 1400 کی تعداد میں تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج کے دن تم لوگ روئے زمین کے سب سے بہتر فرد ہو۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اگر میری بصارت کام کرتی ہوتی، تو میں تمہیں اس درخت کی جگہ دکھاتا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1259]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3576، 4152، 4153، 4154، 4840، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1856، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 125، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4874، 6540، 6541، 6542، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 81، 11442، 11443، 11445، والدارمي فى «مسنده» برقم: 27، 28، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10309، 10310، 10311، 12992، 16654، وأحمد فى «مسنده» برقم: 3883، 3884، 14401، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2107»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1260
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1260
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَخْزُومِيَّ ، يَقُولُ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيِّ ، وَهُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ" .
محمد بن عباد بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: وہ اس وقت بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے سے منع کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: اس گھر کے پروردگار کی قسم! جی ہاں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1260]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1984، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1143، 1143، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2758، 2759، 2760، 2761، 2762، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1789، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1724، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8579، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14371، 14576، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2206»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1261
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1261
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قِيلَ أَنْ نَلْقَى ابْنِ الْمُنْكَدِرِ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَكَحْتَ يَا جَابِرُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَبِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ؟ قُلْتُ: ثَيِّبٌ، قَالَ:" فَهَلا جَارِيَةً تُلاعِبُكَ تُلاعِبُهَا؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ، وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ، وَكُنَّ لِي تِسْعَ أَخَواتٍ، فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ أَجْمَعَ إِلَيْهِنَّ جَارِيَةً خَرْقَاءَ مِثْلَهُنَّ، وَلَكِنِ امْرَأَةٌ تُمَشِّطُهُنَّ، وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ، قَالَ: أَصَبْتَ" ,
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے جابر! کیا تم نے شادی کر لی ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کنواری کے ساتھ یا ثیبہ کے ساتھ؟ میں نے عرض کی: ثیبہ کے ساتھ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کسی لڑکی کے ساتھ شادی کیوں نہیں کی کہ وہ تمہارے ساتھ خوش ہوتی اور تم اس کے ساتھ خوش ہوتے؟ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے والد غزوۂ احد کے موقع پر شہید ہو گئے تھے۔ انہوں نے 9 بیٹیاں چھوڑی ہیں، تو میری 9 بہنیں ہیں مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں ان کے ساتھ ایک لڑکی کو شامل کر دوں جو ان کی مانند کم سن ہو، میں ایک ایسی بیوی لانا چاہتا تھا جو ان کی کنگھی کر دیا کرے ان کی دیکھ بھال کیا کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک کیا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1261]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 4052، 443، 1801، 2097، 2309، 2385، 2394، 2405، 2470، 2603، 2604، 2718، 2861، 2967، 3087، 3089، 3090، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1466، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2496، 2713، 2714، 2715، 2717، 4182، 4911، 6517، 6518، 6519، 7138، 7140، 7141، 7143، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3219، 3220، برقم: 3226، برقم: 4604، برقم: 4605، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2048، 2776، 2777، 2778، 3347، 3505، 3747، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1100، 1253، 2712، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2262، 2673، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1860، 2205، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10479، 10480، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14348، 14396، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1793، 1843، 1850، 1891، 1898، 1965، 1974، 1990، 1991، 2123، 2124، 2125»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1262
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1262
قَالَ سُفْيَانُ : ثُمَّ لَقِيتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ ، فَحَدَّثَنِيهِ، وَزَادَ فِيهِ كَلِمَةً لَمْ يَقُلْهَا عَمْرٌو، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَكَحْتُ: يَا جَابِرُ اتَّخَذْتُمْ أَنْمَاطًا؟ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَّى لَنَا أَنْمَاطٌ؟ قَالَ: أَمَا إِنَّهَا سَتَكُونُ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ جب میں نے شادی کر لی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے جابر! کیا تم نے قالین استعمال کیا ہے؟ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے پاس کہاں سے قالین آئیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب آئیں گے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1262]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3631، 5161، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2083، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6683، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3386، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5548، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4145، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2774، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14446، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1978، 2015»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1263
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1263
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " مَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا قَطُّ، فَقَالَ: لا" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب بھی کوئی چیز مانگی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی نہ نہیں کی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1263]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6034، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2311، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6376، 6377، والدارمي فى «مسنده» برقم: 71، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14515، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 1826، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2001، وعبد بن حميد فى «المنتخب من مسنده» برقم: 1087، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 32470، والترمذي فى "الشمائل"، 352، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 1339، 3345»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1264
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1264
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" مَرِضْتُ فَعَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، وَهُمَا يَمْشِيَانِ فَأُغْمِيَ عَلَيَّ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ، فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَبَّهُ عَلَيَّ، فَأَفَقْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ أَقْضِي فِي مَالِي؟ كَيْفَ أَصْنَعُ فِي مَالِي؟ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى نَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ" ,
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں بیمار ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ میری عیادت کے لیے تشریف لائے، یہ دونوں حضرات پیدل تشریف لائے تھے مجھ پر بے ہوشی طاری ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوایا اور وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مجھ پر انڈیلا تو مجھے ہوش آ گیا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں اپنے مال کے بارے میں کیا فیصلہ دوں؟ میں اپنے مال کے بارے میں کیا طریقہ اختیار کروں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، یہاں تک کہ وراثت سے متعلق آیت نازل ہو گئی۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1264]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 194، 4577، 5651، 5676، 6723، 6743، 7309، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1616، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 106، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1266، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 3204، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 138، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 71، 6287، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2886، 2887، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2096، 2097، 3015، والدارمي فى «مسنده» برقم: 760، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1436، 2728، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1138، 12328، 12329، 12396، 12397، 12453، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14406، 14519، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2018، 2180»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1265
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1265
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: نَزَلَتْ فِيَّ آيَةُ الْمِيرَاثِ , قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَلَمْ يَسْمَعْهُ سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: وراثت (کے حکم) سے متعلق آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی۔
امام حمیدی رحمہ اللہ کہتے ہیں: سفیان نامی راوی نے ابوزبیر نامی راوی سے یہ روایت نہیں سنی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1265]
تخریج الحدیث: «إسناده منقطع،ولكن أخرجه وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 106، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1266، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 3204، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 138، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 71، 6287، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2886، 2887، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2096، 2097، 3015، 3015 م، والدارمي فى «مسنده» برقم: 760، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1436، 2728، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1138، 12328، 12329، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14406، 14519، 15229، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2018، 2180»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
حدیث نمبر 1266
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1266
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: نَدَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَهُمْ، فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَحَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ" , وَقَالَ سُفْيَانُ: زَادَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ: وَابْنُ عَمَّتِي.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خندق کے موقع پر (دشمن کی جاسوسی کے لئے) لوگوں کو طلب کیا، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے خود کو پیش کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر لوگوں کو طلب کیا، تو انہوں نے خود کو پیش کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر انہیں طلب کیا، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے خود کو پیش کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر نبی کا ایک حواری ہوتا ہے اور میرا حواری، زبیر ہے۔ سفیان کہتے ہیں: ہشام بن عروہ نامی راوی نے یہ الفاظ اضافی نقل کیے ہیں میرا پھوپھی زاد (زبیر ہے)۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1266]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2846، 2847، 2997، 3719، 4113، 7261، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2415، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6985، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8154، 8155، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3745، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 122، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13207، 13208، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14518، 14598، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2022، 2082»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں