مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 1277
حدیث نمبر: 1277
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَدِمَ أَعْرَابِيٌّ الْمَدِينَةَ، فَبَايَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْهِجْرَةِ، ثُمَّ حُمَّ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِلْنِي بَيْعَتِي، قَالَ: لا، فَلَمَّا اشْتَدَّتْ بِهِ الْحُمَّى أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِلْنِي بَيْعَتِي، قَالَ: لا، ثُمَّ اشْتَدَّتْ بِهِ الْحُمَّى، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِلْنِي بَيْعَتِي، قَالَ: لا، ثُمَّ اشْتَدَّتْ بِهِ الْحُمَّى، فَخَرَجَ هَارِبًا مِنَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا، وَتُنْصِعُ طِيبَهَا" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی مدینہ منورہ آیا، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر ہجرت کی بیعت کی اسے بخار ہو گیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میری بیعت مجھے واپس کیجئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں!“ پھر اس کا بخار تیز ہو گیا، وہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میری بیعت مجھے واپس کر دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں!“ پھر اس کا بخار اور تیز ہو گیا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ میری بیعت مجھے واپس کر دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں!“ پھر اس کا بخار اور شدید ہو گیا، تو وہ مدینہ منورہ سے خوفزدہ ہو کر چلا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مدینہ کی مثال بھٹی کی مانند ہے، جو زنگ دیتی ہے اور صاف چیز کو نکھار دیتی ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1277]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1883، 7209، 7211، 7216، 7322، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1383، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3732، 3735، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4196، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4248، 7760، 8665، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3920، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14505، 14521، 15167، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2023، 2174»
حدیث نمبر 1278
حدیث نمبر: 1278
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ثَلاثِ مِائَةِ رَاكِبٍ، وَأَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ نَرْصُدُ عِيرًا لِقُرَيْشٍ، فَأَصَابَنَا جُوعٌ شَدِيدٌ حَتَّى أَكَلْنَا الْخَبَطَ، فَسُمِّيَ ذَلِكَ الْجَيْشُ جَيْشَ الْخَبَطِ، قَالَ: فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ وَنَحْنُ بِالسَّاحِلِ دَابَّةً تُسَمَّى الْعَنْبَرَ، فَأَكَلْنَا مِنْهَا نِصْفَ شَهْرٍ، وَايْتَدَمْنَا بِهِ وَادَّهَنَّا بَوَدِكِهِ حَتَّى ثَابَتْ أَجْسَامُنَا، قَالَ: فَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ ضِلَعًا مِنْ أَضْلاعِهِ فَنَصَبَهُ، ثُمَّ نَظَرَ أَطْوَلَ رَجُلٍ وَأَعْظَمَ جَمَلٍ فِي الْجَيْشٍ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ الْجَمَلَ، ثَمَّ يَمُرَّ تَحْتَهُ، فَفَعَلَ، فَمَرَّ تَحْتَهُ، فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ:" هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ؟ قُلْنَا: لا" ,
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم تین سو سواروں کو ایک مہم پر بھیجا، ہمارے امیر سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ تھے، ہم قریش کے ایک قافلے کی گھات میں تھے، ہمیں شدید بھوک لاحق ہو گئی، یہاں تک کہ ہم پتے کھانے پر مجبور ہو گئے اس لیے اس لشکر کا نام ”پتوں والا لشکر“ رکھا گیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سمندر سے ہمارے سامنے ایک سمندری مخلوق آئی ہم اس وقت ساحل پر موجود تھے اسے ”عنبر“ کہا جاتا تھا ہم پندرہ دن تک اس کا گوشت کھاتے رہے، ہم نے اس کے تیل کے ساتھ روٹی کھائی اس کی چربی کو جسم پر ملا یہاں تک کہ ہم موٹے تازے ہو گئے۔ پھر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اس کی ایک پسلی کو کھڑا کیا پھر انہوں نے سب سے طویل ترین شخص اور لشکر کے سب سے اونچے اونٹ کا جائزہ لیا، پھر اس شخص کو حکم دیا کہ وہ اس اونٹ پر سوار ہوا اور اس پسلی کے نیچے سے گزرے تو اس شخص نے ایسا ہی کیا وہ اس کے نیچے سے گزر گیا، ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس اس کا کچھ حصہ ہے؟“ ہم نے عرض کی: جی نہیں! [مسند الحميدي/حدیث: 1278]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2483، 2983، 4360، 4361، 4362، 5493، 5494، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1935، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5259، 5260، 5261، 5262، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4362، 4363، 4364، 4365، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4844، 4845، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3840، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2475، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2055، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4159، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19026، 19027، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14477، 14478، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1786، 1954، 1955، 1956»
حدیث نمبر 1279
حدیث نمبر: 1279
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ وَزَادَ، فَكَانَ فِينَا رَجُلٌ مَعَهُ جِرَابٌ فِيهِ تَمْرٌ، فَكَانَ يُعْطِينَا مِنْهُ قَبْضَةً، قَبْضَةً، ثَمَّ صَارَتْ إِلَى تَمْرَةٍ، فَلَمَّا فَنِيَ وَجَدْنَا فَقْدَهُ ,
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: ”ہمارے درمیان ایک شخص تھا جس کے پاس بوری تھی جس میں کھجوریں موجود تھیں وہ اس میں سے ایک، ایک مٹھی کھجوریں ہمیں دیا کرتا تھا، پھر نوبت ایک کھجور تک آ گئی، جب وہ بھی ختم ہو گئی، تو ہمیں اس کی غیر موجودگی کا شدت سے احساس ہوا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1279]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف،لانقطاعه،ولكن وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2483، 2983، 4360، 4361، 4362، 5493، 5494، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1935، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5259، 5260، 5261، 5262، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4362، 4363، 4364 والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4844، 4845، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3840، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2475، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2055، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4159، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19026، 19027،وأحمد فى «مسنده» برقم: 14477، 14478، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1786، 1954، 1955، 1956»
حدیث نمبر 1280
حدیث نمبر: 1280
قَالَ أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ: وَلَمْ يَسْمَعْهُ سُفْيَانُ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: وَكَانَ فِينَا رَجُلٌ، فَلَمَّا اشْتَدَّ الْجُوعُ نَحَرَ ثَلاثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ نَحَرَ ثَلاثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ نَحَرَ ثَلاثَ جَزَائِرَ، ثُمَّ نَهَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہمارے درمیان ایک شخص موجود تھا، جب بھوک شدید ہو گئی تو اس نے تین اونٹ ذبح کر دیے، پھر تین اونٹ ذبح کیے، پھر تین اونٹ ذبح کیے، پھر سیدنا ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے اسے ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1280]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2483، 2983، 4360، 4361، 4362، 5493، 5494، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1935، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5259، 5260، 5261، 5262، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4362، 4363، 4364، 4365، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4844، 4845، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3840، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2475، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2055، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 4159، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 19026، 19027، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14477، 14478، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1786، 1954، 1955، 1956»
حدیث نمبر 1281
حدیث نمبر: 1281
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرٌو، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لأَبِي: وَكُنْتُ فِي الْجَيْشِ جَيْشِ الْخَبَطٍ، فَأَصَابَ النَّاسَ جُوعٌ، قَالَ لِي أَبِي:" انْحَرْ، قُلْتُ: نَحَرْتُ، ثُمَّ أَصَابَهُمْ جُوعٌ شَدِيدٌ، فَقَالَ لِي أَبِي: انْحَرْ، قُلْتُ: نَحَرْتُ، ثُمَّ أَصَابَهُمْ جُوعٌ شَدِيدٌ، فَقَالَ لِي أَبِي: انْحَرْ، فَقُلْتُ: نَحَرْتُ، ثُمَّ قَالَ أَبِي: انْحَرْ، قُلْتُ: نُهِيتُ" .
قیس بن سعد بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے والد سے کہا: میں اس لشکر میں موجود تھا، جسے پتوں والا لشکر کا نام دیا گیا، لوگوں کو بھوک لاحق ہو گئی تو میرے والد نے مجھ سے کہا: تم قربان کرو، میں نے جواب دیا: میں قربان کر لیتا ہوں، پھر لوگوں کو شدید بھوک کا سامنا کرنا پڑا تو میرے والد نے مجھے فرمایا: تم قربان کرو! میں نے جواب دیا: میں قربان کر دیتا ہوں، پھر لوگوں کو بھوک کا سامنا کرنا پڑا تو میرے والد نے مجھے کہا: تم قربان کرو، تو میں نے جواب دیا: مجھے (لشکر کے امیر کی طرف سے) اس سے منع کر دیا گیا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1281]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم:4361، وانظر الحديثين السابقين»
حدیث نمبر 1282
حدیث نمبر: 1282
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يُشِيرُ إِلَى أُذُنَيْهِ، أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ، يَقُولُ:" إِنَّ نَاسًا يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ اپنے کانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بات بیان کرتے ہیں: میں گواہی دے کر یہ بات کہتا ہوں کہ میں نے اپنے ان دو کانوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”بے شک کچھ لوگ جہنم سے نکالے جائیں گے اور جنت میں داخل کر دیے جائیں گے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1282]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 6558، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 191، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 183، 7483، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 20834، 20835، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14533، 14715، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1831، 1973، 1992، 1993، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 20862، 20863»
حدیث نمبر 1283
حدیث نمبر: 1283
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو كُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، ثُمَّ يَرْجِعُ فَيْصَلِّيَهَا بِقَوْمِهِ، قَالَ: فَأَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، قَالَ: فَصَلاهَا مُعَاذٌ مَعَهُ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَّ قَوْمَهُ، فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَتَنَحَّى رَجُلٌ مِمَّنْ خَلْفَهُ، فَصَلَّى وَحْدَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالُوا: نَافَقْتَ، فَقَالَ: لا، وَلَكِنِّي آتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّكَ أَخَّرْتَ الْعِشَاءَ الْبَارِحَةَ، وَإِنَّ مُعَاذًا صَلاهَا مَعَكَ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَمَّنَا، فَافْتَتَحَ بِسُورَةِ الْبَقَرَةِ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ تَأَخَّرْتُ، فَصَلَّيْتُ وَحْدِي، وَإِنَّمَا نَحْنُ أَهْلُ نَواضِحَ نَعْمَلُ بِأَيْدِينَا، فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُعَاذٍ، فَقَالَ:" أَفَتَّانٌ أَنْتَ يَا مُعَاذُ؟ أَفَتَّانٌ أَنْتَ؟ اقْرَأْ سُورَةَ كَذَا، وَسُورَةَ كَذَا، وَعَدَّدَ السُّوَرَ , قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَ فِيهِ أَبُو الزُّبَيْرِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِق , قَالَ سُفْيَانُ: فَقُلْتُ لِعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ: إِنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ، وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الْبُرُوجِ، فَقَالَ عَمْرٌو: وَهُوَ هَذَا، أَوْ نَحْوُ هَذَا".
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرتے تھے، پھر وہ (اپنے محلے) واپس تشریف لے جاتے تھے اور اپنی قوم کو یہ نماز پڑھایا کرتے تھے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کی، تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں عشاء کی نماز ادا کی پھر وہ واپس چلے گئے اور انہوں نے اپنی قوم کو نماز پڑھانا شروع کی، تو سورۃ البقرہ کی تلاوت شروع کر دی ان کے پیچھے نماز ادا کرنے والوں میں سے ایک صاحب پیچھے ہٹے انہوں نے تنہا نماز ادا کی اور چلے گئے۔ لوگوں نے ان سے کہا: تم منافق ہو گئے ہو، تو وہ بولا: جی نہیں! میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتاؤں گا۔ پھر وہ شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! گزشتہ رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز تاخیر سے ادا کی تھی سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں یہ نماز ادا کی پھر واپس آئے اور انہوں نے ہمیں نماز پڑھانا شروع کی اور سورۃ البقرہ پڑھنی شروع کر دی جب میں نے یہ دیکھا تو میں پیچھے ہٹ گیا پھر میں نے اکیلے نماز ادا کر لی ہم اونٹ پالنے والے لوگ ہیں ہمیں اپنے ہاتھوں سے کام کاج کرنا ہوتا ہے۔ (راوی کہتے ہیں) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے معاذ! کیا تم آزمائش میں مبتلا کرنا چاہتے ہو؟ کیا تم آزمائش میں مبتلا کرنا چاہتے ہو؟ تم فلاں اور فلاں سورت کی تلاوت کیا کرو!“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سورتوں کی گنتی کروائی۔ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: ابوزبیر نامی راوی نے اس میں یہ الفاظ مزید نقل کیے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سورۃ الاعلیٰ، سورۃ البروج، سورۃ الشمس اور سورۃ الطارق کی تلاوت کیا کرو۔“ سفیان کہتے ہیں: میں نے عمرو بن دینار سے کہا: ابوزبیر نے تو یہ بات بیان کی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا: ”تم سورۃ الاعلیٰ، سورۃ الليل، سورۃ الشمس، سورۃ الطارق اور سورۃ البروج کی تلاوت کیا کرو۔“ تو عمر و بن دینار نے کہا: یہ الفاظ یہی ہیں، یا اس کی مانند ہیں۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1283]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 700، 701، 705، 711، 6106، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 465، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 521، 1611، 1633، 1634، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1524، 1839، 1840، 2400، 2401، 2402، 2403، 2404، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 830، 834، 983، 996، 997، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 907، 911، وأبو داود فى «سننه» برقم: 599، 600، 790، بدون ترقيم، والترمذي فى «جامعه» برقم: 583، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1333، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 836، 986، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4108، 5180، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14410، 14422، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1827»
حدیث نمبر 1284
حدیث نمبر: Q1284
أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ الْإِمَامُ الْعَالِمُ الزَّاهِدُ الْحَافِظُ تَقِيُّ الدِّينِ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْغَنِيِّ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ سُرُورٍ الْمَقْدِسِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ زَيْدٍ الْمُؤَدِّبُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ مِنْ أَصْلِهِ قَالَ: ثنا أَبُو عَلِيٍّ بِشْرُ بْنُ مُوسَي الْأَسَدِيُّ قَالَ:
تخریج الحدیث:
حدیث نمبر Q1284
حدیث نمبر: 1284
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ بَعْدَ مَا أُدْخِلَ حُفْرَتَهُ، قَالَ:" فَأَمَرَ بِهِ، فَأُخْرِجَ، فَوَضَعَهُ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَأَلْبَسَهُ قَمِيصَهُ، وَنَفَثَ عَلَيْهِ مِنْ رِيقِهِ" ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ ,
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن ابی بن سلول (کی میت) کے پاس تشریف لائے، اس وقت جب اسے قبر میں رکھا جا چکا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اسے باہر نکالا گیا اور اس کی میت کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنوں پر رکھا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اسے پہنوائی اور اس پر اپنا لعاب دہن ڈالا۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1284]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1270، 1350، 5795، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2773، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3174، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1900، 2018، 2019، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2039، 2157، 2158، 9586، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 6787، وأحمد فى «مسنده» برقم: 15217، 15307، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1828، 1958»
حدیث نمبر 1285
حدیث نمبر: 1285
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هَارُونَ مُوسَى بْنُ أَبِي عِيسَى ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبَيٍّ، وَكَانَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَمِيصَانِ: أَلْبِسْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْقَمِيصَ الَّذِي يَلِي جِلْدَكَ.
ابو ہارون کہتے ہیں: عبداللہ بن ابی کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ گزارش کی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت دو قمیصیں پہنی ہوئی تھیں، اس نے عرض کی تھی: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ قمیص اسے پہنا دیجئے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم کے ساتھ مس ہو رہی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1285]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات، انفرد به المصنف من هذا الطريق»