مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 1306
حدیث نمبر: 1306
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ بَدَنَةٍ، فَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنَ الْيَمَنِ فَأَشْرَكَهُ فِي بُدْنِهِ، بِالثُّلُثِ، فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتًّا وَسِتِّينَ بَدَنَةً، وَأَمَرَ عَلِيًّا فَنَحَرَ أَرْبَعًا وَثَلاثِينَ، وَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كُلِّ جَزُورٍ بِبِضْعَةٍ، فَطُبِخَتْ، فَأَكَلا مِنَ اللَّحْمِ وَحَسَيَا مِنَ الْمَرَقِ" , قَالَ سُفْيَانُ: وَأَهْلُ الْعَرَبِيَّةِ يَقُولُونَ: وَحَسَوَا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سو اونٹوں کی قربانی دی تھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ یمن سے تشریف لائے تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں قربانی کے ایک تہائی حصے میں شریک کر لیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے 66 اونٹ خود نحر کیے تھے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ وہ باقی 34 اونٹ قربان کر دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ہر اونٹ کا کچھ حصہ لے کر اسے پکایا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ گوشت کھایا اور شوربہ پیا۔ سفیان کہتے ہیں: اہل عرب اس لفظ کا تلفظ یوں کرتے ہیں: «وَحَسَوَا» ۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1306]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1457، 3791، 3796، 3813، 3819، 3842، 3878، 3886، 3914، 3919، 3921، 3924، 3943، 3944، 4004، 4006، 4018، 4020، 6322، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1677، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3158، والترمذي فى «جامعه» برقم: 817، 856، 857، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1785»
حدیث نمبر 1307
حدیث نمبر: 1307
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ، دَعُوا النَّاسَ يَرْزُقُ اللَّهُ بَعْضَهُمْ مِنْ بَعْضٍ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”شہری شخص دیہاتی کے لیے سودا نہ کرے، تم لوگوں کو چھوڑ دو! اللہ تعالیٰ انہیں ایک دوسرے کے ذریعے رزق عطا کر دے گا۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1307]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1522، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4960، 4963، 4964، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4507، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6042، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3442، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1223، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2176، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11016، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14512، 14563، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1839، 2169»
حدیث نمبر 1308
حدیث نمبر: 1308
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَسِّمُ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ بِالْجِعْرَانَةَ، وَالتِّبْرُ فِي حِجْرِ بِلالٍ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ اعْدِلْ، فَإِنَّكَ لَمْ تَعْدِلْ، قَالَ: وَيْحَكَ، فَمَنْ يَعْدِلُ إِذَا لَمْ أَعْدِلْ؟ فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعْهُ، فَإِنَّ هَذَا مَعَ أَصْحَابٍ لَهُ، أَوْ فِي أَصْحَابٍ لَهُ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ، لا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”جعرانہ“ کے مقام پر غزوہ حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا، کچھ ٹکڑے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی گود میں تھے، اسی دوران ایک شخص وہاں آیا اس نے عرض کی: اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ صلی اللہ علیہ وسلم عدل سے کام لیجئے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم عدل سے کام نہیں لے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا ستیاناس ہو، اگر میں عدل سے کام نہیں لوں گا، تو پھر کون عدل سے کام لے گا؟“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو۔ کیونکہ اس کے کچھ ساتھی ایسے بھی ہیں (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) جو قرآن کی تلاوت کریں گے، لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، یہ لوگ دین سے یوں نکل جائیں گے، جس طرح تیر نشانے سے پار ہو جاتا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1308]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3138، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1063، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4819، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2576، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 8033، 8034، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 172، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 2902، وأحمد فى «مسنده» برقم: 15032، 15047، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 18651»
حدیث نمبر 1309
حدیث نمبر: 1309
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، غَيْرَ مَرَّةٍ، وَلا مَرَّتَيْنِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَيُّكُمْ كَانَتْ لَهُ أَرْضٌ أَوْ نَخْلٌ فَلا يَبِعْهَا حَتَّى يَعْرِضَهَا عَلَى شَرِيكِهِ"" , قَالَ سُفْيَانُ: وَكَانَ الْكُوفِيُّونَ يَأْتُونَ أَبَا الزُّبَيْرِ يَسْأَلُونَهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، وَيَقُولُونَ: حَدَّثَنَا بِهِ عَنْكَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جس شخص کی زمین ہو یا کھجوروں کا باغ ہو، وہ اسے اس وقت تک فروخت نہ کرے، جب تک اپنے شراکت دار کو اس کی پیشکش نہ کر دے۔“ سفیان نامی راوی کہتے ہیں: اہل کوفہ زبیر نامی راوی کے پاس آئے اور ان سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا اور یہ کہا: ابن ابولیلیٰ نے آپ کے حوالے سے یہ روایت ہمیں سنائی ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1309]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2213، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1608، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5178، 5179، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2350، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4660، 4714، 4715، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6197، 6253، 6254، 6255، 11716، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3513، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1312، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2670، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2492، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11687، 11688، 11709، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4532، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14513، 14548، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1835، 2171، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 14403»
حدیث نمبر 1310
حدیث نمبر: 1310
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُفُّوا صِبْيَانَكُمْ عِنْدَ فَحْمَةِ الْعِشَاءِ، وَإِيَّاكُمْ وَالسَّمَرَ بَعْدَ هَدْأَةِ الرِّجْلِ، فَإِنَّكُمْ لا تَدْرُونَ مَا يَبُثُّ اللَّهُ مِنْ خَلْقِهِ، فَأَغْلِقُوا الأَبْوَابَ، وَأَطْفِئُوا الْمِصْبَاحَ، وَأَكْفِئُوا الإِنَاءَ، وَأَوْكُوا السِّقَاءَ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”شام ہو جانے کے بعد اپنے بچوں کو (گھروں میں) روک لیا کرو اور آدمی کے آرام سے لیٹ جانے کے بعد بات چیت نہ کی جائے، کیونکہ تم لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسے پھیلا دیتا ہے؟ تم لوگ (سوتے وقت) دروازے بند کر لیا کرو، چراغ بجھا دیا کرو، برتن اوندھے کر دیا کرو اور مشکیزے کے منہ کو بند کر دیا کرو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1310]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 3280، 3304، 3316، 5623، 5624، 6295، 6296، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 2012، 2013، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 131، 132، 133، 2559، 2560، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1271، 1272، 1273، 1274، 1275، 1276، 5225، 5517، 5518، 5551، 5553، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 7307، 7796، 7797، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 5357، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 6716، 9668، 9713، 9714، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2604، 3731، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1812، 2766، 2767، 2857، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 360، 3268، 3410، 3771، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1232، 3258، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14334، 14337، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1771، 1772، 1837، 2031، 2130، 2181، 2221، 2254، 2258، 2259، 2260، 2327»
حدیث نمبر 1311
حدیث نمبر: 1311
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ غَيْرَ مَرَّةٍ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَزْرَعُ زَرْعًا، فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسٌ، وَلا جِنٌّ، وَلا طَيْرٌ، وَلا وَحْشٌ، وَلا سَبُعٌ، وَلا دَابَّةٌ، وَلا شَيْءٌ إِلا كَانَ لَهُ صَدَقَةً" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو مسلمان کوئی چیز بوتا ہے اور اس (پیداوار میں سے) کوئی انسان یا جن یا پرندہ یا وحشی جانور یا درندہ یا چوپایہ یا جو بھی چیز کچھ کھا لیتے ہیں، تو یہ چیز اس کے لیے صدقہ شمار ہوتی ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1311]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1552، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3368، 3369، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2652، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11865، 11866، وأحمد فى «مسنده» برقم: 15434، 27685، 28004، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2213، 2245»
حدیث نمبر 1312
حدیث نمبر: 1312
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " لَمْ نُبَايِعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمَوْتِ، وَلَكِنْ بَايَعْنَاهُ عَلَى أَنْ لا نَفِرَّ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دست اقدس پر موت کی بیعت نہیں کی، ہم نے اس بات پر بیعت کی تھی کہ ہم فرار نہیں ہوں گے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1312]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1856، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4875، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4169، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 7731، 8641، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1591، 1594، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2498، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14330، 15310، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1838، 1908، 2301»
حدیث نمبر 1313
حدیث نمبر: 1313
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَفْضَلُ الصَّلاةِ: طُولُ الْقِيَامِ، وَأَفْضَلُ الْجِهَادِ: مَنْ أُهْرِيقَ دَمُهُ، وَعُقِرَ جَوَادُهُ، وَأَفْضَلُ الصَّدَقَةِ: جُهْدُ الْمُقِلِّ، وَمَا تَصَدَّقُ بِهِ عَنْ ظَهْرِ غِنًى" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”سب سے افضل نماز وہ ہے، جس میں قیام طویل ہو اور سب سے افضل جہاد وہ ہے، جس میں خون بہا دیا جائے اور گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیے جائیں اور سب سے افضل صدقہ وہ ہے، جو غریب شخص کوشش سے کرے۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کہ جو صدقہ دیا جائے، تو اس کے بعد آدمی خوشحال رہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1313]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 41، 756، 756، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1155، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 197، 1758، 4639، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 23، والترمذي فى «جامعه» برقم: 387، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2437، 2754، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1421، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 4760، 4761، 4762، 20813، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14430، 14453، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 2081، 2131، 2273، 2296»
حدیث نمبر 1314
حدیث نمبر: 1314
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " لَمَّا دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَى الْبَيْعَةِ، وَجَدَ رَجُلا مِنَّا يُقَالُ لَهُ الْجِدُّ بْنُ قَيْسٍ مُخْتَبِيًا تَحْتَ إِبِطِ بَعِيرِهِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں سے ایک شخص کو جس کا نام جد بن قیس تھا، اسے اپنے اونٹ کی بغل کے نیچے چھپے ہوئے پایا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1314]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح على شرط مسلم، وأخرجه وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1908 وهو طرف للحديث المتقدم برقم: 1275 فانظره لتمام التخريج»
حدیث نمبر 1315
حدیث نمبر: 1315
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَسُئِلَ عَنِ الثَّوْمِ، فَقَالَ:" مَا كَانَ بِأَرْضِنَا يَوْمَئِذٍ ثَوْمٌ، وَإِنَّمَا الَّذِي نُهِيَ عَنْهُ الْبَصَلُ وَالْكُرَّاثُ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے لہسن کے بارے میں دریافت کیا گیا: تو انہوں نے فرمایا: ہمارے علاقے میں لہسن نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیاز اور گندنے سے منع کیا ہے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1315]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 854، 855، 5452، 7359، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 564، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1664، 1665، 1668، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1644، 1646، 2086، 2087، 2089، 2090، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 706، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 788، 6645، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3822، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1806، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3365، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5133، 5134، 5136، 5137، 13457، وأحمد فى «مسنده» برقم: 15245، 15301، وأخرجه أبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1889، 2226، 2321، 2322»