مسند الحميدي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث نمبر 1326
حدیث نمبر: 1326
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمَدِينَةِ صَائِمًا حَتَّى إِذَا كَانَ بِكُرَاعِ الْغَمِيمِ رَفَعَ إِنَاءً، فَوَضَعَهُ عَلَى كَفِّهِ، وَهُوَ عَلَى الرَّحْلِ، فَحَبَسَ مَنْ بَيْنَ يَدَيْهِ، حَتَّى أَدْرَكَهُ مَنْ خَلْفَهُ، ثُمَّ شَرِبَ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ، ثُمَّ بَلَغَهُ بَعْدَ ذَلِكَ أَنَّ نَاسًا صَامُوا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُولَئِكَ الْعُصَاةُ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ”کراع غمیم“ کے مقام پر پہنچے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن بلند کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہتھیلی پر رکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنی سواری پر سوار تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سے آگے والے افراد کو روک لیا یہاں تک کہ پیچھے والے لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک آ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن میں سے پی لیا لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ رہے تھے اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا کہ کچھ لوگوں نے ابھی بھی روزہ رکھا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لوگ نافرمان ہیں۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1326]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1114، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2019، 2020، 2536، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2706، 3549، 3551، 3565، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1587، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2262، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2583، والترمذي فى «جامعه» برقم: 710، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 8243، 8244، 8272، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14732، 14753، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1780، 1880، 2129، 2252»
حدیث نمبر 1327
حدیث نمبر: 1327
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لا تُرْقِبُوا وَلا تُعْمِرُوا، فَمَنْ أَرْقَبَ شَيْئًا أَوْ أَعْمَرَهُ فَهُوَ سَبِيلُ الْمِيرَاثِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم لوگ رقبیٰ کے طور پر کچھ نہ دو اور عمریٰ کے طور پر کوئی چیز نہ دو جو شخص رقبیٰ یا عمریٰ کے طور پر کوئی چیز دیتا ہے، تو اس میں وراثت کے احکام جاری ہوں گے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1327]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات غير أن ابن جريج قد عنعن،ولكن الحديث صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2626، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1625، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5127، 5128، 5129، 5136، 5140، 5141، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3730، 3732، 3734، 3738، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3556، 3558، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1351، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2383، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12092، 12093، وأحمد فى «مسنده» برقم: 9677، 14342، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1835، 1851، 2214، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 16876»
حدیث نمبر 1328
حدیث نمبر: 1328
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ مَاتَ الْيَوْمَ عَبْدٌ صَالِحٌ، فَقُومُوا فَصَلُّوا عَلَى أَصْحَمَةَ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نجاشی کا انتقال ہو گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آج ایک نیک آدمی فوت ہو گیا ہے تم لوگ اٹھو اور ”اصحمہ“ کی نماز جنازہ ادا کرو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1328]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات غير أن ابن جريج قد عنعن، ولكن الحديث صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1317، 1320، 1334، 3877، 3878، 3879، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 952، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3096، 3097، 3099، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1969، 1972، 1973، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2108، 2111، 2112، 8247، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7002، 7003، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14367، 14368، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1773، 1864، 2118، 2144، 2185»
حدیث نمبر 1329
حدیث نمبر: 1329
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُزَابَنَةِ، وَالْمُحَاقَلَةِ، وَالْمُخَابَرَةِ، وَأَنْ لا يُبَاعَ التَّمْرُ حَتَّى يَبْدُوَ صَلاحُهُ، وَأَنْ لا يُبَاعَ إِلا بِالدِّينَارِ، أَوِ الدِّرْهَمِ، إِلا أَنَّهُ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا" , وَالْمُخَابَرَةِ: كَرْيُ الأَرْضِ عَلَى الثُّلُثِ وَالرُّبْعِ، وَالْمُحَاقَلَةُ: بَيْعُ السُّنْبُلِ بِالْحِنْطَةِ، وَالْمُزَابَنَةُ: بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ، محاقلہ اور مخابرہ سے منع کیا ہے اور اس بات سے بھی منع کیا ہے کہ کھجور کے پک کر تیار ہونے سے پہلے اسے فروخت کیا جائے اور یہ کہ اسے صرف دینار یا درہم کے عوض میں فروخت کیا جائے البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کے بارے میں اجازت دی ہے۔ مخابرہ سے مراد یہ ہے کہ زمین کو ایک تہائی یا چوتھائی پیداوار کے عوض میں کرایہ پر دیا جائے۔ محاقلہ سے مراد یہ ہے کہ گندم کے کھیت میں موجود بالین کو فروخت کر دیا جائے۔ مزابنہ سے مراد یہ ہے کھجور کے عوض میں درخت پر لگی ہوئی کھجور کو فروخت کر دیا جائے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1329]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات غير أن ابن جريج قد عنعن ولكن الحديث صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1487، 2189، 2196، 2381، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1534، 1536، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4957، 4971، 4992، 4995، 5000، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3887، 3888، 3889، وأبو داود فى «سننه» برقم: 3370، 3373، 3374، 3375، 3404، 3405، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1290، 1313، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2659، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2216، 2218، 2266، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10709، 10710، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14542، 14573، 14581، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1806، 1841، 1844، 1845، 1879، 1918، 1996، 1997، 2132، 2141، 2143، 2170»
حدیث نمبر 1330
حدیث نمبر: 1330
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَدِمْنَا مَكَّةَ صَبِيحَةَ رَابِعَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، مَا صَنَعْتُ الَّذِي صَنَعْتُ، قَالَ: وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يُحِلُّوا، فَقَالُوا: حِلُّ مَاذَا؟ قَالَ: الْحِلُّ كُلُّ الْحِلِّ، دَخَلَتِ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم ذوالحجہ کی چار تاریخ کی صبح مکہ آ گئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے بعد میں جس چیز کا خیال آیا وہ پہلے آ جاتا، تو میں وہ طرز عمل اختیار نہ کرتا، جو میں نے اختیار کیا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ وہ احرام کھول دیں لوگوں نے عرض کی: کس حد تک؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مکمل طور پر احرام کھول دو۔ عمرہ قیامت تک کے لیے حج میں داخل ہو گیا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1330]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات غير أن ابن جريج قد عنعن ولكن الحديث صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1557، 1568، 1570، 1651، 1785، 2505، 4352، 7230، 7367، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1213، 1214، 1215، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1457، 3791، 3796، 3813، 3819، 3842، 3878، 3886، 3914، 3919، 3921، 3924، 3943، 3944، 4004، 4006، 4018، 4020، 6322، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1677، 1697، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1810، 1852، 1882، 1897، 1944، 2012، 2027»
حدیث نمبر 1331
حدیث نمبر: 1331
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" زَنَى رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ فَدَكٍ، فَكَتَبَ أَهْلُ فَدَكٍ إِلَى أُنَاسٍ مِنَ الْيَهُودِ بِالْمَدِينَةِ، أَنْ سَلُوا مُحَمَّدًا عَنْ ذَلِكَ، فَإِنْ أَمَرَكُمْ بِالْجَلْدِ، فَخُذُوهُ عَنْهُ، وَإِنْ أَمَرَكُمْ بِالرَّجْمِ، فَلا تَأْخُذُوهُ عَنْهُ، فَسَأَلُوهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: أَرْسِلُوا إِلَيَّ أَعْلَمَ رَجُلَيْنِ فِيكُمْ، فَجَاءُوا بِرَجُلٍ أَعْوَرَ يُقَالُ لَهُ ابِنُ صُورِيَّا، وَآخَرَ، فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْتُمَا أَعْلَمُ مَنْ قِبَلَكُمَا؟ فَقَالا: قَدْ نَحَّانَا قَوْمُنَا لِذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمَا:" أَلَيْسَ عِنْدَكُمَا التَّوْرَاةُ فِيهَا حُكْمُ اللَّهِ تَعَالَى؟"، قَالا: بَلَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأُنْشِدُكُمْ بَالَّذِي فَلَقَ الْبَحْرَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ، وَظَلَّلَ عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ، وَأَنْجَاكُمْ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ، وَأَنْزَلَ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، مَا تَجِدُونَ فِي التَّوْرَاةِ مِنْ شَأْنِ الرَّجْمِ؟ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلآخَرِ: مَا نُشِدْتُ بِمِثْلِهِ قَطُّ، ثُمَّ قَالا: نَجِدُ تَرْدَادَ النَّظَرِ زَنْيَةً، وَالاعْتِنَاقَ زَنْيَةً، وَالْقُبَلُ زَنْيَةً، فَإِذَا أَشْهَدَ أَرْبَعَةً أَنَّهُمْ رَأَوْهُ يُبِدِي وَيُعِيدُ كَمَا يَدْخُلُ الْمِيلُ فِي الْمِكْحَلَةِ، فَقَدْ وَجَبَ الرَّجْمُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ ذَاكَ فَأَمَرَ بِهِ، فَرُجِمَ، فَنَزَلَتْ: فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ وَإِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَضُرُّوكَ شَيْئًا وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ سورة المائدة آية 42" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: فدک کے رہنے والے ایک شخص نے زنا کا ارتکاب کیا، تو فدک کے رہنے والے لوگوں نے مدینہ منورہ میں رہنے والے کچھ یہودیوں کو خط لکھا کہ تم لوگ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کرو اگر وہ تمہیں کوڑے مارنے کا حکم دیں، تو تم اسے حاصل کر لینا اور اگر تمہیں سنگسار کرنے کا حکم دیں، تو تم اسے اختیار نہ کرنا ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنے میں سے دو زیادہ علم رکھنے والے افراد کو میرے پاس بھجواؤ“، تو وہ لوگ ایک کانے شخص کو لے کر آئے جس کا نام ”صوریا“ تھا اور ایک اور شخص کو لے کر آئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے دریافت کیا: ”تم دونوں زیادہ علم رکھنے والے ہو؟“ ان دونوں نے جواب دیا: ہماری قوم نے اسی لیے ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پاس تورات میں اللہ تعالیٰ کا حکم موجود نہیں؟“ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں جس نے بنی اسرائیل کے لیے دریا کو چیر دیا تھا اور جس نے بادلوں کے ذریعے تم پر سایہ کیا تھا اور تمہیں فرعون کے ساتھیوں سے نجات عطا کی تھی جس نے بنی اسرائیل پر من و سلویٰ نازل کیا تھا۔ سنگسار کرنے کے بارے میں تم تورات میں کیا پاتے ہو؟“ تو ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: مجھے اس کی مانند قسم کبھی نہیں دی گئی پھر ان دونوں نے جواب دیا: دوسری مرتبہ ڈالنا بھی زنا ہے، گلے لگانا بھی زنا ہے، بوسہ لینا بھی زنا ہے اور اگر چار آدمی گواہی دے دیں کہ انہوں نے کسی شخص کو زنا کرتے ہوئے دیکھا ہے یوں کہ جس طرح سلائی، سرمہ دانی میں داخل ہوتی ہے، تو سنگسار کرنا لازم ہو جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہی ہے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس شخص کو سنگسار کر دیا گیا، تو یہ آیت نازل ہوئی: «فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ وَإِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ يَضُرُّوكَ شَيْئًا وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ» (5-المائدة:42) ”اگر وہ تمہارے پاس آئیں، تو تم ان کے درمیان فیصلہ دو، یا تم ان سے اعراض کرو، اگر تم ان سے اعراض کرتے ہو، تو وہ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور اگر تم ان کے درمیان فیصلہ دیتے ہو، تو انصاف کے ساتھ ان کے درمیان فیصلہ دو۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1331]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، من أجل مجالد بن سعيد، وقد أخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1701، وأبو داود فى «سننه» برقم: 4452، 4455، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2328، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17032، 17111، 17112، والدارقطني فى «سننه» برقم: 4350، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14671، 15383، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1928، 2032، 2136»
حدیث نمبر 1332
حدیث نمبر: 1332
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ،" فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ سورة المائدة آية 41، يَهُودُ الْمَدِينَةِ، سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِينَ سورة المائدة آية 41، أَهْلُ فَدَكٍ، لَمْ يَأْتُوكَ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِهِ سورة المائدة آية 41، أَهْلُ فَدَكٍ، يَقُولُونَ: إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا الْجَلْدَ فَخُذُوهُ، وَإِنْ لَمْ تُؤْتَوْهُ، فَاحْذَرُوا الرَّجْمَ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں: «سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ» (5-المائدة:41) ”جھوٹ کو غور سے سننے والے۔“ اس سے مراد مدینہ منورہ کے یہودی ہیں۔ «سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِينَ» (5-المائدة:41) ”دوسری قوم کے افراد کی باتیں غور سے سننے والے۔“ اس سے مراد اہل فدک ہیں۔ «لَمْ يَأْتُوكَ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِهِ» (5-المائدة:41) ”وہ تمہارے پاس اس وقت تک نہیں آئیں گے، جب تک وہ کلمات کو ان کے مخصوص مقام سے تحریف نہیں کر دیتے۔“ تو اس سے مراد اہل فدک ہیں جنہوں نے یہ کہا تھا کہ اگر وہ کوڑے لگانے کا حکم دیں، تو اسے ان کی بات مان لینی چاہئے اور اگر یہ نہ دیں، تو پھر سنگسار کرنے سے بچنا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1332]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه أورده ابن حجر فى «المطالب العالية» برقم: 3586، وانظر الحديث السابق»
حدیث نمبر 1333
حدیث نمبر: 1333
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رَأَيْتُنِي الْبَارِحَةَ كَأَنَّ رَجُلا أَلْقَمَنِي كُتْلَةَ تَمْرٍ، فَعَجَمْتُهَا، فَوَجَدْتُ فِيهَا نَوَاةً، فَآذَتْنِي فَلَفِظْتُهَا، ثُمَّ أَلْقَمَنِي كُتْلَةً، فَمِثْلُ ذَلِكَ، ثُمَّ أُخْرَى، فَمِثْلُ ذَلِكَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَعْبُرْهَا، قَالَ: اعْبُرْهَا، قَالَ: هُوَ الْجَيْشُ الَّذِي بَعَثْتَ يُسْلِمُهُمُ اللَّهُ، وَيَغْنِمُهُمُ اللَّهُ، ثُمَّ يَلْقَوْنَ رَجُلا، فَيُنْشِدُهُمْ ذِمَّتَكَ، فَيَدَعُونَهُ، ثُمَّ يَلْقَوْنَ آخَرَ، فَيُنْشِدُهُمْ ذِمَّتَكَ، فَيَدَعُونَهُ، ثُمَّ يَلْقَوْنَ آخَرَ، فَيُنْشِدُهُمْ ذِمَّتَكَ، فَيَدَعُونَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَذَلِكَ قَالَ الْمَلَكُ يَا أَبَا بَكْرٍ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”گزشتہ رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص نے میرے منہ میں کھجور کا ٹکڑا ڈالا ہے میں نے اسے چبایا، تو مجھے اس میں گٹھلی بھی ملی جس نے مجھے تکلیف دی، تو میں نے اسے پھینک دیا، پھر اس نے میرے منہ میں ایک اور کھجور ڈالی، تو پھر ایسا ہی ہوا پھر اس نے ایک اور ڈالی پھر ایسا ہی ہوا۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ!مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی تعبیر بیان کروں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کی تعبیر بیان کرو“، تو انہوں نے عرض کی: اس سے مراد وہ لشکر ہے، جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کیا تھا اللہ تعالیٰ نے اسے سلامتی بھی عطا کی اور مال غنیمت بھی عطا کیا تھا، پھر لوگوں کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی، تو اس شخص نے انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ کا واسطہ دیا، تو ان لوگوں نے اسے چھوڑ دیا، پھر ان کی ملاقات ایک اور شخص سے ہوئی، تو اس شخص نے انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ کا واسطہ دیا، تو ان لوگوں نے اسے بھی چھوڑ دیا، پھر ان کی ملاقات ایک اور شخص سے ہوئی، تو اس نے انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ کا واسطہ دیا، تو انہوں نے اسے بھی چھوڑ دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوبکر! فرشتے نے اسی طرح بیان کیا ہے۔“ [مسند الحميدي/حدیث: 1333]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، لضعف مجالد، وأخرجه الدارمي فى «مسنده» برقم: 2208، وأحمد فى «مسنده» برقم: 15521»
حدیث نمبر 1334
حدیث نمبر: 1334
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ نُبَيْحًا الْعَنَزِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَطْرُقَ النِّسَاءَ لَيْلا، ثُمَّ طَرَقْنَاهُنَّ بَعْدُ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ تم (طویل سفر سے واپس آتے ہوئے) رات کے وقت اپنے گھر جاؤ۔ (راوی کہتے ہیں:) لیکن اس کے بعد ہم نے ایسا کرنا شروع کر دیا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1334]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 443، 5243، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 715، وابن حبان فى «صحيحه» برقم:2713، 2714، 4184 وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1843، 1891»
حدیث نمبر 1335
حدیث نمبر: 1335
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الأَسْوَدُ بْنُ قَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ نُبَيْحًا الْعَنَزَيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ:" أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقَتْلَى قَتْلَى أُحُدٍ، أَنْ يُرَدُّوا إِلَى مَضَاجِعِهِمْ مَنْ نُقِلَ مِنْهُمْ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ احد کے شہداء کے بارے میں یہ حکم دیا تھا کہ انہیں اسی جگہ واپس لایا جائے جہاں انہیں شہید کیا گیا تھا، حالانکہ ان میں سے کچھ افراد کو وہاں سے دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا تھا۔ [مسند الحميدي/حدیث: 1335]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 916، 918، 984، 3183، 3184، 6312، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 3565، 7188، 7847، 7848، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2003، 2004، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 2142، 2143، 10184، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1533، 3165، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1717، والدارمي فى «مسنده» برقم: 46، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 246، 1516، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 2580، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2919، 7170، 11089، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14386، 14387، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1842، 2077»