🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ إِعَادَةِ الصَّلَاةِ مَعَ الْإِمَامِ
امام کے ساتھ دوبارہ نماز پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 297
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، فَقَالَ: إِنِّي أُصَلِّي فِي بَيْتِي ثُمَّ آتِ الْمَسْجِدَ فَأَجِدُ الْإِمَامَ يُصَلِّي، أَفَأُصَلِّي مَعَهُ؟ فَقَالَ سَعِيدٌ: نَعَمْ، فَقَالَ الرَّجُلُ: فَأَيُّهُمَا صَلَاتِي؟ فَقَالَ سَعِيدٌ : " أَوَ أَنْتَ تَجْعَلُهُمَا، إِنَّمَا ذَلِكَ إِلَى اللَّهِ"
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت سعید بن مسیّب رحمہ اللہ سے پوچھا کہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہوں، پھر مسجد میں آتا ہوں تو امام کو نماز پڑھتا ہوا پاتا ہوں، تو کیا پھر اس کے ساتھ نماز پڑھوں؟ حضرت سعید بن مسیّب رحمہ اللہ نے کہا: ہاں۔ تو اس شخص نے کہا کہ پھر میں کس نماز کو فرض سمجھوں؟ حضرت سعید بن مسیّب رحمہ اللہ نے کہا کہ تو فرض اور نفل کر سکتا ہے؟ یہ کام اللہ جل جلالہُ کا ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 297]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 3938، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3710، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم:135/2، شركة الحروف نمبر: 279، فواد عبدالباقي نمبر: 8 - كِتَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ-ح: 10»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 298
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ عَفِيفٍ السَّهْمِيِّ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، فَقَالَ: إِنِّي أُصَلِّي فِي بَيْتِي ثُمَّ آتِ الْمَسْجِدَ فَأَجِدُ الْإِمَامَ يُصَلِّي، أَفَأُصَلِّي مَعَهُ؟ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ : " نَعَمْ، فَصَلِّ مَعَهُ فَإِنَّ مَنْ صَنَعَ ذَلِكَ فَإِنَّ لَهُ سَهْمَ جَمْعٍ، أَوْ مِثْلَ سَهْمِ جَمْعٍ"
ایک شخص سے جو بنی اسد کے قبیلہ سے تھا روایت ہے کہ اس نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ میں اپنے گھر میں نماز پڑھ لیتا ہوں، پھر مسجد میں آتا ہوں تو امام کونماز پڑھتے ہوئے پاتا ہوں، تو کیا میں پھر امام کے ساتھ نماز پڑھ لوں؟ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ ہاں! جو ایسا کرے گا اس کو جماعت کا ثواب ملے گا، یا جماعت کے ثواب کے مثل، یا اُس کو لشکرِ اسلام کے ثواب کا ایک حصہ ملے گا، یعنی غازی کا ثواب پائے گا، یا اُس کو مزدلفہ میں رہنے کا ثواب ملے گا، یا پھر اُس کو دوہرا ثواب ملے گا ایک اکیلے نماز پڑھنے کا دوسری جماعت سے نماز پڑھنے کا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 298]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 578، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3700، 3701،والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم:135/2 والطبراني فى "الكبير"، 3997، 3998، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 8683، شركة الحروف نمبر: 280، فواد عبدالباقي نمبر: 8 - كِتَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ-ح: 11»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 299
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ: " مَنْ صَلَّى الْمَغْرِبَ أَوِ الصُّبْحَ، ثُمَّ أَدْرَكَهُمَا مَعَ الْإِمَامِ فَلَا يَعُدْ لَهُمَا"
حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ جو شخص مغرب یا صبح کی نماز پڑھ لے، پھر ان دونوں جماعتوں کو پائے تو دوبارہ نہ پڑھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 299]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 3939، 3940، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 6726، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 2147، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم:1073، والشافعي فى الاُم برقم: 206/7، والشافعي فى المسند: 240/1، شركة الحروف نمبر: 281، فواد عبدالباقي نمبر: 8 - كِتَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ-ح: 12»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 299B
قَالَ مَالِك: وَلَا أَرَى بَأْسًا أَنْ يُصَلِّيَ مَعَ الْإِمَامِ مَنْ كَانَ قَدْ صَلَّى فِي بَيْتِهِ إِلَّا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ، فَإِنَّهُ إِذَا أَعَادَهَا كَانَتْ شَفْعًا
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص نماز پڑھ لے اکیلے پھر پائے نماز کو ساتھ امام کے تو دوبارہ پڑھ لینے میں کچھ حرج نہیں، مگر مغرب کی نماز کیونکہ وہ دوبارہ پڑھنے میں طاق نہ رہے گی بلکہ تین دوگانہ ہو جائیں گے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 299B]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 281، فواد عبدالباقي نمبر: 8 - كِتَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ-ح: 12»

4. بَابُ الْعَمَلِ فِي صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ
جماعت سے نماز پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 300
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ بِالنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ، فَإِنَّ فِيهِمُ الضَّعِيفَ وَالسَّقِيمَ وَالْكَبِيرَ، وَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھائے تو چاہئے کہ تخفیف کرے، کیونکہ جماعت میں بیمار اور ضعیف اور بوڑھے بھی ہوتے ہیں، اور جب اکیلے پڑھے تو جتنا چاہے طول کرے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 300]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 703، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 467، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1760، 2136، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم:824، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 899، وأبو داود فى «سننه» برقم: 794، 795، والترمذي فى «جامعه» برقم: 236، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2516، 5349، 5350، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7592، 7782، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1017، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 6331، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 3712، شركة الحروف نمبر: 282، فواد عبدالباقي نمبر: 8 - كِتَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ-ح: 13»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 301
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" قُمْتُ وَرَاءَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي صَلَاةٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ، وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ غَيْرِي فَخَالَفَ عَبْدُ اللَّهِ بِيَدِهِ فَجَعَلَنِي حِذَاءَهُ"
حضرت نافع سے روایت ہے کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ساتھ نماز کو کھڑا ہوا، میرے سوا اور کوئی نہ تھا تو پیچھے سے پکڑ کر سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے مجھے اپنی داہنی طرف برابر کھڑا کیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 301]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5214، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 6152، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 1489، والشافعي فى الاُم برقم: 166/1، شركة الحروف نمبر: 283، فواد عبدالباقي نمبر: 8 - كِتَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ-ح: 14»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 302
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ" رَجُلًا كَانَ يَؤُمُّ النَّاسَ بِالْعَقِيقِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَنَهَاهُ" .
قَالَ مَالِك: وَإِنَّمَا نَهَاهُ لِأَنَّهُ كَانَ لَا يُعْرَفُ أَبُوهُ
حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ایک شخص لوگوں کی امامت کیا کرتا تھا عقیق (ایک جگہ ہے مدینہ میں) میں، تو حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اس کو امامت سے منع کروا بھیجا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: منع کروا بھیجا اس کو امامت سے اس لیے کہ اس کا باپ معلوم نہ ہوتا تھا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 302]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5214، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 6152، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 1489، والشافعي فى الاُم برقم: 166/1، شركة الحروف نمبر: 283، فواد عبدالباقي نمبر: 8 - كِتَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ-ح: 15»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ صَلَاةِ الْإِمَامِ وَهُوَ جَالِسٌ
امام کا بیٹھ کر نماز پڑھنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 303
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ فَرَسًا فَصُرِعَ، فَجُحِشَ شِقُّهُ الْأَيْمَنُ، فَصَلَّى صَلَاةً مِنَ الصَّلَوَاتِ وَهُوَ قَاعِدٌ، وَصَلَّيْنَا وَرَاءَهُ قُعُودًا فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا صَلَّى قَائِمًا فَصَلُّوا قِيَامًا، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، فَقُولُوا: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا، فَصَلُّوا جُلُوسًا أَجْمَعُونَ"
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار ہوئے، پس اس پر سے گر پڑے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا داہنا جانب چھل گیا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھ کر نماز پڑھی اور ہم نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بیٹھ کر نماز پڑھی۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: امام اس لئے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، پس جب امام کھڑے ہو کر نماز پڑھے تو تم بھی کھڑے ہو کر نماز پڑھو، اور جب امام رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب امام سر اُٹھائے تو تم بھی سر اُٹھاؤ، اور جب امام «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کہو، اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 303]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 378، 689، 732، 733، 805، 1114، 1911، 2469، 5201، 5289، 6684، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 411، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 977، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1908، 2102، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 795، 829، 1058، 3454، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 652، 871، وأبو داود فى «سننه» برقم: 601، والترمذي فى «جامعه» برقم: 361، 690، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1291، 1349، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 876، 1238، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2662، 3715، وأحمد فى «مسنده» برقم: 12257، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1223، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 3558، شركة الحروف نمبر: 284، فواد عبدالباقي نمبر: 8 - كِتَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ-ح: 16»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 304
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ شَاكٍ، فَصَلَّى جَالِسًا وَصَلَّى وَرَاءَهُ قَوْمٌ قِيَامًا، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنِ اجْلِسُوا فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا، وَإِذَا صَلَّى جَالِسًا فَصَلُّوا جُلُوسًا"
اُم المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماری کی حالت میں بیٹھ کر نماز پڑھی، اور لوگوں نے کھڑے ہوکر پڑھنا شروع کیا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اشارہ کیا کہ بیٹھ جاؤ۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: امام اس لئے مقرر کیا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، پس جب امام رکوع کرے تو تم بھی رکوع کرو، اور جب امام سر اُٹھائے تو تم بھی سر اُٹھاؤ، اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھے تو تم بھی بیٹھ کر نماز پڑھو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 304]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 688، 1113، 1236، 5658، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 412، 412، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1614، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2104، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 7472، وأبو داود فى «سننه» برقم: 605، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1237، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 3466، 3467، 3716، 5151، وأحمد فى «مسنده» برقم: 24888، شركة الحروف نمبر: 285، فواد عبدالباقي نمبر: 8 - كِتَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ-ح: 17»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 305
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ،" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي مَرَضِهِ فَأَتَى، فَوَجَدَ أَبَا بَكْرٍ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي بِالنَّاسِ فَاسْتَأْخَرَ أَبُو بَكْرٍ، فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ كَمَا أَنْتَ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَنْبِ أَبِي بَكْرٍ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ، وَكَانَ النَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ"
سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرض الموت میں باہر نکلے سو مسجد میں آئے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لوگوں کی امامت کرتے ہوئے پایا، تو سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پیچھے ہٹنا چاہا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ کیا کہ تم اپنی جگہ پر رہو، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ انکے پہلو میں بیٹھ گئے، سو سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی پیروی کرتے تھے، اور لوگ سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نماز کی پیروی کرتے تھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 305]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 4076، وله شواهد من حديث عائشة بنت أبى بكر الصديق، فأما حديث عائشة بنت أبى بكر الصديق أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 664، 679، 683، 687، 712، 713، 716، 3384، 7303، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 418، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3672، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 830، 831، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1232، 1233، وأحمد فى «مسنده» برقم: 5236، شركة الحروف نمبر: 287، فواد عبدالباقي نمبر: 8 - كِتَابُ صَلَاةِ الْجَمَاعَةِ-ح: 18»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں