🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
موطا امام مالك رواية يحييٰ سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية يحييٰ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1852)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. بَابُ الْوَصِيَّةِ فِي التَّدْبِيرِ
مدبر کرنے کی وصیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1300Q37
قَالَ مَالِكٌ: وَكُلُّ وَلَدٍ وَلَدَتْهُ أَمَةٌ، أَوْصَى بِعِتْقِهَا وَلَمْ تُدَبَّرْ. فَإِنَّ وَلَدَهَا لَا يَعْتِقُونَ مَعَهَا إِذَا عَتَقَتْ. وَذَلِكَ أَنَّ سَيِّدَهَا يُغَيِّرُ وَصِيَّتَهُ إِنْ شَاءَ. وَيَرُدُّهَا مَتَى شَاءَ. وَلَمْ يَثْبُتْ لَهَا عَتَاقَةٌ. وَإِنَّمَا هِيَ بِمَنْزِلَةِ رَجُلٍ قَالَ لِجَارِيَتِهِ: إِنْ بَقِيَتْ عِنْدِي فُلَانَةُ حَتَّى أَمُوتَ، فَهِيَ حُرَّةٌ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس لونڈی کے آزاد کرنے کی وصیت کی اور اس کو مدبر نہ کیا، تو اس کی اولاد اپنی ماں کے ساتھ آزاد نہ ہوگی، اس لیے کہ مولیٰ کو اس وصیت کے بدل ڈالنے کا اختیار تھا نہ ان کی ماں کے لیے آزادی ثابت ہوئی تھی، بلکہ یہ ایسا ہے کوئی کہے: اگر فلانی لونڈی میرے مرنے تک رہے تو وہ آزاد ہے، پھر وہ اس کے مرنے تک رہی تو آزاد ہو جائے گی، مگر مولیٰ کو اختیار ہے کہ موت سے پیشتر اس کو یا اس کی اولاد کو بیچے، تو آزادی کی وصیت اور تدبیر کی وصیت میں سنتِ قدیمہ کی رو سے بہت فرق ہے، اگر وصیت مثل تدبیر کے ہوتی تو کوئی شخص اپنی وصیت میں تغیر و تبدل کا اختیار نہ رکھتا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1300Q37]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 40 - كِتَابُ الْمُدَبَّرِ-ح: 3»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1300Q38
قَالَ مَالِكٌ: فَإِنْ أَدْرَكَتْ ذَلِكَ، كَانَ لَهَا ذَلِكَ. وَإِنْ شَاءَ، قَبْلَ ذَلِكَ، بَاعَهَا وَوَلَدَهَا لِأَنَّهُ لَمْ يُدْخِلْ وَلَدَهَا فِي شَيْءٍ مِمَّا جَعَلَ لَهَا.
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 40 - كِتَابُ الْمُدَبَّرِ-ح: 3»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1300Q39
قَالَ: وَالْوَصِيَّةُ فِي الْعَتَاقَةِ مُخَالِفَةٌ لِلتَّدْبِيرِ، فَرَقَ بَيْنَ ذَلِكَ مَا مَضَى مِنَ السُّنَّةِ. قَالَ: وَلَوْ كَانَتِ الْوَصِيَّةُ بِمَنْزِلَةِ التَّدْبِيرِ. كَانَ كُلُّ مُوصٍ لَا يَقْدِرُ عَلَى تَغْيِيرِ وَصِيَّتِهِ. وَمَا ذُكِرَ فِيهَا مِنَ الْعَتَاقَةِ. وَكَانَ قَدْ حَبَسَ عَلَيْهِ مِنْ مَالِهِ مَا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَنْتَفِعَ بِهِ.
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 40 - كِتَابُ الْمُدَبَّرِ-ح: 3»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1300Q40
قَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ دَبَّرَ رَقِيقًا لَهُ جَمِيعًا. فِي صِحَّتِهِ وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ: إِنْ كَانَ دَبَّرَ بَعْضَهُمْ قَبْلَ بَعْضٍ بُدِئَ بِالْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ، حَتَّى يَبْلُغَ الثُّلُثَ. وَإِنْ كَانَ دَبَّرَهُمْ جَمِيعًا فِي مَرَضِهِ. فَقَالَ: فُلَانٌ حُرٌّ. وَفُلَانٌ حُرٌّ. وَفُلَانٌ حُرٌّ. فِي كَلَامٍ وَاحِدٍ. إِنْ حَدَثَ بِي فِي مَرَضِي هَذَا حَدَثُ مَوْتٍ، أَوْ دَبَّرَهُمْ جَمِيعًا فِي كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ، تَحَاصَّوْا فِي الثُّلُثِ. وَلَمْ يُبَدَّأْ أَحَدٌ مِنْهُمْ قَبْلَ صَاحِبِهِ. وَإِنَّمَا هِيَ وَصِيَّةٌ. وَإِنَّمَا لَهُمُ الثُّلُثُ. يُقْسَمُ بَيْنَهُمْ بِالْحِصَصِ. ثُمَّ يَعْتِقُ مِنْهُمُ الثُّلُثُ بَالِغًا مَا بَلَغَ. قَالَ: وَلَا يُبَدَّأُ أَحَدٌ مِنْهُمْ إِذَا كَانَ ذَلِكَ كُلُّهُ فِي مَرَضِهِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے چند غلاموں کو صحت کی حالت میں مدبر کرے اور سوا ان کے کچھ مال نہ رکھتا ہو، اگر اس نے اس طرح مدبر کیا کہ پہلے ایک کو پھر دوسرے کو، تو جس کو پہلے مدبر کیا وہ تہائی مال میں سے آزاد ہو جائے گا، پھر دوسرا پھر تیسرا، اسی طرح جب تک تہائی مال میں گنجائش ہو، اگر سب کو ایک ساتھ مدبر کیا ہے ایک ہی کلام میں، تو ہر ایک کا تہائی آزاد ہو جائے گا جب سب کو بیماری میں مدبر کیا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1300Q40]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 40 - كِتَابُ الْمُدَبَّرِ-ح: 3»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1300Q41
قَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ دَبَّرَ غُلَامًا لَهُ. فَهَلَكَ السَّيِّدُ وَلَا مَالَ لَهُ إِلَّا الْعَبْدُ الْمُدَبَّرُ. وَلِلْعَبْدِ مَالٌ قَالَ: يُعْتَقُ ثُلُثُ الْمُدَبَّرِ. وَيُوقَفُ مَالُهُ بِيَدَيْهِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایاکہ جس شخص نے اپنے غلام کو مدبر کیا اور سوا اس کے کچھ مال نہ تھا، پھر مولیٰ مر گیا اور مدبر کے پاس مال ہے، تو ثلث مدبر آزاد ہو جائے گا اور مال اس کا اسی کے پاس رہے گا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1300Q41]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 40 - كِتَابُ الْمُدَبَّرِ-ح: 3»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1300Q42
قَالَ مَالِكٌ فِي مُدَبَّرٍ كَاتَبَهُ سَيِّدُهُ فَمَاتَ السَّيِّدُ وَلَمْ يَتْرُكْ مَالًا غَيْرَهُ. قَالَ مَالِكٌ: يُعْتَقُ مِنْهُ ثُلُثُهُ. وَيُوضَعُ عَنْهُ ثُلُثُ كِتَابَتِهِ. وَيَكُونُ عَلَيْهِ ثُلُثَاهَا.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس مدبر کو مولیٰ مکاتب کر دے، پھر مولیٰ مر جائے، اور سوا اس کے کچھ مال نہ چھوڑے، تو اس کا ایک تہائی آزاد ہو جائے گا، اور بدل کتابت میں سے بھی ایک تہائی گھٹ جائے گا، اور دو تہائی مدبر کو ادا کرنا ہوں گے۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1300Q42]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 40 - كِتَابُ الْمُدَبَّرِ-ح: 3»

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1300Q43
قَالَ مَالِكٌ فِي رَجُلٍ أَعْتَقَ نِصْفَ عَبْدٍ لَهُ وَهُوَ مَرِيضٌ. فَبَتَّ عِتْقَ نِصْفِهِ. أَوْ بَتَّ عِتْقَهُ كُلَّهُ. وَقَدْ كَانَ دَبَّرَ عَبْدًا لَهُ آخَرَ قَبْلَ ذَلِكَ. قَالَ: يُبَدَّأُ بِالْمُدَبَّرِ قَبْلَ الَّذِي أَعْتَقَهُ وَهُوَ مَرِيضٌ. وَذَلِكَ أَنَّهُ لَيْسَ لِلرَّجُلِ أَنْ يَرُدَّ مَا دَبَّرَ. وَلَا أَنْ يَتَعَقَّبَهُ بِأَمْرٍ يَرُدُّهُ بِهِ. فَإِذَا عَتَقَ الْمُدَبَّرُ فَلْيَكُنْ مَا بَقِيَ مِنَ الثُّلُثِ فِي الَّذِي أَعْتَقَ شَطْرَهُ. حَتَّى يَسْتَتِمَّ عِتْقُهُ كُلُّهُ، فِي ثُلُثِ مَالِ الْمَيِّتِ. فَإِنْ لَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ فَضْلَ الثُّلُثِ، عَتَقَ مِنْهُ مَا بَلَغَ فَضْلَ الثُّلُثِ، بَعْدَ عِتْقِ الْمُدَبَّرِ الْأَوَّلِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ایک شخص نے اپنی مرضِ موت میں اپنے غلام کا آدھا یا تمام آزاد کیا، اور پہلے اپنے غلام کو مدبر کر چکا تھا، تو تہائی مال میں سے پہلے مدبر آزاد ہوگا، پھر غلام اگر باقی میں سے آزاد ہو سکے تو آزاد ہوگا۔ ورنہ جس قدر مال بچا ہے اسی قدر آزاد ہوگا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1300Q43]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 40 - كِتَابُ الْمُدَبَّرِ-ح: 3»

4. بَابُ مَسِّ الرَّجُلِ وَلِيدَتَهُ إِذَا دَبَّرَهَا
لونڈی کو جب مدبر کر دے اس سے صحبت کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1300
مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، دَبَّرَ جَارِيَتَيْنِ لَهُ، فَكَانَ يَطَؤُهُمَا وَهُمَا مُدَبَّرَتَانِ
نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی لونڈیوں کو مدبر کیا اور اس سے صحبت بھی کرتے تھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1300]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21581، 21550، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 16697، 16698، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 6085، والشافعي فى «الاُم» ‏‏‏‏ برقم: 25/8، فواد عبدالباقي نمبر: 40 - كِتَابُ الْمُدَبَّرِ-ح: 4»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1301
مَالِكٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ: أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ كَانَ يَقُولُ: إِذَا دَبَّرَ الرَّجُلُ جَارِيَتَهُ، فَإِنَّ لَهُ أَنْ يَطَأَهَا، وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَهَا وَلَا يَهَبَهَا، وَوَلَدُهَا بِمَنْزِلَتِهَا
حضرت سعید بن مسیّب کہتے تھے: جب کوئی شخص اپنی لونڈی کو مدبر کرے تو اس سے وطی کر سکتا ہے، مگر بیع یا ہبہ نہیں کر سکتا، اور اس کی اولاد بھی مثل اپنی ماں کے ہو گی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1301]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21589، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 21704، فواد عبدالباقي نمبر: 40 - كِتَابُ الْمُدَبَّرِ-ح: 5»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ بَيْعِ الْمُدَبَّرِ
مدبر کے بیچنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1302Q1
َالَ مَالِكٌ: الْأَمْرُ الْمُجْتَمَعُ عَلَيْهِ عِنْدَنَا فِي الْمُدَبَّرِ. أَنَّ صَاحِبَهُ لَا يَبِيعُهُ. وَلَا يُحَوِّلُهُ عَنْ مَوْضِعِهِ الَّذِي وَضَعَهُ فِيهِ. وَأَنَّهُ إِنْ رَهِقَ سَيِّدَهُ دَيْنٌ، فَإِنَّ غُرَمَاءَهُ لَا يَقْدِرُونَ عَلَى بَيْعِهِ، مَا عَاشَ سَيِّدُهُ. فَإِنْ مَاتَ سَيِّدُهُ وَلَا دَيْنَ عَلَيْهِ فَهُوَ فِي ثُلُثِهِ. لِأَنَّهُ اسْتَثْنَى عَلَيْهِ عَمَلَهُ مَا عَاشَ. فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَخْدُمَهُ حَيَاتَهُ. ثُمَّ يُعْتِقَهُ عَلَى وَرَثَتِهِ، إِذَا مَاتَ مِنْ رَأْسِ مَالِهِ. وَإِنْ مَاتَ سَيِّدُ الْمُدَبَّرِ، وَلَا مَالَ لَهُ غَيْرُهُ، عَتَقَ ثُلُثُهُ. وَكَانَ ثُلُثَاهُ لِوَرَثَتِهِ. فَإِنْ مَاتَ سَيِّدُ الْمُدَبَّرِ، وَعَلَيْهِ دَيْنٌ مُحِيطٌ بِالْمُدَبَّرِ، بِيعَ فِي دَيْنِهِ. لِأَنَّهُ إِنَّمَا يَعْتِقُ فِي الثُّلُثِ. قَالَ: فَإِنْ كَانَ الدَّيْنُ لَا يُحِيطُ إِلَّا بِنِصْفِ الْعَبْدِ. بِيعَ نِصْفُهُ لِلدَّيْنِ. ثُمَّ عَتَقَ ثُلُثُ مَا بَقِيَ بَعْدَ الدَّيْنِ.
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم اتفاقی ہے کہ مدبر کو مولیٰ نہ بیچے اور نہ کسی طرح سے اس کی ملک منتقل کرے، اور مولیٰ اگر قرضدار ہو جائے تو اس کے قرض خواہ مدبر کو بیچ نہیں سکتے جب تک اس کا مولیٰ زندہ ہے، اگر مر جائے اور قرض دار نہ ہو تو تہائی مال میں کل مدبر آزاد ہو جائے گا، کیونکہ اگر کل مال میں سے آزاد ہوا تو سراسر مولیٰ کا فائدہ ہے کہ زندگی بھر اس سے خدمت لی پھر مرتے وقت آزادی کا بھی ثواب کما لیا، اور ورثاء کا بالکل نقصان ہے، اگر سوا اس مدبر کے مولیٰ کا کچھ مال نہ ہو تو تہائی مدبر آزاد ہو جائے گا اور دو تہائی وارثوں کا حق ہوگا، اگر مدبر کا مولیٰ مر جائے اور اس قدر مقروض ہو کہ مدبر کی کل قیمت کے برابر، یا اس سے زیادہ تو مدبر کو بیچیں گے، کیونکہ مدبر جب آزاد ہوتا ہے کہ تہائی مال میں گنجائش ہو، اگر قرضہ غلام کے آدھا قیمت کے برابر ہو تو آدھا مدبر کو قرضہ ادا کرنے کے لیے بیچیں گے، اور آدھا جو باقی ہے اس کا ایک تہائی آزاد ہو جائے گا۔
[موطا امام مالك رواية يحييٰ/حدیث: 1302Q1]
تخریج الحدیث: «فواد عبدالباقي نمبر: 40 - كِتَابُ الْمُدَبَّرِ-ح: 5»