مسند الشهاب سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
529. «مَا أَكْرَمَ شَابٌّ شَيْخًا لِسِنِّهِ إِلَّا قَيَّضَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَ شَيْبِهِ مَنْ يُكْرِمُهُ»
جو نوجوان کسی بوڑھے شخص کی اس کی عمر کی وجہ سے عزت کرے گا اللہ تعالیٰ اس (نوجوان) کے بڑھاپے میں اس کے لئے ایسا شخص مقرر فرما دے گا جو اس کی عزت کرے گا
حدیث نمبر: 801
801 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْيَمَنِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ، أَحْمَدَ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَامَةَ الطَّحَاوِيَّ يَقُولُ: ثنا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ بَيَانٍ، عَنْ أَبِي الرَّحَّالِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: وَذَكَرَهُ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔۔۔۔۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی: ”جو نوجوان کسی بوڑھے شخص کی اس کی عمر کی وجہ سے عزت کرے گا اللہ تعالیٰ اس (نوجوان) کے بڑھاپے میں اس کے لیے ایسا شخص مقرر فرما دے گا جو اس کی عزت کرے گا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 801]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 2022، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 5903، تاريخ دمشق: 13/50» ابورحال اور یزید بن بیان ضعیف ہیں۔
حدیث نمبر: 802
802 - وأنا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، نا الشَّيْخُ الصَّالِحُ أَبُو الْعَبَّاسِ، أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَانَاجٍ الْإِصْطَخْرِيُّ سَنَةَ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمُنْذِرُ الْقَزَّازُ الْبَصْرِيُّ، نا يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ الْعُقَيْلِيُّ، نا أَبُو الرَّحَّالٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا أَكْرَمَ شَابٌّ شَيْخًا لِسِنِّهِ إِلَّا قَيَّضَ اللَّهُ لَهُ مَنْ يُكْرِمُهُ عِنْدَ سِنِّهِ»
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو نوجوان کسی بوڑھے شخص کی اس کی عمر کی وجہ سے عزت کرے گا اللہ اس کے بڑھاپے میں اس کے لیے ایسا شخص مقرر فرما دے گا جو اس کی عزت کرے گا۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 802]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 2022، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 5903، تاريخ دمشق: 13/50» ابورحال اور یزید بن بیان ضعیف ہیں۔
530. مَا امْتَلَأَتْ دَارٌ حَبَرَةً إِلَّا امْتَلَأَتْ عِبْرَةً
جو گھر خوشیوں سے بھرتا ہے وہ عبرت ونصیحت سے ضرور بھرتا ہے
حدیث نمبر: 803
803 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، بِمَكَّةَ، أبنا زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، أبنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أبنا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا امْتَلَأَتْ دَارٌ حَبَرَةً إِلَّا امْتَلَأَتْ عِبْرَةً، وَمَا كَانَ فَرْحَةٌ إِلَّا تَبِعَتْهَا تَرْحَةٌ»
یحییٰ بن ابی کثیر سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، جو گھر خوشیوں سے بھرتا ہے وہ عبرت و نصیحت سے ضرور بھرتا ہے اور ہر خوشی کے بعد رنج ضرور آتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 803]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الزهد لابن المبارك: 263» یحییٰ بن ابی کثیر اور رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان انقطاع ہے۔ نیز عکرمہ بن عمار مدلی کا عنعنہ بھی ہے۔
531. مَا اسْتَرْعَى اللَّهُ عَبْدًا رَعِيَّةً فَلَمْ يُحِطْهَا بِنُصْحِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ
جس بندے کو اللہ نے عوام کا حاکم بنایا پھر اس نے ان کی خیر خواہی نہ کی اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے
حدیث نمبر: 804
804 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَرْوَانَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ذَكْوَانَ، حَدَّثَنِي مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يُحَدِّثُ ابْنَ هُبَيْرَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا اسْتَرْعَى اللَّهُ عَبْدًا رَعِيَّةً فَلَمْ يُحِطْهَا بِنُصْحِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ»
سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بندے کو اللہ نے عوام کا حاکم بنایا پھر اس نے ان کی خیر خواہی نہ کی اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 804]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه شعب الايمان: 6979» مجالد بن سعید اور محمد بن ذکوان ضعیف ہیں۔
532. مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ غَاشًّا لِرَعِيَّتِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ
جس بندے کو اللہ تعالیٰ ٰ عوام کا حاکم بنائے (اور) وہ اپنی موت کے دن اس حال میں مرے کہ اپنی عوام کو دھوکا دینے والا ہوتو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔
حدیث نمبر: 805
805 - أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَاجِّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا أَبُو الْأَشْهَبِ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: عَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ، فَقَالَ مَعْقِلٌ: إِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَوْ عَلِمْتُ أَنِّي حَيٌّ مَا حَدَّثْتُكَ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ غَاشًّا لِرَعِيَّتِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ» وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ، عَنْ أَبِي الْأَشْهَبِ بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ، وَفِيهِ «وَهُوَ غَاشٌّ» مَكَانَ «غَاشًّا لِرَعِيَّتِهِ»
حسن کہتے ہیں کہ عبید اللہ بن زیاد نے سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی اس مرض میں عیادت کی جس میں ان کا انتقال ہوا تھا، معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ابھی میری زندگی باقی ہے تو میں تمہیں وہ حدیث بیان نہ کرتا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جس بندے کو اللہ تعالیٰ عوام کا حاکم بنائے (اور) وہ اپنی موت کے دن اس حال میں مرے کہ اپنی عوام کو دھوکا دینے والا ہو تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت حرام کر دیتا ہے۔“ اسے امام مسلم نے بھی اپنی سند کے ساتھ اس کی مثل بیان کیا ہے اور اس میں (غاشا لرعیتہ) ”اپنی عوام کو دھوکا دینے والا“ کی جگہ (وهو غاش) ”اور وہ دھوکا دینے والا ہو۔“ کے الفاظ ہیں۔ [مسند الشهاب/حدیث: 805]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 7150، 7151، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 142، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4495، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2838، والبيهقي فى "سننه الكبريٰ"، 16735، وأحمد فى «مسنده» برقم: 20615»
حدیث نمبر: 806
806 - وأنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا النَّيْسَابُورِيُّ، أنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، نا أَبُو مَعْشَرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ الدَّارِ، قَالَ: دَخَلَ زِيَادٌ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغَفَّلِ يَعُودُهُ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغَفَّلِ: «يَا زِيَادُ، اتَّقِ اللَّهَ فَإِنَّ شَرَّ الْأَئِمَّةِ الْحُطَمَةُ» فَقَالَ لَهُ زِيَادٌ:" إِنَّمَا أَنْتَ مِنْ حُثَالَةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا كَانَ فِي أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ حُثَالَةٌ، أَفَلَا أُخْبِرُكَ يَا زِيَادُ بِشَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟» فَقَالَ: بَلَى، وَلَا تَكْذِبْ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «لَوْ كُنْتُ كَاذِبًا عَلَى أَحَدٍ مَا كَذَبْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا مِنْ إِمَامٍ يَبِيتُ لَيْلَةً غَاشًّا لِرَعِيَّتِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ عَرْفَ الْجَنَّةِ وَرِيحَهَا، وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ خَرِيفًا» قَالَ: فَقَالَ لَهُ زِيَادٌ: «سَلْنِي مَا شِئْتَ» ، قَالَ: «أَسْأَلُكَ أَنْ لَا تَنْفَعَنِي وَلَا تَضُرَّنِي، وَإِنْ مَرِضْتُ فَلَا تَعُدْنِي، وَإِنْ مُتُّ فَلَا تَشْهَدْنِي» قَالَ: فَلَمْ يَمْكُثْ إِلَّا لَيَالِيَ قَلِيلَةً حَتَّى مَاتَ، فَرَأَى زِيَادٌ النَّاسَ يَزْحُمُونَ عَلَى جِنَازَتِهِ، قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُغَفَّلِ، قَالَ: «أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّهُ سَأَلَنِي أَلَّا أَشْهَدَ جِنَازَتَهُ لَشَهِدْتُهُ»
محمد بن عبد اللہ بن مالک الدار کہتے ہیں کہ زیاد سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے ان کے پاس آیا تو سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اے زیاد! اللہ سے ڈر کیونکہ حاکموں کا شر توڑ پھوڑ کر رکھ دینے والی چیز ہے۔ زیاد نے ان سے کہا: تم تو اصحاب محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں سے گھٹیا درجے کے آدمی ہو۔ انہوں نے کہا: اصحاب محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں گھٹیا درجے کا آدمی کوئی نہ تھا، اے زیاد! کیا میں تجھے ایک ایسی بات نہ بتاؤں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ اس نے کہا: کیوں نہیں (بتاؤ) لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہ باندھنا۔ انہوں نے کہا: اگر (بالفرض) میں کسی عام آدمی پر جھوٹ باندھنے والا ہوتا تو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہ باندھتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”جو حاکم اس حال میں رات بسر کرے کہ اپنی عوام کو دھوکا دینے والا ہو تو اس پر جنت کی خوشبو اور اس کی ہوا حرام کر دی جائے گی حالانکہ اس کی خوشبو ستر سال کی مسافت سے آ رہی ہوگی۔“ راوی کہتا ہے کہ زیاد نے ان سے کہا: مجھ سے جو چاہتے ہو مانگ لو۔ انہوں نے کہا: میں تجھ سے یہی مانگتا ہوں کہ نہ مجھے نفع دے اور نہ نقصان، اگر میں بیمار ہو جاؤں تو میری عیادت کے لیے نہ آنا اور اگر میں مر جاؤں تو میرے جنازے میں بھی شرکت نہ کرنا۔ راوی کہتا ہے کہ پھر چند راتیں ہی گزری تھیں کہ ان (عبد اللہ) کا انتقال ہو گیا۔ زیاد نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ ان کے جنازے پر ہجوم لگا رہے ہیں۔ کہنے لگا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: عبد اللہ بن مغفل۔ کہنے لگا: اللہ کی قسم! اگر انہوں نے مجھ سے یہ چیز نہ مانگی ہوتی کہ میں ان کے جنازے میں شریک نہ ہوں تو ضرور ان کے جنازے میں شریک ہوتا۔ [مسند الشهاب/حدیث: 806]
تخریج الحدیث: إسناده ضعیف، ابومعشر ضعیف و مختلط ہے۔
وضاحت: تشریح: -
ان احادیث میں رعایا اور عوام کے ساتھ خیانت کرنے اور انہیں دھوکا دینے والے حکمرانوں کے متعلق شدید وعید بیان فرمائی گئی ہے۔ عوام کے ساتھ خیانت اور انہیں دھوکا دینے سے مراد یہ ہے کہ ان پر ظلم ڈھانا، ان سے جھوٹ بولنا، ان کے حقوق پامال کرنا، ان پر احکام شریعت کو نافذ نہ کرنا، ان کے دشمنوں سے جنگ نہ کرنا وغیرہ، ایسے ظالم حکمرانوں پر اللہ نے جنت حرام کر دی ہے وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکیں گے۔
ان احادیث میں رعایا اور عوام کے ساتھ خیانت کرنے اور انہیں دھوکا دینے والے حکمرانوں کے متعلق شدید وعید بیان فرمائی گئی ہے۔ عوام کے ساتھ خیانت اور انہیں دھوکا دینے سے مراد یہ ہے کہ ان پر ظلم ڈھانا، ان سے جھوٹ بولنا، ان کے حقوق پامال کرنا، ان پر احکام شریعت کو نافذ نہ کرنا، ان کے دشمنوں سے جنگ نہ کرنا وغیرہ، ایسے ظالم حکمرانوں پر اللہ نے جنت حرام کر دی ہے وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکیں گے۔
533. مَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ وَزِيرٍ صَالِحٍ مَعَ إِمَامٍ يُطِيعُهُ وَيَأْمُرُهُ بِذَاتِ اللَّهِ تَعَالَى
مسلمانوں میں سے کوئی آدمی نیک وزیر سے زیادہ اجر والا نہیں جو کسی حاکم کے ساتھ رہے اس کی اطاعت کرے اور اسے ذات باری تعالیٰ ٰ کی اطاعت کرنے کا حکم دے
حدیث نمبر: 807
807 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الشَّاهِدُ، نا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي نُعَيْمٍ، ثنا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ وَزِيرٍ صَالِحٍ مَعَ إِمَامٍ يُطِيعُهُ وَيَأْمُرُهُ بِذَاتِ اللَّهِ تَعَالَى»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمانوں میں سے کوئی آدمی نیک وزیر سے زیادہ اجر والا نہیں جو کسی حاکم کے ساتھ رہے اس کی اطاعت کرے اور اسے ذات باری تعالیٰ کی اطاعت کرنے کا حکم دے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 807]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه تاريخ مدينة السلام: 28/5، الترغيب للاصهباني: 2184» فرج بن فضالہ سخت ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 808
808 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ، أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْأَعْرَابِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ أَعْظَمُ أَجْرًا مِنْ وَزِيرٍ صَالِحٍ مَعَ إِمَامٍ يُطِيعُهُ وَيَأْمُرُهُ بِذَاتِ اللَّهِ تَعَالَى»
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں سے کوئی آدمی نیک وزیر سے زیادہ اجر والا نہیں جو کسی حاکم کے ساتھ رہے اس کی اطاعت کرے اور اسے ذات باری تعالیٰ کی اطاعت کا حکم دے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 808]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدا، وأخرجه تاريخ مدينة السلام: 28/5، الترغيب للاصهباني: 2184» فرج بن فضالہ سخت ضعیف ہے۔
534. مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَلَهُ ذَنْبٌ يُصِيبُهُ الْفَيْنَةَ بَعْدَ الْفَيْنَةَ، لَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يُفَارِقَ الدُّنْيَا، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ خُلِقَ نَسَّاءً إِذَا ذُكِّرَ ذَكَرَ
ہر مؤمن کا کوئی نہ کوئی ایسا گناہ ہوتا ہے جسے وہ وقتاً فوقتاً کرتا رہتا ہے وہ اسے نہیں چھوڑتا حتیٰ کہ دنیا چھوڑ جاتا ہے اور بے شک مومن بہت بھولنے والا پیدا کیا گیا ہے جب، اسے (توبہ کی) یاد دہانی کرائی جائے تو وہ یاد کر لیتا ہے۔
حدیث نمبر: 809
809 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ خَلَفٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخَزَّازُ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَلَهُ ذَنْبٌ يُصِيبُهُ الْفَيْنَةَ بَعْدَ الْفَيْنَةَ، لَا يُفَارِقُهُ حَتَّى يُفَارِقَ الدُّنْيَا، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ خُلِقَ نَسَّاءً إِذَا ذُكِّرَ ذَكَرَ»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن کا کوئی نہ کوئی ایسا گناہ ہوتا ہے جسے وہ وقتاً فوقتاً کرتا رہتا ہے وہ اسے نہیں چھوڑتا حتیٰ کہ دنیا چھوڑ جاتا ہے اور بے شک مومن بہت بھولنے والا پیدا کیا گیا ہے، جب اسے (توبہ کی) یاد دہانی کرائی جائے تو وہ یاد کر لیتا ہے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 809]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه المعجم الكبير: 12457، الترغيب للاصبهاني: 26» ابومعاذ اور محمد بن سلیمان ضعیف ہیں۔
وضاحت: فائدہ: -
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن بندے کا کوئی نہ کوئی ایسا گناہ ہوتا ہے جس کی اسے عادت پڑ جاتی ہے، وقتا فوقتا (وہ اسے کرتا رہتا ہے) یا ایسا گناہ ہوتا ہے جس پر وہ ڈٹا رہتا ہے وہ اسے نہیں چھوڑتا حتی ٰکہ خود (دنیا) چھوڑ جاتا ہے، بے شک مومن آزمائش میں پڑنے والا، خوب تو بہ کرنے والا، بہت بھولنے والا پیدا کیا گیا ہے جب اسے (توبہ کی) یا ددہانی کرائی جائے تو وہ اسے یاد کر لیتا ہے۔“ [المعجم الكبير: 11810، و سندہ حسن]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر مومن بندے کا کوئی نہ کوئی ایسا گناہ ہوتا ہے جس کی اسے عادت پڑ جاتی ہے، وقتا فوقتا (وہ اسے کرتا رہتا ہے) یا ایسا گناہ ہوتا ہے جس پر وہ ڈٹا رہتا ہے وہ اسے نہیں چھوڑتا حتی ٰکہ خود (دنیا) چھوڑ جاتا ہے، بے شک مومن آزمائش میں پڑنے والا، خوب تو بہ کرنے والا، بہت بھولنے والا پیدا کیا گیا ہے جب اسے (توبہ کی) یا ددہانی کرائی جائے تو وہ اسے یاد کر لیتا ہے۔“ [المعجم الكبير: 11810، و سندہ حسن]
535. مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ إِلَّا بِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانِ يَقُولَانِ: اللَّهُمَّ عَجِّلْ لِمُنْفِقٍ خَلَفًا، وَعَجِّلْ لِمُمْسِكٍ تَلَفًا
جب بھی سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کے دو پہلوؤں میں دو فرشتے ہوتے ہیں جو کہتے ہیں: اے اللہ! خرچ کرنے والے کو جلد نعم البدل عطا فرما اور کنجوسی کرنے والے کے مال کو جلد تلف کر دے
حدیث نمبر: 810
810 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْمُعَدِّلُ، أبنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ وَهَيْبِ بْنِ عَطِيَّةَ الْعُطُوفِيُّ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى الْحَسَنِ بْنِ سُفْيَانَ وَأَنَا أَسْمَعُ، حَدَّثَكُمْ شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا سَلَّامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ إِلَّا بِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانِ يَقُولَانِ: اللَّهُمَّ عَجِّلْ لِمُنْفِقٍ خَلَفًا، وَعَجِّلْ لِمُمْسِكٍ تَلَفًا"
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بھی سورج طلوع ہوتا ہے تو اس کے دو پہلوؤں میں دو فرشتے ہوتے ہیں جو کہتے ہیں: اے اللہ! خرچ کرنے والے کو جلد نعم البدل عطا فرما اور کنجوسی کرنے والے کے مال کو جلد تلف کر دے۔“ [مسند الشهاب/حدیث: 810]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 686، 3329، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 3683، وأحمد فى «مسنده» برقم: 22135، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 1072»
وضاحت: تشریح: -
اس حدیث مبارک میں صدقہ و خیرات کی ترغیب دلائی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے کے لیے دعا اور کنجوسی کرنے والے کے لیے بددعا روزانہ فرشتوں کے منہ سے نکلتی ہے جو یقینا قبول بھی ہوتی ہوگی۔ خرچ کرنے والے سے مراد وہ شخص ہے جو فرائض اور مستحبات میں خرچ کرتا ہے، ایسے شخص کے لیے فرشتے دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ! اسے اس مال کا نعم البدل عطا فرما اور پھر اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ بھی ہے کہ: ﴿وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ﴾ (سباء: 39) ”اور تم جو کچھ بھی (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو گے تو وہ اس کی جگہ اور دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔“
حدیث قدسی ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ ٰ فرماتا ہے۔۔۔۔ ” ابن آدم! تو خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا۔“ اور فرمایا: ”اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے بہت برسنے والا ہے دن رات خرچ کرنے سے اس میں کوئی چیز کمی نہیں لاتی۔“ [مسلم: 993 بخاري: 4684]
ایک حدیث میں ہے کہ صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور معاف کرنے سے اللہ بندے کی عزت ہی میں اضافہ کرتا ہے اور جو شخص اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرے اللہ اسے بلند کر دیتا ہے۔“ [مسلم: 2588]
کنجوس سے مراد یہاں وہ شخص ہے جو فرائض میں مال خرچ کرنے کے سلسلے میں کنجوسی اور بخل سے کام لے۔ ایسے شخص کے لیے فرشتے بددعا کرتے ہیں کہ ”یا اللہ! اس کا مال جلد از جلد تباہ و برباد کر دے۔“
اس حدیث مبارک میں صدقہ و خیرات کی ترغیب دلائی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے کے لیے دعا اور کنجوسی کرنے والے کے لیے بددعا روزانہ فرشتوں کے منہ سے نکلتی ہے جو یقینا قبول بھی ہوتی ہوگی۔ خرچ کرنے والے سے مراد وہ شخص ہے جو فرائض اور مستحبات میں خرچ کرتا ہے، ایسے شخص کے لیے فرشتے دعا کرتے ہیں کہ یا اللہ! اسے اس مال کا نعم البدل عطا فرما اور پھر اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ بھی ہے کہ: ﴿وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ﴾ (سباء: 39) ”اور تم جو کچھ بھی (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو گے تو وہ اس کی جگہ اور دے گا اور وہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔“
حدیث قدسی ہے، اللہ تبارک و تعالیٰ ٰ فرماتا ہے۔۔۔۔ ” ابن آدم! تو خرچ کر میں تجھ پر خرچ کروں گا۔“ اور فرمایا: ”اللہ کا دایاں ہاتھ بھرا ہوا ہے بہت برسنے والا ہے دن رات خرچ کرنے سے اس میں کوئی چیز کمی نہیں لاتی۔“ [مسلم: 993 بخاري: 4684]
ایک حدیث میں ہے کہ صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا اور معاف کرنے سے اللہ بندے کی عزت ہی میں اضافہ کرتا ہے اور جو شخص اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرے اللہ اسے بلند کر دیتا ہے۔“ [مسلم: 2588]
کنجوس سے مراد یہاں وہ شخص ہے جو فرائض میں مال خرچ کرنے کے سلسلے میں کنجوسی اور بخل سے کام لے۔ ایسے شخص کے لیے فرشتے بددعا کرتے ہیں کہ ”یا اللہ! اس کا مال جلد از جلد تباہ و برباد کر دے۔“