Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند عمر بن عبد العزيز سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

1. بَابُ بَيَانِ مُعَامَلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْمُرْتَدِّينَ وَالنَّهْيِ عَنْ تَسْوِيدِ الشَّعْرِ
باب مرتدین کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے اور بالوں کو سیاہ کرنے سے ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6
نا أَبُو أمية عَمْرو بن هشام ، نا مَخْلَد بن يزيد . وَحَدَّثَنِي أَبُو يُوسُفَ الصَّيْدَلانِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الرَّقِّيُّ ، نا زَيْدُ بْنُ عَلِيٍّ ، جَمِيعًا , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عُقَيْلٍ ، قَال: قَدِمَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْمَدِينَةَ، وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَوْمَئِذٍ أَمِيرٌ عَلَيْهَا، فَأَرْسَلَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيز إِلَيْهِ أَسْأَلُهُ عَنْ حَدِيثٍ بَلَغَهُ، حَدَّثَ بِهِ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ فِي قَوْمٍ خَرَجُوا مِنَ الْمَدِينَةِ، فَأَغَارُوا عَلَى سَرْحٍ بِالْمَدِينَةِ، فَاسْتَجَاشَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ فِي طَلَبِهِمْ، فَأَخَذَ مِنْهُمْ سِتَّةَ نَفَرٍ، فَزَعَمَ أَنَّهُ صَلَبَ مِنْهُمُ اثْنَيْنِ، وَقَطَعَ اثْنَيْنِ، وَسَمَرَ اثْنَيْنِ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ:" أُولَئِكَ كَانُوا أَقَرُّوا بِالإِسْلامِ وَهَاجَرُوا فَنَزَلُوا الْمَدِينَةَ، ثُمَّ خَرَجُوا رَغْبَةً عَنِ الإِسْلامِ، وَلَحِقُوا بِالْعَدُوِّ، فَاسْتَحَلَّ هَذَاك مِنْهُمْ"، قَالَ: فَرَدَّنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَيْهِ، فَقَالَ: لَيْتَكَ أَنَّكَ لَمْ تُحَدِّثِ الْحَجَّاجَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، إِنَّمَا صَنَعَ هَذَا بِقَوْمٍ خَرَجُوا مِنَ الإِسْلامِ وَلَحِقُوا بِالشِّرْكِ، فَاسْتَحَلَّ هَذَا مِنْهُمْ، وَإِنَّ الْحَجَّاجَ اسْتَحَلَّ هَذَا مِنْ قَوْمٍ لَمْ يَخْرُجُوا مِنَ الإِسْلامِ، وَلَمْ يَلْحَقُوا بِالشِّرْكِ" . قَالَ: قَالَ: وَأَمَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنْ أَسْأَلَهُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ، فَقَالَ أَنَسٌ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مُتِّعَ بِسَوَادِ الشَّعْرِ، لَوْ عَدَدْتَ مَا أَقْبَلَ مِنْ رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ مَا جَاوَزَ عِشْرِينَ شَيْبَةً" أَوْ قَالَ:" لَمْ تَجِدْ مِنْ شَعْرِهِ عَشْرَ شَعَرَاتٍ بِيضٍ"، وَاللَّفْظُ لأَبِي يُوسُفَ.
عبد اللہ بن محمد بن عقیل سے مروی ہے، انہوں نے کہا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے اور ان دنوں عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ مدینہ کے گورنر تھے۔ تو عمر بن عبد العزیز نے مجھے ان کی طرف بھیجا تا کہ میں ان سے اس حدیث سے متعلق دریافت کروں جو انہیں حجاج بن یوسف نے ایسے لوگوں سے متعلق بیان کی جو مدینہ منورہ سے نکلے اور انہوں نے مدینہ کی چرا گاہ پر حملہ کیا تو نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ان کے تعاقب میں لشکر کو روانہ کیا وہ ان میں سے چھ افراد کو پکڑ لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے دو کو سولی دی، دو کے اعضا کاٹ دیئے اور دو کی آنکھوں میں گرم سلاخیں پھیری گئیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان لوگوں نے اسلام قبول کیا، ہجرت کی، مدینہ میں رہائش پذیر رہے پھر اسلام سے نفرت کرتے ہوئے مرتد ہو گئے اور دشمنوں کے ساتھ جا ملے تو ان کے ساتھ ایسا کرنا جائز ٹھہرا۔ عبد اللہ بن محمد بن عقیل کہتے ہیں، مجھے عمر بن عبد العزیز نے دوبارہ ان کے پاس بھیجا اور فرمایا: کاش آپ حجاج کو یہ حدیث نہ بیان کرتے کیونکہ یہ عمل آپ صلى الله عليه وسلم نے ان لوگوں کے ساتھ کیا جو مرتد ہو گئے اور مشرکین سے جا ملے جبکہ حجاج نے یہ سلوک ان لوگوں کے ساتھ کیا جو نہ مرتد ہوئے اور نہ ہی مشرکوں سے ملے۔ عبد اللہ بن محمد بن عقیل کہتے ہیں، مجھے عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے کہا کہ میں ان سے پوچھوں کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہندی لگاتے تھے؟ تو انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بالوں کو سیاہ کرنے سے منع فرمایا، اگر تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سر اور داڑھی سے سفید بال شمار کرتے تو بیسں سے تجاوز نہ کر سکتے۔ یا فرمایا: آپ نبی علیہ السلام کے بالوں میں سے دس بال بھی سفید نہ پائیں گے۔ اور یہ الفاظ ابو یوسف صید لانی نے بیان کیے ہیں۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن أنس بن مالك/حدیث: 6]
تخریج الحدیث: «صحيح: قصه عكل اور عرنيه كتب صحاح ميں هے. ديكهئے، صحيح بخاري، الطب، باب الدواء بالبان الابل: 5685، صحيح مسلم: القسامة والمحاربين، باب حكم المحاربين والمرتدين: 1671، خضاب سے متعلق حديث كے دوسرے حصے كو امام حاكم نے مستدرك: 607/2 ميں روايت كيا اور ”صحيح الاسناد“ كها، امام ذهبي رحمه الله نے بهي ان كي موافقت كي هے.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ بَيَانِ أَنَّ صَلَاةَ الْمُصَلِّي لَا تَبْطُلُ بِمُرُورِ الْحِمَارِ
باب گدھے کے گزرنے پر نماز کے نہ ٹوٹنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِشَامِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ ، عَنْ صَخْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، يَقُولُ: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالنَّاسِ، فَمَرَّ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حِمَارٌ، فَقَالَ عَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنِ الْمُسَبِّحُ آنِفًا سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ؟"، قَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُ أَنَّ الْحِمَارَ يَقْطَعُ الصَّلاةَ، قَالَ: " لا يَقْطَعُ الصَّلاةَ شَيْءٌ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو ان کے آگے سے گدھا گزرا۔ عیاش بن ابی ربیعہ نے (نماز میں ہی) «سبحان الله وبحمده» اللہ پاک ہے اپنی تعریفوں اور خوبیوں کے ساتھ کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سلام پھیرا تو پوچھا: ابھی (نماز میں) «سبحان الله و بحمده» کیس نے کہا؟ عیاش بن ربیعہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے۔ کیونکہ میں نے سنا ہے گدھا گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے، آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: نماز کسی چیز کے سامنے سے نکل جانے سے نہیں ٹوٹتی۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن أنس بن مالك/حدیث: 7]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن: سنن دار قطني، الصلاة، باب صفة السهو فى الصلاة واحكامه: 367، حافظ ابن حجر رحمه الله نے اس كي سند كو حسن كها هے. الدراية: 1/ 178 اور شيخ بديج الدين راشدي رحمه الله فرماتے هيں: ”حديث أنس حسن“ انس رضى الله عنه سے مروي يه روايت حسن هے.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1. بَابُ ذِكْرِ الرِّوَايَةِ بِإِسْنَادٍ مِثْلِ السَّابِقِ
باب سابقہ سند کے مانند روایت کے بیان کا ذکر
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8
حافظ ابو الحسین ابن المظفر کہتے ہیں: ہمیں حدیث بیان کی محمد بن موسٰی الحضرمی نے، انہوں نے کہا، ہمیں حدیث بیان کی ابراہیم بن منقذ نے، انہوں نے کہا: ہمیں حدیث بیان کی اور لیس بن یحیٰی نے، آگے گزشتہ سند کی مانند سند اور حدیث بیان کی۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن أنس بن مالك/حدیث: 8]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن: سنن دار قطني، كتاب الصلاة: 367/1» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ بَيَانِ أَنَّ الصَّلَاةَ لَا تَبْطُلُ بِمُرُورِ الْحِمَارِ
باب گدھے کے گزرنے سے نماز کے نہ ٹوٹنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْرَقُ ، نا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ الْمِصْرِيِّ ، عَنْ صَخْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُدْلِجِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يُحَدِّثُ , عَنْ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ الْمَخْزُومِيِّ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي يَوْمًا بِأَصْحَابِهِ إِذْ مَرَّ بَيْنَ أَيْدِينَا حِمَارٌ، فَقَالَ عَيَّاشٌ: سُبْحَانَ اللَّهِ، قَالَ: فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَيُّكُمْ سَبَّحَ؟"، قَالَ عَيَّاشٌ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِعْتُ أَنَّ الْحِمَارَ يَقْطَعُ الصَّلاةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لا يَقْطَعُ الصَّلاةَ شَيْءٌ" .
عیاش بن ابی ربیعہ مخزومی سے روایت ہے انہوں نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی کہ ہمارے آگے سے (دوران نماز) گدھا گزرا تو عیاش نے «سبحان الله» کہا جب رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے سلام پھیر چکے تو آپ نے پوچھا: تم میں سے «سبحان الله» کس نے کیا؟ عیاش نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے اور میں نے سنا ہے گدھے کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ اور اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی بھی چیز کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن أنس بن مالك/حدیث: 9]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏ديكهئے حديث نمبر 7، اس سند ميں دور علتيں هيں: 1. وليد بن مسلم الاموي الدمشقي مدلس هے. 2. عمر بن عبد العزيز رحمه الله كي عياش بن ابو ربيعه سے روايت مرسل هے.» ‏‏‏‏

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں