مسند عمر بن عبد العزيز سے متعلقہ
4. بَابُ ذِكْرِ اخْتِلَافِ سَيِّدِنَا عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعُثْمَانَ بْنِ حَنِيفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَحِلْمِ عُمَرَ
باب سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کے باہمی اختلاف اور حلمِ عمر کا ذکر
حدیث نمبر: 50
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْقُرَشِيُّ الْحِمْصِيُّ ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ حَدِيثِ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ ، أَنَّهُ انْتَجَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَعُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ فِي الْمَسْجِدِ، وَالنَّاسُ مُخْتَلِطُونَ بِهِمَا لا يَسْمَعُ نَجْوَاهُمَا أَحَدٌ، فَلَمْ يَزَالا يَتَجَادَلانِ فِي الرَّأْيِ حَتَّى أَغْضَبَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ عُمَرَ فِي بَعْضِ مَا يُكَلِّمُهُ فِيهِ، فَقَبَضَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ حَصْبَاءِ الْمَسْجِدِ قَبْضَةً، فَحَصَبَ بِهَا وَجْهَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَشَجَّهُ بِالْحَصَى بِجَبْهَتِهِ آثَارًا مِنْ شِجَاجٍ، فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ مَا يَنْسَابُ عَلَيْهِ مِنَ الدَّمِ عَلَى لِحْيَتِهِ، قَالَ: " امْسَحْ عَنْكَ الدَّمَ"، فَعَرَفَ عُثْمَانُ أَنَّ عُمَرَ قَدْ نَدِمَ عَلَى مَا فَرَطَ مِنْهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لا يَهُولَنَّكَ الَّذِي أَصَبْتَ مِنِّي، فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَنْتَهِكُ مِمَّنْ وَلَّيْتَنِي أَمْرَهُ مِنْ رَعِيَّتِكَ الَّتِي اسْتَرْعَاكَ اللَّهُ أَكْثَرَ مِمَّا فَعَلْتَ بِي مِنْهُمْ، فَأُعْجِبَ بِهَا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ رَأْيِهِ وَحِلْمِهِ، وَازْدَادَ فِي عَيْنِهِ خَيْرًا .
نوفل بن مساحق نے بیان کیا، امیر عمر بن خطاب اور حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہما مسجد میں سرگوشی سے بات کر رہے تھے، وہاں کچھ اور لوگ بھی بیٹھے تھے جو ان کی سرگوشی نہیں سن رہے تھے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کی رائے سے مسلسل اختلاف کر رہے تھے حتٰی کہ عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو کسی بات پر غصہ دلا دیا، امیر عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد کی کنکریوں سے ایک مٹھی بھری اور انہیں عثمان رضی اللہ عنہ کے چہرے پر دے مارا۔ ان کی پیشانی سے خون پھوٹ پڑا، جب عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے بہتے خون کو ان کی داڑھی پر دیکھا تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا اپنی داڑھی صاف کر لیں، عثمان رضی اللہ عنہ سمجھ گئے کہ عمر رضی اللہ عنہ اپنے کیے پر شرمندہ ہیں، عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا، اے امیر المومنین! آپ نے جو کچھ میرے ساتھ کیا اس پر مت گھبرائیں، اللہ کی قسم! میں ان کے ساتھ آپ کی رعایا میں سے جن پر آپ مجھے والی مقرر کریں گے اس سے بھی سخت برتاؤ کروں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی رائے، ان کی بات، ان کی قوت برداشت پسند آئی اور ان کی عزت ان کی نظروں میں اور بڑھ گئی۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن نوفل بن مساحق/حدیث: 50]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح: مصنف عبدالرزاق: 11/ 332، 20691»
5. بَابُ بَيَانِ السِّرِّ بَيْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعُثْمَانَ بْنِ حَنِيفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَحِلْمِ عُمَرَ
باب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کے مابین سرگوشی اور حلمِ عمر رضی اللہ عنہ کا بیان
حدیث نمبر: 51
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُوَيْدٍ ، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مُسَاحِقٍ ، أَنَّهُ انْتَجَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَعُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي الْمَسْجِدِ، وَالنَّاسُ مُخْتَلِطُونَ لا يَسْمَعُ نَجْوَاهُمَا أَحَدٌ، فَلَمْ يَزَالا يَتَنَاجَيَانِ فِي الرَّأْيِ حَتَّى أَغْضَبَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ عُمَرَ فِي بَعْضِ مَا يُكَلِّمُهُ بِهِ، فَقَبَضَ حَصًى مِنْ حَصَيَاتِ الْمَسْجِدِ، فَحَصَبَ بِهَا وَجْهَ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ، فَشَجَّهُ بِالْحَصَى بِجَبْهَتِهِ آثَارًا مِنْ شِجَاجٍ، فَلَمَّا رَأَى عُمَرُ كَثْرَةَ تَسَرُّبِ الدَّمِ عَلَى لِحْيَتِهِ قَالَ: " أَمْسِكْ عَنْكَ الدَّمَ"، فَعَرَفَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ أَنَّ عُمَرَ قَدْ نَدِمَ عَلَى مَا فَرَطَ مِنْهُ، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لا يَهُولَنَّكَ الَّذِي أَصَبْتَ مِنِّي، فَوَاللَّهِ إِنِّي لأَنْتَهِكُ مِمَّنْ وَلَّيْتَنِي أَمْرَهُ مِنْ رَعِيَّتِكَ الَّتِي اسْتَرْعَاكَ اللَّهُ أَكْثَرَ مِمَّا انْتَهَكْتَ مِنِّي، قَالَ: فَعَجِبَ بِهَا عُمَرُ مِنْ رَأْيِهِ وَحِلْمِهِ، وَازْدَادَ فِي عَيْنِهِ خَيْرًا .
نوفل بن مساحق نے بیان کیا عمر بن خطاب اور عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہما مسجد میں سر گوشیاں کر رہے تھے، اور لوگ ان کے گرد بیٹھے ہوئے تھے وہ ان دونوں کی سرگوشی نہیں سن سکتے تھے۔ وہ دونوں (اللہ کے) گھر میں مسلسل سرگوشیاں کرتے رہے حتٰی کہ کسی بات پر عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو غصہ دلا دیا، انہوں نے مسجد کی کنکریوں میں سے ایک کنکری لے کر عثمان رضی اللہ عنہ کے چہرے پر دے ماری اور انہیں زخمی کر دیا، ان کی پیشانی سے خون بہہ پڑا، جب عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی داڑھی پر بکثرت خون بہتا دیکھا تو کہا، خون کو صاف کیجیے، عثمان رضی اللہ عنہ سمجھ گئے عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے کیے پر ندامت ہوئی ہے۔ تو انہوں نے کہا: اے امیر المومنین! میں ان کے ساتھ آپ کی رعایا میں سے جن پر آپ مجھے مقرر کریں گے اس سے بھی سخت برتاؤ کروں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ کو ان کی رائے اور ان کی قوت برداشت پسند آئی اور ان کی نظر میں ان کی قدر اور بڑھ گئی۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن نوفل بن مساحق/حدیث: 51]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح: تاريخ الكبير للبخاري: 8/ 109، 2374، شيخ بديعي الدين رحمه الله اس اور گزشته حديث سے متعلق فرماتے هيں: حَدِيث صَحِيحٌ وَرَوَاهُ السَّنَدَيْنِ كُلُّهُمْ مُوْتَقُونَ يه حديث صحيح هے اور ان دونوں احاديث كي سندوں كے راوي ثقه هيں . مزيد فرمايا: وَهَذَان السندان بتقوى اَحَدُهُمَا بِالآخر يه دو سندين ايك دوسري كي تقويت كا باعث هيں.»