مسند عمر بن عبد العزيز سے متعلقہ
1. بَابُ إِرْشَادَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَا يَتَعَلَّقُ بِالطَّاعُونِ وَالنَّهْيِ عَنْ الدُّخُولِ أَوِ الْخُرُوجِ فِي مَكَانِ الْوَبَاءِ
باب طاعون کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور وبا کی جگہ میں جانے یا نکلنے کی ممانعت
حدیث نمبر: 72
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الأَبْطَحِيُّ ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ، وَذُكِرَ الطَّاعُونُ عِنْدَهُ، فَقَالَ:" رِجْزٌ أُوقِعَ، أَوْ عُذِّبَ بِهِ أُمَّةٌ مِنَ الأُمَمِ، وَبَقِيَ مِنْهُ بَقَايَا، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِأَرْضٍ فَلا تَدْخُلُوا عَلَيْهَا، وَإِذَا وَقَعَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلا تَفِرُّوا مِنْهُ" ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَقَالَ: هَكَذَا حَدَّثَنِيهِ عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، انہوں نے کہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے طاعون کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”طاعون ایک عذاب ہے جو نازل کیا گیا یا اس سے تم سے پہلی امتوں میں سے ایک امت کو عذاب دیا گیا اور اس کی کچھ باقیات ہیں، جب تم سنو کسی جگہ طاعون کی وبا پھیلی ہے تو وہاں مت جاؤ، اور جب اس جگہ (ملک) پہ وبا پچھلے جہاں تم رہتے ہو تو وہاں سے بھاگ کر مت جاؤ۔ محمد بن منکدر نے کہا میں نے یہ حدیث عمر بن عبد العزیز کو بیان کی تو انہوں نے کہا مجھے یہ حدیث اسی طرح عامر بن سعد رحمہ اللہ نے بیان کی۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن عامر بن سعد/حدیث: 72]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري، أحاديث الانبياء، باب 3473، صحيح مسلم، السلام، باب الطاعون والطيرة والكمانة ونحوها 2218»
1. بَابُ بَيَانِ جَعْلِ الطَّاعُونِ عَذَابًا وَالنَّهْيِ عَنْ السَّفَرِ فِيهِ
باب طاعون کو عذاب قرار دینے اور اس کے وقت سفر سے منع کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 73
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، ثنا أَبِي ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ رباحِ بْنِ عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ عِنْدَ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الطَّاعُونَ رِجْزٌ أُنْزِلَ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، أَوْ عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَإِذَا وُجِدَ بِأَرْضٍ فَلا تَدْخُلُوهَا، وَإِذَا وُجِدَ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلا تَخْرُجُوا مِنْهَا" .
اسامه بن زيد رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”طاعون ایک عذاب ہے جو تم سے پہلے لوگوں یا بنی اسرائیل پر نازل ہوا، جب کسی ملک میں طاعون پھیل جائے تم وہاں مت جاؤ اور جب کسی ملک میں پھیلے اور تم وہاں رہتے ہو تو وہاں سے مت نکلو۔“ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن عامر بن سعد/حدیث: 73]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري، أحاديث الانبياء، باب 3473، صحيح مسلم، السلام، باب الطاعون والطيرة والكمانة ونحوها 2218»
2. بَابُ تَأْكِيدِ الْحَدِيثِ السَّابِقِ فِي الطَّاعُونِ وَذِكْرِ سَنَدِهِ
باب طاعون سے متعلق گزشتہ حدیث کی تائید اور اس کی سند کا بیان
حدیث نمبر: 74
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، ثنا أَبِي ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ، فَحَدَّثَ بِمِثْلِ ذَلِكَ.
مجھے حدیث بیان کی ابراہیم بن عبد اللہ نے، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی محمد بن حفص نے، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی میرے باپ نے شیبانی سے، انہوں نے کہا مجھے حدیث بیان کی حبیب بن ابی ثابت نے ابراہیم بن سعد سے انہوں نے یہ بیان کیا اور پھر گزشتہ حدیث کی مانند حدیث بیان کی۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن عامر بن سعد/حدیث: 74]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري، كتاب أحاديث الانبياء، رقم: 3473»
1. بَابُ الرِّوَايَاتِ التَّوَاتُرِيَّةِ فِي مَا يَتَعَلَّقُ بِالطَّاعُونِ وَذِكْرِ رِوَايَةِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللَّهُ
باب طاعون سے متعلق احادیث کی تواتری روایت اور عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کی روایت کا ذکر
حدیث نمبر: 75
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، ثنا أَبِي ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ مِثْلَ ذَلِكَ كُلُّهُمْ يَذْكُرُونَ عَنْ أُسَامَةَ .
مجھے حدیث بیان کی ابراہیم نے، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی عمر بن حفص نے، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی میرے باپ نے، انہوں نے شیبانی سے، انہوں نے ابوبکر سے، انہوں نے کہا مجھے حدیث بیان کی عمر بن عبد العزیز نے عامر بن سعد سے گزشتہ حدیث کی مانند، تمام راوی اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے حدیث ذکر کرتے ہیں۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن عامر بن سعد/حدیث: 75]
تخریج الحدیث: «صحيح بخاري، كتاب أحاديث الانبياء، رقم: 3473»
2. بَابُ فَضْلِ تَمْرِ الْعَجْوَةِ وَحِمَايَتِهِ مِنَ السُّمِّ وَقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ
باب عجوہ کھجور کے فضائل اور زہر سے حفاظت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان
حدیث نمبر: 76
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى أَبُو مُوسَى ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ ، حَدَّثَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ، أَنَّ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَكَلَ سَبْعَ تَمَرَاتٍ عَجْوَةً مَا بَيْنَ لابَتَيِ الْمَدِينَةِ، وَيَبْدَأُ بِهِنَّ، لَمْ يَضُرَّهُ يَوْمَهُ ذَلِكَ سُمٌّ حَتَّى اللَّيْلِ" ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ: انْظُرْ مَا تُحَدِّثُ بِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَامِرُ، فَقَالَ عَامِرٌ: أَشْهَدُ مَا كَذَبْتُ عَلَى سَعْدٍ، وَلا كَذَبَ سَعْدٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: وَأَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكْذِبْ.
عبداللہ بن عبد الرحمٰن سے مروی ہے، عامر بن سعد نے عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو جبکہ وہ مدینہ کے گورنر تھے حدیث بیان کی سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے سات عجوہ کھجوریں مدینہ کے دونوں کالی پتھریلی زمینوں کے درمیانی قطعہ کی کھائیں۔ اور انہیں سے دن کا آغاز کرے، اس دن اسے رات تک کوئی زہر نقصان نہیں دے گا۔“ عامر بن سعد کو عمر بن عبد العزیز نے کہا، اے سعد! دیکھیں آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کیا بات منسوب کر کے بیان کر رہے ہیں؟ سعد نے (جواباً) کہا، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کی طرف جھوٹ منسوب نہیں کیا اور نہ سعد رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کیا۔ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے کہا، اور میں گواہی دیتا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط بیانی نہیں فرمائی۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن عامر بن سعد/حدیث: 76]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن: مسند احمد: 168/1، حلية الاولياء: 362/5] اس كي اصل صحيحين ميں هے. [صحيح بخاري، رقم: 5445، 5769، 5779، و صحيح مسلم، رقم: 2047»