Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند عمر بن عبد العزيز سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

1. بَابُ بَيَانِ فَضَائِلِ إِطْلَاقِ الْغُلَامِ وَإِطْلَاقِ السِّهَامِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْ يَكُونَ النُّورُ لِلشَّيْبِ
باب غلام آزاد کرنے، اللہ کی راہ میں تیر چلانے اور سفید بالوں کے نور بننے کے فضائل کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 80
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقِ بْنِ الْبُهْلُولِ الْبَاهِلِيُّ ، وَمُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ مَعْمَرٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنِي الأَسْوَدُ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنِي مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ رَجُلٍ أَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ: كَيْفَ الْحَدِيثُ الَّذِي حَدَّثْتَنِي عَنِ الصُّنَابِحِيِّ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي الصُّنَابِحِيُّ ، أَنَّهُ أَتَى عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ ، قَالَ: هَلْ مِنْ حَدِيثٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا زِيَادَةَ فِيهِ وَلا نُقْصَانَ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَعْتَقَ اللَّهُ تَعَالَى بِكُلِّ عُضْو مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ، وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَلَغَ أَوْ قَصَّرَ كَانَ عَدْلَ رَقَبَةٍ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
سليمان بن عبد الملک نے ایک آدمی سے روایت کیا کہ امیر المومنین عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے اس کی طرف پیغام بھیجا اور کہا: وہ حدیث جو آپ نے مجھے صناسجی سے بیان کی کیسے ہے؟ اس نے کہا مجھے انہوں نے خبر دی کہ وہ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا، کیا کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر کمی، بیشی کے مروی روایت ہے؟ تو انہوں نے کہا ہاں میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو بیان فرماتے سنا: جس نے کسی غلام کو آزاد کیا، اللہ تعالی اس غلام کے ہر عضو (جوڑ) کے بدلے اس کے تمام اعضا کو جہنم سے آزاد کریں گے، اور جس نے اللہ کی راہ میں تیر پھینکا، دشمن تک پہنچایا نہ پہنچا، وہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے اور جس نے اپنے بالوں کو اللہ کی راہ میں سفید کر دیا تو یہ اس کے لیے قیامت کے دن نور (روشنی) ہوں گے۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن رجل/حدیث: 80]
تخریج الحدیث: «صحيح: سنن ابي داود، العتق باب اى الرقاب افضل 3966، سنن نسائي، الجهاد، باب ثواب من رمى بسهم فى سبيل الله: 3144، سنن ترمذي، فضائل الجهاد، باب ماجاء فى فضل من شاب شبيبة فى سبيل الله: 1635، وقال: حسن صحيح»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
1. بَابُ بَيَانِ قِرَاءَةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْآخِرَتَيْنِ مَعَ سُورَةِ الْفَاتِحَةِ وَتَمَامِ آيَةِ «رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا»
باب ابو بکر رضی اللہ عنہ کی قراءت کا بیان کہ آخری دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ «ربنا لا تزغ قلوبنا» آیت مکمل پڑھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 81
قَالَ: كَيْفَ الْحَدِيثُ الآخَرُ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي قَالَ: كَيْفَ الْحَدِيثُ الآخَرُ؟ قَالَ: أَخْبَرَنِي الصُّنَابِحِيُّ، أَنَّهُ صَلَّى وَرَاءَ أَبِي بَكْرٍ الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ، " فَقَرَأَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَ: رَبَّنَا لا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا سورة آل عمران آية 8 إِلَى قَوْلِهِ: إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ سورة آل عمران آية 8" .
عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے پوچھا دوسری حدیث کس طرح ہے۔ اس نے کہا مجھے صناسجی نے خبر دی کہ اس نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے ظہر یا عصر کی نماز پڑھی تو انہوں نے پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور کوئی سورۃ پڑھی جبکہ آخری دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور «ربنا لا تزغ قلوبنا» آیت مکمل پڑھی۔ [مسند عمر بن عبد العزيز/عمر بن عبد العزيز عن رجل/حدیث: 81]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح: موطا امام مالك، الصلوة، رقم: 171»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں